افسانہ
وصال
از:۔ ایم مبین
دن
بھر ایک کربناک
ماحول گھر پر
چھایا رہا ۔ اس
کرب کو یا تو وہ
محسوس کررہےتھےیا
پھر یاسمین ۔
ممکن ہےجو پڑوسی
ان کےکافی قریب
رہےہوں وہ بھی
اس کرب کو محسوس
کررہےہوں لیکن
وہ اس بات کا
اظہار نہیں
کرپارہےتھے۔
اپنےکرب
کا اظہار نہ تو
وہ کرپارہےتھےاور
نہ یاسمین ۔
اپنےاس کرب کا
اظہار اگر وہ
کرتےبھی تو کس
پر کرتے؟ اس کرب
کا اظہار وہ صرف
یاسمین پر کر
سکتےتھےلیکن
کیونکہ یاسمین
خود اس کرب کا
شکار تھی اس
لئےوہ اس خوف
سےاس پر اظہار
نہیں کرپارہےتھےکہ
کہیں ان کی بات
سن کر یاسمین
پھٹ نہ پڑےاور
انہیں اسےسنبھالنا
مشکل نہ ہوجائے۔
یاسمین
خود اس کرب کا
شکار تھی یاسمین
کا درد کچھ ان
سےزیادہ تھا
یاسمین کو خود
کو سنبھالنا
مشکل ہورہا تھا
۔ وہ بھی ان کےدکھوں
کو سمجھ رہی تھی
اس لئےان پر
اپنےدکھ کا
اظہار نہیں
کرپارہی تھی
۔ ان کی طرح اسےبھی
ڈر تھا کہ اگر
اس نےاپنےدرد
کا اظہار ان پر
کردیا تو ان کی
برداشت کی قوت
جواب دےدےگی
اور وہ بےقابو
ہوجائیں گے۔
اور اس کےبعد
ان کو قابو میں
لانا مشکل ہوجائےگا
۔ دونوں چور
نظروں سےبار
بار عادل کےچہرےکو
دیکھتےتھے۔
کاش ایک لمحہ
کےلےاس کےچہرےپر
کرب ابھر آئےجس
میں وہ دونوں
گرفتار تھے۔
اگر
ایک لمحےکےلئےبھی
عادل کےچہرےپر
اس کرب کا تاثر
ابھرتا تو وہ
سمجھتےان کی
زندگی بھر کی
محبت ، شفقت اور
ممتا رنگ لائی
ہے۔ عادل نےاپنےنام
کی طرح ان کےساتھ
انصاف کرتےہوئےان
کی محبت شفقت
،ممتا اور اپنائیت
کا اقرار کرلیا
ہے۔ لیکن دن بھر
میں ایک بار بھی
ایک لمحہ کےلئےبھی
عادل کےچہرےپر
ایسا کوئی تاثر
نہیں ابھرا تھا
۔ اس بات کا احساس
ان کےکرب کو اور
زیادہ بڑھا رہا
تھا ۔ عادل کےاس
رویّہ کےبعد
یہ کہہ کر دل کو
بہلانا پڑرہا
تھا ۔
”
جب
اپنا ہی خون
سفید ہوگیا ہے۔
اس کےدل میں
اتنےجتن سےاس
کی پرورش کرنےوالےبوڑھےماں
باپ کےلئےکوئی
ہمدردی کا جذبہ
نہیں ہےتو پھر
لبنیٰ سےکیا
شکایت کریں ۔
وہ تو پرائی
ہےاس نےوہی
راستہ چنا جو
ہر کوئی اپنےسکھ
کےلئےچنتا ہے۔
دکھ تو اس بات
کا ہےکہ لبنیٰ
کےمنتخب راستےپر
چلنےکےلئےعادل
تیار ہوگیا تھا
۔ لبنیٰ اپنےساتھ
آئےآدمیوں کو
ایک ایک چیز بتا
کر اسےلےجا کر
نیچےکھڑےٹرک
میں رکھنےکا
حکم دےرہی تھی
۔ وہ جس چیز کی
طرف اشارہ کرتی
نوکر اس چیز کو
اس کی دی ہوئی
ہدایتوں کےمطابق
اٹھا کر نیچےرکھ
آتے۔ جب کوئی
چیز ان کےگھر
سےنکل کر نیچےکھڑےٹرک
میں پہونچائی
جاتی تو ان کےدل
کو ایک ٹھیس
لگتی ۔
چاہےپھر
وہ لبنیٰ کی چیز
ہو ۔ یا پھر ان
کی اپنی ۔ لبنیٰ
اگر ان کی کسی
بھی چیز کی طرف
اشارہ کرکےنوکروں
کو نیچےٹرک میں
رکھ آنےکےلئےکہتی
بھی تو بھی وہ
اس کےخلاف احتجاج
نہیں کرسکتےتھے۔
عادل کےصرف ایک
جملےنےان کےاحتجاج
کا حق بھی چھین
لیا تھا ۔
”
امی
، ابا !
اگر
ہم آپ کی کوئی
چیز بھی لےجا
رہےہیں تو خدا
کےلئےاس پر
اعتراض کرکےکوئی
تضاد نہ بڑھائیے۔
ہماری نئی نئی
گرہستی ہےہمارےپاس
گرہستی کےلئےضروری
چیزیں نہیں ہیں
اس لئےجن چیزوں
کی ضرورت پڑ
سکتی ہےایسی
تمام چیزیں لےجا
رہےہیں جب وہ
چیزیں ہمارےپاس
آجائیں گی یا
ہم خرید لیں
گےتو ہم وہ چیزیں
آپ کو لوٹا دیں
گے۔ “
”
بیٹے!
تم
اپنی اور ہماری
چیزوں کی بات
کررہےہو ۔ یہ
گھر ‘ اس گھر کی
ہر چیز تمہاری
ہے۔ ہمارا کیا
ہے؟ ہماری زندگی
ہی کتنےدنوں
کی ہے؟ ہمارےمرنےکےبعد
تو یہ سب تمہارا
ہی ہونےوالا
ہے۔ اگر زندگی
میں تمہارا ہو
گیا تو کون سی
بری بات ہے۔
ہمارےپاس دو
وقت کی روٹی
بنانےکےلئےدو
برتن بھی رہ
گئےتو ہمارےلئےوہی
کافی ہے۔ “ انہوں
نےکہا تو سہی
لیکن ان کی آنکھوں
میں آنسو آگئےلیکن
ان کےان آنسوو
¿ں
کا نہ تو عادل
پر کوئی اثر ہوا
اور نہ ہی لبنیٰ
پر ۔ گھر کی ایک
ایک چیز جاتی
رہی ۔ ہر چیز
جانےکےبعد وہ
یاسمین کےچہرےکا
جائزہ لیتے۔
انہیں یاسمین
کےچہرےپر دکھ
کےبادل چھائےنظر
آتےتو کبھی
انہیں یاسمین
کی آنکھوں میں
ایک احتجاج
دکھائی دیتا
۔
دیکھو
وہ میری امی کا
دیا گلدان لئےجارہی
ہےاور وہ تسبیح
میرےابا میرےلئےحج
سےلائےتھے‘
وہ پاندان میری
بہن میرےلئےمراد
آباد سےلائی
تھی ‘ وہ تو پان
نہیں کھاتی
ماڈرن زمانےکی
لڑکی جو ہے۔
اسےپاندان کی
کیا ضرورت ؟ پھر
وہ پاندان کیوں
لئےجارہی ہے؟
اسےپارٹیوں
، شاپنگ اور
سہیلیوں کےگھر
جانےسےہی فرصت
نہیں ملتی کہ
کبھی ایک وقت
کی نماز پرھ لے۔
پھر وہ تسبیح
کیوں لےجارہی
ہے؟ اس کےپاس
ایک سےبڑھ کر
ایک قیمتی آرائش
کی چیزیں ہیں
پھر وہ میرا
گلدان کیوں
لئےجارہی ہے؟
لیکن ان کی آنکھوں
میں دیکھتےہی
یاسمین کو جیسےحکم
مل جاتا تھا کہ
وہ احتجاج نہ
کرے۔ اور یاسمین
چاہ کر بھی احتجاج
نہیں کرپارہی
تھی ۔ رات میں
عادل نےاپنا
فیصلہ انہیں
اور یاسمین کو
سنایا تھا ۔
”
ابا
!
آپ
کو معلوم تو ہو
ہی گیا ہوگا میں
نےاپنےلئےالگ
گھر لےلیا ہے۔
لبنیٰ اور امی
کی رات دن کی
ناچاقی کسی دن
کوئی بڑا حادثہ
نہ بن جائےاس
خوف سےمجھےیہ
قدم اٹھانا پڑا
۔ گذشتہ دنوں
کےواقعات میں
ہمارےتعلقات
تو کچھ کشیدہ
ہوہی گئےہیں
۔ میں نہیں چاہتا
کہ یہ کشیدگی
اور بڑھے۔ اور
ہمارےدرمیان
تلخیاں بڑھتی
جائیں ۔ اس لئےمیں
نےیہ قدم اٹھایا
ہے۔ اور یہ درست
ہےمجھےبھی گھر
کی ذمہ داری
سمجھنےدیجئےلبنیٰ
پر بھی گرہستی
کا بوجھ آنےدیجئے۔
ہم ایک دوسرےسےدور
رہیں گےتو ہمارےدرمیان
محبت قائم رہےگی
۔ جب بھی ایک
دوسرےکا دل
چاہےگا ہم ایک
دوسرےسےملنےآجایا
کریں گے۔ آپ کو
میرےگھر آنےسےکوئی
نہیں روکےگا
امید ہےہمارےیہاں
سےجانےکےبعد
بھی آپ ہمیں
یہاں آنےسےنہیں
روکیں گے۔ “
”
تُو
ہم کو چھوڑ کر
جارہا ہے‘ ہم
کو ؟ اپنےماں
باپ کو ؟ ان ماں
اپ کو جنھوں
نےتجھےپیدا
کیا ۔ پالا ،
پوسا ، پڑھایا
، لکھایا اور
اس قابل بنایا
کہ دنیا میں آج
تیرا ایک مقام
ہے۔ ہر کوئی
تیرا نام ادب
سےلیتا ہےتُو
آج اپنی بیوی
کےلئےان ماں
باپ کو چھوڑ کر
جانےکی بات
کررہا ہے؟ “
”
امی
!
میری
بات کو سمجھنےکی
کوشش کیوں نہیں
کرتیں ۔ میں آپ
کو اپنی جان
سےزیادہ چاہتا
ہوں اور میں
نہیں چاہتا ہوں
کہ میری یا لبنیٰ
کی وجہ سےآپ کو
کچھ ہوجائے۔
اس لئےامی !
آپ
میرےجذبات
کوسمجھنےکی
کوشش کیجئے۔
میں نےجو قدم
اٹھایا ہےکوئی
غلط قدم نہیں
ہے۔ “
”
ماں
باپ ، اپنےگھر
کو چھوڑ کر جارہا
ہےاور کہہ رہا
ہےکوئی غلط قدم
نہیں ہی؟ یہ سب
کس کےلئےکررہا
ہے‘ اپنی بیوی
کےلئےناں ؟ اپنی
بیوی کےکہنےپر
تُو آج ٥٢ سالوں
کا رشتہ توڑنےکےلئےتیار
ہوگیا ؟ اس بیوی
کےلئےجس نےابھی
تیرےساتھ ٹھیک
سےچھ مہینےبھی
نہیں گذارےہیں
اگر تجھےماں
باپ سےاتنی ہی
محبت ہےجتنی
محبت تو اس وقت
ہم سےجتا رہا
ہےتو اس محبت
کا ثبوت بھی دے۔
“
یاسمین
کی بات سن کر
عادل کےچہرےپر
زلزلےکےتاثرات
ابھرے۔
”
یاسمین
!
تم
چپ رہو ۔ “ انہوں
نےیاسمین کو
چپ کرایا ۔
”
ٹھیک
ہےبیٹے!
اگر
تمہیں اسی میں
اپنی بھلائی
محسوس ہوتی ہےتو
ہم تمہاری خوشیوں
کےدرمیان نہیں
آئیں گے۔ “ ان
کی بات سن کر
عادل تو اپنےکمرےمیں
چلا گیا لیکن
آدھی رات تک ان
کےاور یاسمین
کےدرمیان حجت
و تکرار چلتی
رہی ۔
”
آپ
نےاسےاتنی آسانی
سےگھر چھوڑ کر
چلےجانےکی اجازت
دےدی ‘ آپ نےاس
کا انجام سوچا
ہے‘ لوگ کیا
کہیں گے؟ یہ سب
اُس کی لگائی
آگ ہےہماری
موجودگی میں
اُس کی آزادی
سلب ہوجاتی ہے۔
اسےآزادی نہیں
ملتی ہے۔ وہ جو
چاہتی ہےہماری
وجہ سےکر نہیں
پاتی ۔ جب ہم ہی
نہ ہوں گےتو
اسےہر طرح کی
آزادی مل جائےگی
۔ وہ عادل کو
برباد کرکےرکھ
دےگی ۔ ایسی
ایسی حرکتیں
کرےگی جن کو سن
کر ہمارا سر شرم
سےجھک جائےگا
۔ اپنےکرتوتوں
سےوہ ہمارےخاندان
کےنام پر دھبہ
لگا دےگی ‘ وہ
عادل کو برباد
کردےگی ۔ “
”
جب
وہ ہمارےگھر
میں نہیں رہےگی
تو پھر اس کی
حرکتوں سےہمیں
کیا لینا دینا
؟ اور عادل کوئی
دودھ پیتا بچہ
نہیں ہے۔ اسےاچھےبرےکی
تمیز ہے۔ غلط
باتوں پر وہ
اسےروکےگا ۔
“
”
ارےوہ
کیا اسےروکےگا
‘ اگر اسےاتنی
ہی تمیز ہوتی
تو وہ اس کےکہنےپر
گھر چھوڑنےکی
بات نہیں کرتا
۔ “
”
اگر
وہ آج کوئی غلطی
کررہا ہےتو جب
اسےاپنی اس غلطی
کا احساس ہوگا
تو اپنی اس غلطی
پر نادم بھی
ہوگا ۔ “
”
اپنی
غلطی پر ندامت
پتہ نہیں کب
اسےمحسوس ہو
؟ لیکن آج تو وہ
اپنی زندگی تباہ
کررہا ہے۔ “
”
ہم
نےزندگی بھر
اسےانگلیاں
پکڑ کر چلنا
سکھایا لیکن
آج وہ اتنا بڑا
ہوگیا ہےکہ
اسےہماری رہنمائی
کی ضرورت نہیں
ہے۔ اس لئےاس
نےجو راستہ چنا
ہوگا ٹھیک ہی
ہوگا ۔ “ بظاہر
وہ عادل کےفیصلےکو
درست ثابت کرنےکی
کوشش کررہےتھےلیکن
عادل کےاس فیصلےنےایک
بارود کا کام
کرتےہوئےان
کےوجود کی دھجیاں
اڑا دی تھیں ۔
ان کا وہ بیٹا
ان سےالگ ہورہا
تھا ۔ جسےایک
لمحہ کےلئےبھی
وہ اپنی نظروں
سےدور نہیں
کرتےتھے۔ لیکن
وہ کیا کرسکتےتھے؟
وہ اپنےآپ کو
بڑا لاچار اور
بےبس محسوس
کررہےتھے۔ اگر
وہ عادل کےاس
فیصلےکی مخالفت
کرتےتو یاسمین
کو شہ مل جاتی
یاسمین عادل
کےالگ ہونےکےحق
میں نہیں تھی
۔ اور ایک تضاد
کھڑا ہوجاتا
۔
لبنیٰ
اور عادل کسی
بھی صورت میں
ان کےساتھ
رہنےکےلئےتیار
نہیں ہوتےاور
وہ اس کےلئےتیار
نہیں ہوتےتو
تضاد بڑھتا ۔
حاصل یہی ہوتا
کہ فتح عادل اور
لبنیٰ کی ہوتی
انہیں اور یاسمین
کو حزیمت اٹھانی
پڑتی ۔ اور لوگوں
کو ایک تماشہ
دیکھنےکا موقع
مل جاتا ۔ اس
لئےاپنےدل پر
پتھر رکھتےہوئےانہوں
نےعادل کےفیصلےکو
قبول کیا تھا
۔
رات
نہ وہ سو سکےاور
نہ ہی یاسمین
سو سکی ۔ دیر
رات تک عادل
کےکمرےسےاس
کی اور لبنیٰ
کی کھسر پسر کی
آوازیں آتی رہیں
۔ پلنگ پر وہ چپ
چاپ چت لیٹےچھت
کو تاکتےرہے۔
یاسمین دوسری
طرف کروٹ لئےدیوار
تاکتی رہی ۔
دونوں کےذہن
میں ایک طوفان
اٹھا رہا ۔ ان
کی آنکھوں کےسامنےعادل
کی پیدائش سےتادم
تک ایک ایک لمحہ
‘ ایک ایک واقعہ
کسی فلم کی طرح
چکراتا رہا ۔
کتنی
منتوں ، مرادوں
، مشکلوں اور
مصیبتوں کےبعد
عادل کی پیدائش
ہوئی تھی۔ شادی
کےپانچ سالوں
کےبعد بھی جب
ان کےگھر کوئی
اولاد نہیں ہوئی
تو وہ اولاد کی
خوشی سےمایوس
ہوگئےتھے۔ دونوں
نےاپنا اپنا
چیک اپ کرایا
تھا ڈاکٹروں
نےبتایا تھا
کہ ان میں کوئی
کمی نہیں ہے۔
پھر بھی وہ اولاد
کےسکھ سےمحروم
تھے۔ اس کو ان
کی تقدیر کی کم
نصیبی سمجھا
جائےیا قدرت
کا مذاق یا کوئی
مصیبت ۔ ہزاروں
علاج ، منتوں
اور مرادوں
کےبعد ان کےباپ
بننےکی خوش خبری
ملی تھی ۔ اس
خبر کو سن کر ان
کی حالت پاگلوں
سی ہوگئی تھی
۔ یاسمین سےاس
کی خوشی سنبھالےنہیں
سنبھل رہی تھی
۔ ان کےقریبی
رشتہ دار اور
کرم فرماو
¿ں
میں بھی اس خبر
کو سن کر خوشی
کی لہر دوڑ گئی
تھی ۔ انہوں
نےسب سےپہلےیہ
خبر انہیں سنائی
تھی ۔ کیونکہ
ان کی باتیں
پانچ سالوں تک
ان کےلئےیاسمین
کےلئےبڑی ادیت
کا باعث بنی
تھیں ۔ لوگ ہزاروں
طرح کی باتیں
بناتےتھے۔ کبھی
کہتےیاسمین
میں کوئی کمی
ہے، کبھی ان میں
کسی کمی کا الزام
لگاتے۔ کبھی
کہتےوہ دونوں
خود ابھی بچہ
نہیں چاہ رہےہیں
کچھ دن اور عیاشی
کرنا چاہتےہیں
۔ کبھی انہیں
مشورہ دیتےیاسمین
انہیں اولاد
کا سکھ نہیں
دےسکتی ۔ اولاد
کےلئےوہ دوسری
شادی کرلیں ۔
کبھی
یاسمین کو سمجھاتےان
سےاسےاولاد
نہیں ہوسکتی
اس لئےان کےپیچھےوہ
کیوں اپنی زندگی
تباہ کررہی
ہے۔
ابھی سےسنبھل
جائےاور ہوش
سےکام لےاس کی
اچھی خاصی نوکری
ہےوہ خود کفیل
ہے۔ چاہےتو ان
سےطلاق لےکر
کسی ایسےمرد
سےشادی کرسکتی
ہےجو اسےاولاد
کا سکھ دے۔ کبھی
اڑاتےکہ دونوں
نوکری پیشہ ہیں
۔ گھر میں کوئی
ایسا نہیں ہےجو
ان کےبعد بچہ
کی دیکھ ریکھ
کریں اس لئےاس
ذمہ داری سےگھبرا
کر چاہتےہیں
کہ انہیں اولاد
نہ ہو ۔
جب
بھی وہ کسی کی
بات سنتےان کےدل
کو ایک چوٹ سی
لگتی ۔ یاسمین
کی آنکھوں سےٹپ
ٹپ آنسو گرنےلگتےاور
وہ دہاڑیں مار
مار کر رونےلگتی
اور انہیں یاسمین
کو سنبھالنا
مشکل ہوجاتا
۔ وہ بھرّائی
آواز میں کہہ
اٹھتی ۔
”
مجھ
میں ہی کوئی کمی
ہے۔ میں آپ کو
اولاد کا سکھ
نہیں دےسکتی
آپ میرےپیچھےاپنی
زندگی برباد
نہ کریں اور کسی
دوسری لڑکی
سےشادی کرلیں
۔ تاکہ وہ آپ کو
اولاد کا سکھ
دےسکے۔ “ یاسمین
کو لاجواب کرنےکےلئےوہ
یاسمین کےالفاظ
اسےلوٹا دیتےتو
یاسمین تڑپ
اٹھتی۔
”
خدا
کےلئےایسی باتیں
منہ سےنہ نکالئے۔
میں ایک لمحہ
کےلئےبھی آپ
سےالگ ہونےکا
تصور نہیں کرسکتی
۔ “ اتنےبرسوں
سےبعد انہیں
اولاد کی خوشخبری
ملی تھی ۔
عادل
کی ولادت بھی
ایک امتحان سےکم
نہیں تھی ۔ ایک
آگ کا دریا تھا
جسےدونوں کو
پار کرنا تھا
۔ عادل کی ولادت
کےبعد ایسےحالات
پیدا ہوگئےکہ
یاسمین کی زندگی
خطرےمیں پڑ گئی
۔
آخر
آپریشن کےبعد
ڈاکٹروں نےیاسمین
اور عادل دونوں
کو بچالیا لیکن
اس قیمت پر کہ
یاسمین اب کبھی
ماں نہیں بن
پائےگی ۔
عادل
کو پاکر انہوں
نےخوشی خوشی
یہ قیمت بھی ادا
کردی ۔ عادل کو
پاکر انہیں لگا
جیسےانہیں دنیا
کی سب سےبڑی
نعمت مل گئی ۔
اس کےبعد ان
کےدل میں خدا
کی کسی اور نعمت
کی تمنا ہی نہیں
ہے۔ تین مہینوں
تک یاسمین گھر
میں رہی ۔ اس
کےبعد عادل کو
چھوڑ کر اسکول
جانےکا کڑا
امتحان آگیا
۔ جذبات میں یہ
فیصلہ بھی کیا
گیا کہ عادل
کےلئےیاسمین
نوکری چھوڑ دے۔
کیونکہ ان کا
آفس میں دل نہیں
لگتا ہے۔ عادل
میں ہی دھیان
لگا رہتا ہے۔
لیکن یہ طےکیا
گیا کہ عادل کی
بھلائی کےلئےاس
کی زندگی سنوارنےکےلئےیاسمین
نوکری جاری
رکھےگی کیونکہ
یہ طےکیا گیا
تھا یاسمین کا
ایک ایک پیسہ
عادل کی ذات پر
خرچ کرکےاسےایک
نیک ، صالح ،اچھا
اور کامیاب
انسان بنایا
جائےگا ۔ عادل
کو کبھی نوکروں
، پڑوسیوں یا
کبھی رشتہ داروں
کےپاس چھوڑ کر
دونوں ڈیوٹی
پر نکل جاتے۔
آفس میں ان کا
دل نہیں لگتا
تھا ۔ نظریں
گھڑی کی سوئیوں
پر لگی رہتی
تھیں ۔ جس وقت
گھڑیاں وہ گھنٹہ
بتاتی جب یاسمین
اسکول سےگھر
آجاتی تو ان کو
سکون مل جاتا
۔
اب
عادل صحیح ہاتھوں
میں پہونچ گیا
ہے۔ اب فکر کرنےکی
کوئی ضرورت نہیں
ہے۔ جیسےجیسےعادل
بڑا ہورہا تھا
اس کےلئےان کےدل
میں محبت بڑھتی
جارہی تھی ۔ اس
کی معصوم حرکتیں
، آوازیں ، باتوں
سےبےاختیار
اس کےلئےدل میں
پیار امڈ آتا
تھا اور وہ اسےلپٹا
لیتےتھے۔
عادل
کو معمولی چھینک
بھی آجاتی تو
ان کا دل تشویش
میں مبتلا ہوجاتا
تھا ۔ عادل کےجسم
کا درجہ حرارت
معمولی بھی بڑھ
جاتا تو ان کی
ساری رات آنکھوں
میں کٹ جاتی تھی
۔ عادل کو معمولی
بخار بھی آجاتا
تو بڑےسےبڑےڈاکٹر
کا علاج کرایا
جاتا ۔
بڑا
ہوا تو تعلیم
کی فکر ستانےلگی
۔ اسےسب سےاچھےاسکول
میں داخل کیا
گیا اور اس کی
تعلیم پر خاص
دھیان دیا جانےلگا
۔ دو گھنٹہ وہ
اسےپڑھاتےتھےاور
دو گھنٹےیاسمین
۔ ویسےعادل کافی
ذہین تھا ۔ پھر
ان کی تربیت اور
تعلیم تو سونےپر
سہاگہ کا کام
کرنےلگی ۔ وہ
ہمیشہ اپنی کلاس
میں اول آتا ۔
اس کا نتیجہ یہ
نکلا کہ وہ دسویں
کےامتحان میں
بورڈ کےپہلےدس
کامیاب طلبہ
میں مقام پا گیا
۔
عادل
سوِل انجینئر
بننا چاہتا تھا
۔ انہوں نےبھی
اس کی مرضی کےآگےاپنا
سر خم کیا ۔ انہوں
نےعادل کےبارےمیں
بہت کچھ سوچ
رکھا تھا لیکن
وہ عادل کی مرضی
کےخلاف کوئی
کام نہیں کرنا
چاہتےتھےعادل
کی دلچسپی کا
ہی کام کرنا
چاہتےتھےاچھےنمبروں
کی وجہ سےاسےآسانی
سےایک اچھےکالج
میں داخلہ مل
گیا ۔ پڑھائی
میں وہ تیز تھا
اپنےمضمون میں
بہت زیادہ محنت
کرنےلگا ۔
زیر
تعلیم رہتےہوئےبھی
وہ ایک سوِل
انجینئر کےپاس
جانےلگا اور
وہ کام کرنےلگا
جسےاسےامتحان
پاس کرنےکےبعد
کرنا تھا ۔ دو
تین سالوں میں
ہی وہ اپنےمیدان
کا اتنا ماہر
ہوگیا کہ بڑےسےبڑےانجینئر
بھی اس کا مقابلہ
نہیں کرپائےتھے۔
اس کےبنائےپلان
، نقشوں اور
خاکوں میں کوئی
بھی غلطی نہیں
نکال پاتا تھا
۔ نقشے، خاکےاور
پلان وہ بناتا
تھا لیکن اس پر
مہر کسی اور کی
لگتی تھی ۔ بعد
میں ان نقشوں
پر بننےوالی
عمارتیں بھی
اسی کےزیرِ
نگرانی تعمیر
ہوتی تھیں ۔
ڈگری
ملنےسےپہلےہی
اس کا اتنا نام
ہوگیا تھا اور
اسےاتنا تجربہ
حاصل ہوگیا تھا
جسےپانےمیں
اوروں کو کئی
سال لگ جاتےتھے۔
امتحان میں وہ
نمایاں نمبروں
سےکامیاب رہا
۔ اس کےکامیاب
ہوتےہی ایک بہت
بڑی کنسٹرکشن
فرم میں اسےنوکری
مل گئی ۔ اچھی
تنخواہ کےساتھ
اسےگاڑی اور
بنگلہ بھی ملا
۔ لیکن اس نےبنگلہ
یہ کہہ کر لوٹا
دیا کہ میں اپنی
امی اور ابا
کےساتھ اس چھوٹےسےگھر
میں رہ کر ان
کےسارےخواب
پورےکرکےان
کی خدمت کرنا
چاہتا ہوں جو
انہوں نےمیرےلئےدیکھےہیں
۔
ایک
سعادت مند بیٹےکی
طرح وہ اپنی
ساری تنخواہ
لاکر انہیں
دےدیتا تھا ۔
آفس سےآنےکےبعد
بھی ان کےگھر
عادل سےملنےوالوں
کا میلہ لگا
رہتا تھا ۔ وہ
لوگ چاہتےتھےکہ
عادل آفس سےآنےکےبعد
ان کا کام کرے۔
وہ ان کاکام
کرتا تو اسےجتنی
تنخواہ ملتی
تھی اس سےزیادہ
پیسہ مل جاتا
تھا ۔ بہت سےلوگوں
نےمشورہ دیا
کہ وہ نوکری
چھوڑ کر اپنا
خود کا بزنس
شروع کردے۔ یہ
کوئی مشکل کام
نہیں تھا ۔
آخر
عادل نےاپنا
الگ کاروبار
شروع کردیا اور
دن دونی رات
چوگنی ترقی
کرنےلگا ۔ اس
درمیان دونوں
ریٹائر ہوگئےتھے۔
ان تمام کامیابیوں
کےبعد ماں باپ
کا اولاد کےلئےبس
ایک ہی آخری
خواب ہوتا ہے۔
اولاد کا سہرا
دیکھےاور بہو
کو گھر دیکھنےکا
خواب ۔ یہ خواب
بھی پورا ہوگیا
۔ لبنیٰ بہو بن
کر ان کےگھر
آگئی ۔ لبنیٰ
ایک بہت امیر
کبیر گھرانےکی
چشم و چراغ تھی
۔ خوبصورت اتنی
کہ اس کی خوبصورتی
کےسارےشہر میں
چرچےتھے۔ ایسی
بیوی پاکر کون
خوش نہیں ہوسکتا
تھا ۔ لیکن کچھ
دنوں میں ہی
انہوں نےمحسوس
کیا کہ لبنیٰ
اور یاسمین
کےخیالوں میں
زمین آسمان کا
فرق ہے۔ جو باتیں
لبنیٰ کو پسند
تھیں وہ یاسمین
کو پسند نہیں
تھیں ۔ یاسمین
لبنیٰ کو جس روپ
میں دیکھنا
چاہتی تھی وہ
لبنیٰ کےلئےایک
دقیانوسی روپ
تھا ۔
پہلےدبےلفظوں
میں بعد میں
اونچی آواز میں
ان مسئلوں پر
دونوں میں بحث
و تکرار ہوئی
۔ ایسی حالت میں
وہ ثالث کا کردار
نبھاتےہوئےبھی
یاسمین کو دباتےتھے۔
عادل بھی تماشائی
بنا رہتا ۔ کبھی
لبنیٰ کی طرف
داری کرتےہوئےماں
کو سمجھاتا کہ
وہ بڑی ہیں اسےان
چھوٹی چھوٹی
باتوں کو نظر
انداز کردینا
چاہیئے۔ یا پھر
کبھی ماں کی طرف
داری کرتا ۔
آخر
وہی ہوا جس کےتصور
سےہی کبھی کبھی
وہ کانپ اٹھتےتھے۔
عادل اور لبنیٰ
نےالگ رہنےکا
فیصلہ کرلیا
۔ اور وہ گھر
چھوڑ کر جارہےتھے۔
اور گھر پر ایک
کربناک سناٹا
چھایا ہوا تھا
۔ ان کےاندر درد
کا دریا ٹھاٹھیں
ماررہا تھا رات
تک وہی سناٹا
گھر میں برقرار
رہا ۔
”
عادل
ہمیں چھوڑ کر
چلاگیا ‘ اس
نےبیوی کےلئےہمیں
چھوڑ دیا ‘ہماری
محبتوں کا ہمیں
یہ صلہ دیا ؟
آخر ہماری محبت
میں ایسی کیا
کمی رہ گئی تھی
جو اسےباندھ
کر ہمارےپاس
نہیں رکھ سکتی
تھی۔“ یاسمین
گھر کی دیواروں
کو گھورتےہوئےپاگلوں
کی طرح بڑبڑا
رہی تھی ۔ ” اب
اس کےجانےکا
غم نہ کرو اور
خود کو سنبھالو
۔ “ انہوں نےاسےسمجھایا
۔ سمجھ لو خدا
نےہمیں بیٹا
نہیں بیٹی دی
تھی ۔ بیٹی تو
پرائی امانت
ہوتی ہے۔ ایک
نہ ایک دن تو
اسےاپنےگھر
جانا ہوتا ہے۔
سمجھ لو آج ہماری
بیٹی کی شادی
ہوگئی ہےاور
آج وہ ہم سےبچھڑ
کر اپنےگھر چلی
گئی ہے۔ “ ان کی
اس بات کو سنتےہی
یاسمین پھوٹ
پھوٹ کر رونےلگی
۔
پتہ
نہیں یہ کس کےوصال
کےآنسو تھے۔
بیٹےکےیا بیٹی
کے؟
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ (
مہاراشٹر)
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ (
مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09322338918) )
Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short tStory about common man's suffiring