
افسانہ
کتنےپل صراط
از:ایم
مبین
سویرےجب
وہ گھر سےنکلی
تھی تو بشریٰ
بخار میں تپ رہی
تھی ۔
”
امی
!مجھےچھوڑ
کر مت جاو
¿ ‘ امی آج اسکول مت جاو
¿
مجھےبہت
ڈر لگ رہا ہے۔“
جب
وہ جانےکی تیاری
کررہی تھی تو
بشریٰ کی آنکھ
بھی کھل گئی تھی
اور وہ اسےآج
اسکول نہ جانےکےلئےضد
کرہی تھی ۔
”
نہیں
بیٹے!
“ پیار
سےاسےسمجھانےکےلےجب
اس نےاس کی پیشانی
پر ہاتھ رکھا
تو کانپ اٹھی
۔ بشریٰ کی پیشانی
بخار سےتپ رہی
تھی ۔
”
امی
سےاس طرح کی ضد
نہیں کرتے۔ “
یہ کہتےہوئےاس
کی زبان لڑکھڑا
گئی تھی ۔ ”آج
امی کا اسکول
جانا بےحد ضروری
ہے۔ کل چاہےروک
لینا ۔ تم کہوگی
تو کل سےہم آٹھ
دنوں کےلئےاسکول
نہیں جائیں
گےتمہارےپاس
ہی رہیں گے۔ آج
ہمیں جانےدو
۔“
”
امی
رک جاو
¿
ناں
!
مجھےاچھا
نہیں لگ رہا ہے۔
“ بشریٰ رونےلگی
تھی ۔
”
نہیں
روتےبیٹے!
“ بشریٰ
کو روتا دیکھ
کر اس کی آنکھوں
میں بھی آنسو
آگئےتھے۔ لیکن
بڑی مشکل سےاس
نےاپنےآنسوو
¿ں
کو روکا تھا اور
بھرائی ہوئی
آواز پر قابو
پانےکی کوشش
کی تھی ۔ ” ہم
آج جلدی گھر
آجائیں گےپھر
تمہارےابا تو
تمہارےپاس ہی
ہیں ناں بیٹا
۔ڈرنےکی کوئی
بات نہیں ہے۔
“
دوسرےکمرےمیں
طارق اور عوف
بےخبر سو رہےتھے۔
تھوڑی دیر
سسکتےرہنےکےبعد
بشریٰ کی بھی
آنکھ لگ گئی تھی
۔ اس نےاپنا پرس
کاندھےپر لٹکایا
اور جاکر دھیرےسےطارق
کو ہلانےلگی
۔
”
آں
!
کیا
بات ہے؟ “ طارق
نےآنکھ کھول
دی ۔
”
میں
جارہی ہوں ۔ “
وہ بولی ۔ ” بشریٰ
کو سخت بخار
ہےاسےڈاکٹر
کےپاس لےجانا
۔ نوکرانی سےکہہ
دینا کہ اس کا
اچھی طرح خیال
رکھے۔ اگر ممکن
ہو تو آج آپ چھٹی
کرلیں ۔ ویسےمیں
آج جلد آنےکی
کوشش کروں گی
لیکن کہہ نہیں
سکتی کہ یہ ممکن
ہوسکےگا بھی
یا نہیں کیونکہ
آج انسپکشن ہے۔
اگر انسپکشن
نہ ہوتا تو آج
جاتی ہی نہیں
۔ “
”
ٹھیک
ہے۔ “ طارق
نےاٹھتےہوئےجماہی
لی ۔ وہ جب گھر
سےباہر آئی تو
چاروں طرف گہرا
اندھیرا تھا
۔ سردیوں کےدنوں
میں سات بھی بج
جاتےہیں تو
اندھیرا ہی
چھایا رہتا ہےدن
نہیں نکلتا اور
اس وقت تو صرف
ساڑھےپانچ ہی
بجےتھے۔ پوری
گلی سنسان تھی
۔ راستےپر اکا
دکا لوگ آجارہےتھے۔
ایسےعالم میں
کسی عورت کےگھر
سےنکلنےکا تصور
بھی نہیں کیا
جاسکتا ہے۔ وہ
روزانہ اسی وقت
اکیلی اس گلی
سےگذر کر رکشا
اسٹینڈ تک جاتی
جو لوگ سویرےجلدی
جاگنےکےعادی
تھے۔ انہیں علم
تھا کہ وہ اس
وقت گھر سےاسکول
جانےکےلئےنکلتی
ہے۔ شناسا لوگ
اس سےدو باتیں
کرلیا کرتےتھے۔
”
بیٹی
اسکول جارہی
ہو ۔ “
”
ہاں
بابا ۔ “ وہ جواب
دیتی ۔
”
بھابی
اکیلی اندھیرےمیں
روزانہ اتنےسویرےجاتی
ہو تمہیں ڈر
نہیں لگتا ؟ “
”
اب
تو عادت ہوگئی
ہے۔ “ وہ مسکرا
کر کہتی ۔
سبھی
شناسا اور اچھےنہیں
ہوتے۔ کبھی کبھی
کوئی اجنبی اور
بدمعاش بھی مل
جاتا ہے۔ اکیلےمیں
اس وقت کسی اجنبی
عورت کو دیکھ
کر وہ جو کچھ
کرسکتا ہےوہ
کرنےسےنہیں
چوکتا تھا ۔
کبھی کوئی بھدا
سا فقرہ منہ
سےنکال دیتا
۔ کبھی کوئیناگوار
بات کہہ دیتا
۔ اور کوئی تو
جسارت کرکےدھکا
دےکر آگےبڑھ
جاتا اور اپنی
کسی نفسانی
خواہش کی تسکین
کرلیتا ۔ ایسی
صورت میں اس کا
ردِ عمل سوائےخاموشی
کےاور کچھ نہیں
ہوتا تھا ۔ نہ
تو وہ اس سےالجھ
سکتی تھی نہ شور
مچا کر اپنی مدد
کےلئےکسی کو
بلا سکتی تھی
۔ الجھتی تو
نقصان اسی کا
ہوتا ۔ اکیلی
عورت جو ٹھہری
۔ کسی کو مدد
کےلئےبلاتی
تو ممکن نہیں
تھا کہ کوئی اس
کی مدد کو آتا
۔ اتنےسویرےکوئی
اپنی لاکھوں
روپوں کی میٹھی
نیند خراب کرتا
ہے؟ اگر کوئی
آئےبھی تو اس
بدمعاش سےتو
اسےنجات مل جاتی
لیکن مدد کرنےوالوں
کےجملوں سےشاید
زندگی بھر نجات
نہیں ملتی ۔
”
اتنی
رات گئےاکیلی
گھر سےنکلی ہو
۔ شریف عورتوں
کےکیا یہی چال
چلن ہیں ؟ “
”
اگر
عزت کا اتنا ہی
پاس ہےتو اکیلی
اتنےسویرےگھر
سےکیوں نکلتی
ہو ۔ گھر میں
رہا کرو ۔ چھوڑ
دو یہ نوکری ۔
“ غرض وہ ایسی
باتوں سےکترانےکےلئےاپنےساتھ
ہوئےجارہےبےجا
سلوک کو نظر
انداز کرکےآگےبڑھ
جاتی تھی ۔رکشا
اسٹینڈ سےایس
ٹی کےلئےاسےپانچ
منٹ میں رکشا
مل جاتا تھا۔
کبھی کبھی تو
اسےرکشا تیار
مل جاتا تھا
کبھی دو چار منٹ
رکشا کا انتظار
کرنا پڑتا تھا
۔ کچھ رکشا والوں
کو معلوم تھا
وہ اس وقت وہاں
سےایس ۔ ٹی اسٹینڈ
جانےکےلئےنکلتی
ہےتو وہ اس کےانتظار
میں وہاں پہونچ
جاتےتھے۔ اس
میں بھی ان لوگوں
کی نیت کےدو
پہلو ہوتےتھے۔
کچھ شریف لوگ
اپنی روزی
دھندےکےلئےاس
کی سیٹ حاصل
کرنےکےلےوہاں
پہونچتےتھے۔
کچھ بدمعاش
ذہنیت والےصرف
اس لذت کےلئےوہاں
پہونچتےتھےکہ
ایک اکیلی تنہا
خوبصورت جوان
لڑکی کو اکیلےرکشا
میں ایس ۔ ٹی
اسٹینڈ تک پہنچانےکا
موقع ملےگا ۔
اس سےکچھ ایسی
بھی باتیں ہوسکتی
ہیں جو ان کےلئےنفسانی
لذت کا باعث ہوں
۔ ایسی حالت میں
وہ خاموش رہ کر
سفر کرنےکو
ترجیح دیتی تھی
۔
ان
کا کوئی جواب
نہیں دیتی تھی
یا اگر دیتی بھی
تو ایسا جواب
دیتی کہ اس کی
ساری امیدوں
اور ارادوں پر
پانی پھر جائے۔
ایسی حالت میں
جو حادثہ ممکن
تھا وہ ایک بار
ا س کےساتھ ہوچکا
تھا ۔ سناٹےاور
اندھیرےکا فائدہ
اٹھا کر ایک
رکشا والےنےاسےغلط
راستےپر لےجانا
چاہا ۔ اس نےچیخ
کر اسےروکا جب
اس نےنہیں سنا
تو چلتےرکشےسےکود
گئی ۔ اسےمعمولی
چوٹیں آئیں لیکن
اس کی خوش قسمتی
یہ تھی کہ سامنےپولس
کھڑی تھی اور
اس نےاسےرکشا
سےکودتےدیکھا
تو دوڑ کر اس
کےپاس پہنچے۔
”
کیا
بات ہیمیڈم ‘
کیا آپ رکشا
سےگر گئیں ؟ “
”
نہیں
!
وہ
رکشا والا مجھےاکیلی
دیکھ کر غلط
راستےپر لےجارہا
تھا ۔ “
”
ایسی
بات ہے؟ “ یہ
سنتےہی دو پولس
والےگاڑی لےکر
بھاگے۔ تھوڑی
دیر بعد ہی وہ
اس رکشا والےکو
مارتےہوئےاس
کےپاس لےآئےانہوں
نےشاید اسےبری
طرح مارا تھا
۔ اس کےماتھےسےخون
بہہ رہا تھا ۔
”
بہن
جی مجھےمعاف
کردو !
اب
زندگی بھر ایسی
غلطی نہیںکروں
گا ۔ “ وہ اس کےپیروں
پر گر کر گڑگڑانےلگا
تو اس نےپولس
والوں سےکہا
کہ اس کےخلاف
کوئی کاروائی
نہ کرےاسےچھوڑ
دے۔ اس واقعہ
کو تو اس نےاپنےتک
ہی محدود رکھا
تھا لیکن رکشا
والوں میں شاید
اس واقعہ کی
تشہیر ہوگئی
تھی کیونکہ اس
کےبعد اس کےساتھ
ایسا کوئی حادثہ
پیش نہیں آیا
تھا ۔
اس
واقعہ سےوہ خود
بہت ڈر گئی تھی
۔ اس نےسوچا تھا
کہ وہ اپنا تبادلہ
دوپہر کی شفٹ
میں کرالےگی
۔ اس کےلئےاس
نےکافی ہاتھ
پیر بھی مارےتھے۔
لیکن بات نہیں
بن سکی تھی ۔
تبادلےکرنےوالےاتنی
قیمت مانگ رہےتھےجتنی
دینا اس کی بساط
کےباہر تھا ۔
ویسےدوپہر کی
شفٹ اس کےاور
اس کےگھر والوں
کےحق میں بھی
مناسب نہیں تھی
۔ دوپہر کی شفٹ
کرنےکےلئےاسےسویرےنو
دو بجےگھر سےنکلنا
ہوگا اور واپسی
شام سات آٹھ دس
بجےتک ممکن ہی
نہیں ہوسکےگی
۔ ایسی صورت میں
گھر ، عوف اور
بشریٰ کا کون
خیال رکھےگا
۔ طارق ڈیوٹی
دیکھےگا یا
گھراور بچوں
کو ؟
اس
لئےاس نےدوسری
شفٹ لینےکا
ارادہ بدل دیا
تھا ۔ سویرےکی
شفٹ کےلئےاسےساڑھےپانچ
بجےکےقریب گھر
سےنکلنا پڑتا
تھا ۔ اس طرح
سےوہ ٹھیک وقت
پر اسکول پہنچ
بھی جاتی تھی
۔ اسکول سےوہ
دو ڈھائی بجےکےقریب
واپس گھر آجاتی
تھی۔ طارق دس
گیارہ بجےتک
گھر میں ہی رہتا
تھا اس کےبعد
نوکرانی آجاتی
اس کےآنےتک
نوکرانی گھر
اور بچےسنبھالتی
تھی ۔ ساڑھےپانچ
بجےگھر چھوڑنےکےلئےاسےچار
بجےجاگنا پڑتا
تھا ۔ جاگنےکےبعد
وہ اپنےاور بچوں
کےلئےسویرےکا
ناشتہ اور کبھی
کبھی دوپہر کا
کھانا بناتی
تھی ہاں !
کبھی
دیر ہوجاتی تو
یہ ذمہ داری
نوکرانی پر
ڈالنی پڑتی ۔
سارےکام کرکےوہ
ٹھیک وقت پر گھر
سےنکل جاتی تھی
۔ نکلتےوقت وہ
ہلکا سا ناشتہ
کرلیتی تھی لیکن
اسکول میں اسےبھوک
لگ ہی جاتی تھی
۔ تعطیل میں
اسےہلکا ناشتہ
کرنا ضروری
ہوجاتا تھا ۔
اس کےبعد وہ گھر
آکر ہی کھانا
کھاتی تھی ۔
بس
اسٹینڈ پہونچنےکےبعد
اسےپونےچھ بجےکی
بس مل جاتی تھی
۔ یہ بس بھی ایک
معمہ تھی ۔ کبھی
بالکل خالی ہوتی
تھی تو کبھی
اتنی بھیڑ کہ
پیر رکھنےکےلئےبھی
مشکل سےجگہ ملتی
تھی ۔ بس خالی
ہو یا اس میں
بھیڑ اسےاسی
سےسفر کرنا
ضروری ہوتا تھا
۔ اگر وہ بس چھوٹ
جائےتو مقررہ
وقت پر اسکول
پہونچنا نا ممکن
تھا ۔ کیونکہ
٠٢ کلومیٹر کا
پل صراط سا سفر
اسی بس کےذریعہ
مقررہ وقت میں
طےکرنا ممکن
تھا ۔ ورنہ بھیونڈی
تھانہ کا سفر
؟ خدا کی پناہ
۔ بھیونڈی سےنکلےلوگ
ناسک پہونچ
جائیں لیکن
تھانہ جانےکےلئےنکلےراستےمیں
ہی پھنسےرہے۔
خراب راستہ ،
ٹریفک ، مسافروں
، بس کنڈکٹر ،
ڈرائیور کےجھگڑے۔
صبح کےوقت ٹریفک
کم ہوتی تھی
بھیڑ کم ہونےکی
وجہ سےکنڈکٹر
کا موڈ بھی اچھا
ہوتا تھا ۔ اس
لئےیہ سفر معینہ
وقت میں پورا
ہوجاتا تھا ۔
اس کےبعد تھانےسےآدھےگھنٹےکا
لوکل ٹرین کا
سفر ۔ اس میں
بہت کم پریشانی
ہوتی تھی ۔ دوچار
منٹ میں کوئی
تیز یا دھیمی
لوکل مل جاتی
تھی ۔ سویرےکا
وقت ہونےکی وجہ
سےلوکل میں بھیڑ
نہیں ہوتی تھی
۔ کبھی جنرل
ڈبےمیں جگہ مل
جاتی تھی تو
کبھی لیڈیز
ڈبےمیں ۔ ہاں
!
کسی
مجبوری کےتحت
بھیڑ ہونےکی
وجہ سےکھڑےہوکر
سفر کرنا بھی
بھاری نہیں پڑتا
تھا ۔
لیڈیز
ڈبےمیں کھڑےہوکر
سفر کرنےمیں
تو کوئی دشواری
پیش نہیں آتی
تھی لیکن جنرل
ڈبےمیں کھڑےہوکر
سفر کرنا ایک
عورت کےلئےعذاب
سےکم نہیں ہوتا
ہے۔ دھکےجسم
کی ہڈی پسلیاں
ایک کردیتےہیں
۔ اور ایک عورت
کو تو کچھ زیادہ
ہی دھکےلگتےہیں
اور خاص طور پر
نازک مقامات
پر ۔ ایسا محسوس
ہوتا ہےجیسےکئی
گدھ اپنی نوکیلی
چونچوں سےاس
کا گوشت نوچ
رہےہیں ۔ کبھی
راحت بھرا آرام
تو کبھی عذاب
بھرا یہ سفر
طےکرنےکےبعد
کچھ قدموں کا
پیدل سفر اور
اس کےبعد اسکول
۔ کیسی عجیب بات
تھی ۔
تیس
چالیس کلومیٹر
سےوہ آتی تھی
۔ لیکن کبھی
کبھی وہ سب
سےپہلےاسکول
آنےوالی واحد
ٹیچر ہوتی تھی
۔ یا پہلےنہیں
بھی آتی تھی تو
لیٹ کبھی نہیں
ہوتی تھی ۔ مگر
مقامی ٹیچرس
ہمیشہ تاخیر
سےآتےتھے۔ اس
کےباوجود اگر
کسی دن مجبوری
سےوہ ایک آدھ
گھنٹہ تاخیر
سےاسکول پہونچتی
تو وہ لوگ ناک
بھوں چڑھاتے۔
اور تاخیر
سےآنےکےلئےاسےجواب
دینا پڑتا تھا
یا اس کی حاضری
میں لیٹ مارک
کیا جاتا تھا
۔ وہ اس کےخلاف
احتجاج بھی کرتی
تو اس کا احتجاج
بےاثر رہتا ۔
کیونکہ اس کی
اسکول میں کوئی
لابی نہیں تھی
۔ لابی نہ ہونےکی
وجہ سےاس کےاحتجاج
میں نہ تو قوت
تھی اور نہ اثر
۔ جن کی لابی
مضبوط تھی وہ
سارےقانون کو
بالائےطاق رکھ
کر نوکری کرتےتھے۔
اسکول
سےوہ ساڑھےبارہ
بجےکےقریب نکلتی
تھی ۔ تھوڑی دور
پیدل چلنےکےبعد
ریلوےاسٹیشن
اور پھر لوکل
سےتھانہ ۔ اور
تھانہ آنےکےبعد
بھیونڈی تک کا
کربناک سفر ۔
جب
بھی وہ تھانہ
بھیونڈی کےدرمیان
سفر کرتی تھی
اسےصراط مستقیم
کی یاد آتی تھی
۔ روزِ محشر
کےبعد بندوں
کو جس بال سےباریک
پُل پر سےسفر
کرنا ہوگا جس
کےنیچےجہنم
کی آگ دہک رہی
ہوگی ۔ وہ سفر
کتنا اذیت ناک
ہوگا اس کا تو
صرف تصور کیا
جاسکتا تھا ۔
لیکن اس سفر کو
طےکرتےہوئےجو
اذیت برداشت
کرنی پڑتی تھی
اس کی کوئی حد
نہیں تھی ۔
پہلےبس
کی لائن میں
گھنٹوں کھڑےرہنا
دھکےکھانا ۔
طرح طرح کےلوگوں
کی ناپاک نظروں
کا نشانہ بننا
۔ پھر دانستگی
یا نادانستگی
سےلگائےان کےہوس
ناک دھکوں کواپنےجسم
پر جھیلنا ۔ بس
آئی اور جگہ مل
گئی تو غنیمت
ورنہ پھر بھیڑ
میں کھڑےکھڑےسفر
۔ بھیڑ میں گھٹتا
دم اور جسم کا
نکلتا کچومر
۔ اس سفر میں
سفر کرنےوالےمسافر
بھی کتنےبےحس
ہوتےہیں ۔
کوئی
کھڑا ہےاس سےان
کو کچھ لینا
دینا نہیں ہوتا
ہے۔ انہیں جگہ
مل گئی ان کےلئےبس
یہی کافی ہے۔
کوئی بھول کر
بھی یہ نہیں
سوچےگا کہ کوئی
عورت کھڑی ہی۔
اسےبیٹھنےکےلئےجگہ
دینی چاہیئے۔
اگر کوئی اتنی
فراخدلی کرےگا
تو پھر اس فراخدلی
کی قیمت بھی
وصول کرنےکی
کوشش کرےگا ۔
اس فراخدلی کی
اذیت ناک قیمت
ادا کرنےسےبہتر
تو ہےدھکےسہتےہوئےجسموں
کےدرمیان گھٹ
کر کھڑےکھڑےسفر
کیا جائے۔عورت
تھکی ہوئی ہے‘
حاملہ ہےیا
بیمار ہےکوئی
اس بارےمیں نہیں
سوچتا ۔ اس کی
ان حالتوں پر
رحم کھاکر کوئی
اسےجگہ دینےکی
کوشش نہیں کرتا
۔ اگر جگہ دیتا
ہےتو اس سےقیمت
وصول کرنےکی
نیت ہوتی ہے۔
چاہےوہ کسی بھی
حالت میں ہو ۔
پھر ایسی حالت
میں یہ سفر اور
طویل ہوجاتا
ہے۔
کسی
دن کوئی ایکسیڈینٹ
ہوگیا جس کی وجہ
سےٹریفک جام
ہوگئی اور دوبارہ
معمول پر آنےمیں
گھنٹوں لگ گئےاور
ایک آدھےگھنٹےکا
سفر دو تین گھنٹوں
پر محیط ہوگیا۔
حادثہ نہیں بھی
ہوا تو بےترتیبی
سےگھسنےوالی
گاڑیوں کی وجہ
سےٹریفک جام
ہوگئی ۔
معمولی
معمولی باتیں
کبھی بڑی بڑی
وجہ بن کر کئی
گھنٹےبرباد
کردیتی ہیں ۔
جب وہ گھر پہونچتی
ہےتو بھوک چمکی
ہوئی ہوتی ہے۔
سارا جسم تھکن
سےٹوٹ رہا ہوتا
ہےآنکھوں میں
نیند سمائی ہوتی
ہے۔ اسےکچھ
سجھائی نہیں
دیتا ہےوہ کیا
کرےکھانا کھائے‘
آرام کرےیا
سوئےاس کےآتےہی
بچےاسےگھیر
لیتےہیں وہ اس
سےلپٹ کر اتنی
دیر کی دوری
کےاحساس کو کم
کرنا چاہتےہیں
۔ اور تھکن کی
وجہ سےبچوں
کےجسم کی قربت
بھی اسےبجلی
کا تار محسوس
ہوتی ہے۔ بڑی
مشکل سےپلنگ
پر لیٹ کر تھوڑی
دیر سستا کر پھر
اپنےکاموں میں
لگ جاتی ہے۔ اگر
نوکرانی نےکھانا
نہیں بنایا تو
اسےکھانا بنانا
پڑتا ہے۔ اس
درمیان طارق
بھی آجاتا ہےاور
پھر سب مل کر
کھانا کھانےبیٹھ
جاتےہیں ۔ کبھی
وہ جلدی آگئی
تو سب ساتھ ہی
کھانا کھالیتےہیں
۔ کبھی دیر ہوگئی
تو مقررہ وقت
ہونےپر طارق
اور بچےکھانا
کھا لیتےہیں
۔ اسےاکیلےہی
کھانا پڑتا ہے۔
کھانا کھانےکےبعد
ایک دو گھنٹےکی
نیند اس کا معمول
ہے۔ ایک دو
گھنٹےسونےکےبعد
اس کی ساری تھکن
دور ہوجاتی ہے۔
اور وہ تازہ دم
ہوکر گھر کےکاموں
میں لگ جاتی ہے۔
گھر
کےچھوٹےموٹےکام
کرنا ‘ رات کا
کھانا بنانا
‘ شام میں بازار
جاکر شاپنگ کرنا
وغیرہ وغیرہ
۔ لیکن ضروری
نہیں کہ روزانہ
زندگی کا یہ
معمول ہو ۔ کبھی
کبھی معمول میں
معمولی تبدیلی
بھی بڑی اذیت
ناک ثابت ہوتی
ہے۔ آج بشریٰ
کو سخت بخار
آگیا ۔ شام سےہی
اسےہلکا ہلکا
بخار تھا ۔ آدھی
رات کےبعد بخار
کی شدت بڑھ گئی
اور اب وہ تپ
رہی ہے۔ اس کا
اسکول جانا بھی
ضروری ہی۔ انسپکشن
جو ہے۔ ایک مہینہ
اگر وہ اسکول
نہ جائےتو چل
سکتا ہےلیکن
انسپکشن کےدن
نہ جائےیہ کیسےممکن
ہے؟
ایک
محاورہ ہےاس
دن تو بسترِ مرگ
سےاٹھ کر بھی
اسکول آنا ضروری
ہے۔ وہ کئی سالوں
سےکوشش کررہی
ہےکہ اسےبھیونڈی
کا کوئی ٹیچر
مل جائےجو اس
کےساتھ میچول
کرلی۔ اور اسےروزانہ
کےاس پل صراط
کےسفر سےنجات
مل جائے۔ چاہےاس
میں اسےتنخواہ
میں نقصان سہنا
پڑے۔ لیکن آج
تک یہ ممکن نہیں
ہوسکا ہی۔ اس
کی طرح کئی ٹیچر
ممبئی پڑھانےجاتےہیں
۔ اور ممبئی
سےٹیچر پڑھانےکےلئےبھیونڈی
آتےہیں ۔
سب
کےمسائل ایک
ہیں ۔ لیکن کوئی
بھی اسےایسا
ہم خیال نہیں
ملتا جواس اذیت
سےدونوں کو نجات
دےدے۔ گھر بال
بچےشوہر بھیونڈی
میں ہیں نوکری
کےلئےممبئی
جانا پڑتا ہے۔
جب تک شادی نہیں
ہوئی تھی کوئی
مسئلہ نہیں تھا
یہ سفر کسی تکلیف
کا باعث نہیں
تھا ۔ ہر دن ایک
نیا تجربہ اور
ایک نیا ایڈونچر
ہوتا تھا ۔شادی
کےبعد بھی کوئی
مسئلہ نہیں پیدا
ہوا ۔ صرف جلد
گھر پہونچ کر
شوہر کو دیکھنےکی
ایک خواہش دل
میں انگڑائیاں
لیتی رہتی تھی
۔ لیکن اس کےبعد
بچےآگئےاور
مسائل بڑھتےگئے۔
گھر
میں کوئی بھی
نہیں تھا جن
کےبھروسےبچوں
کو چھوڑ کر مطمئن
ہوکر ڈیوٹی پر
جاسکے۔ سب کچھ
نوکروں کےسہارےاور
ان کےبھروسےکرنا
پڑتا تھا پتہ
نہیں نوکر بچوں
کا اچھی طرح
خیال رکھتےبھی
ہوں گےیا نہیں
۔ بس یہی سوال
ہر لمحہ ذہن کو
کچوکتا رہتا
تھا ۔ کئی بار
تو دل میں آیا
نوکری چھوڑ دے۔
میاں بیوی میں
مشورہ بھی ہوا
لیکن یہ فیصلہ
جذباتی فیصلہ
ثابت ہوا ۔ جب
سامنےحقیقت
کی آہنی دیواریں
آئیں تو یہ فیصلہ
اس سےٹکرا کر
پاش پاش ہوگیا
۔ ابھی ابھی نیا
گھر لیا تھا ۔
طارق
کی آدھی سےزیادہ
تنخواہ فلیٹ
کےلئےقرض کےہفتوں
کی ادائیگی میں
صرف ہوجاتی تھی
۔ قلیل آمدنی
کےسہارےبھیونڈی
جیسےمہنگےشہر
میں زندہ رہنا
بھی ہر چیز کےلےترس
ترس کر روز مرنا
تھا ۔ اس لئےنوکری
بھی ضروری تھی
۔ اور اس نوکری
کےلئےروزانہ
اذیت کا سفر بھی
ضروری تھا ۔
بچےبخار میں
تپ رہےتھےلیکن
پھر بھی اسکول
جانا ضروری ۔
گھر پہنچنےکی
جلدی لیکن ایسےحالات
پیدا ہوگئےکہ
معمول سےدو چار
گھنٹےلیٹ پہونچنا
پڑے۔
روزانہ
وقت پر اسکول
جانا ہوجاتا
تھا ۔ ایک آدھ
بار بس یا ٹرین
دیر سےچلنےکی
وجہ سےاسکول
پہونچنےمیں
تاخیر ہوگئی
اور اسی دن کسی
آفیسر نےاسکول
کا دورہ کیا ۔
اور ہاتھ میں
دیری سےاسکول
آنےکا میمو آگیا
۔ رکشا میں بیٹھی
تو ذہن میں بشریٰ
کی بیماری کےساتھ
انسپکشن ہونےکی
وجہ سےجلد یا
وقت پر اسکول
پہونچنےکا خیال
بھی تھا ۔ وقت
پر بس بھی مل
گئی اور بیٹھنےکےلئےجگہ
بھی ۔ لیکن راستےمیں
بس ڈرائیور ایک
ٹرک والےسےالجھ
گیا ۔ ان کےجھگڑےمیں
پندرہ منٹ دیر
ہوگئی ۔ تھانےاسٹیشن
پر آئی تو تیز
لوکل نکل چکی
تھی ۔ دھیمی
ٹرین دس منٹ دیر
سےآئی ۔ اسکول
پہونچی تو
پورےآدھےگھنٹےتاخیر
ہوگئی تھی ۔
ایجوکیشن
آفیسر آچکا تھا
اور انسپکشن
شروع ہوچکا تھا
۔ ” مسز مومن !
آپ
کو شرم آنی چاہیئے۔
آپ آدھا گھنٹہ
لیٹ اسکول آئی
ہیں ۔ اس سےتو
یہی محسوس ہوتا
ہےآپ انسپکشن
کےدن لیٹ آئی
ہیں تو روزانہ
تو کئی گھنٹےلیٹ
آتی ہوں گی ۔ آپ
اس طرح لیٹ اسکول
آکر بچوں کا
کتنا نقصان
کررہی ہیں آپ
کو احساس ہے؟
سرکار آپ کو
تنخواہ کس لئےدیتی
ہے؟ “ آفیسر کا
لیکچر سننا پڑا
تھا ۔ اور اپنی
بےبسی پر اس کی
آنکھوں میں آنسو
آگئے۔ وہ کیا
جواب دےاس کی
کچھ سمجھ میں
نہیں آرہا تھا
۔ دن بھر انسپکشن
چلتا رہا لیکن
اس کا ذہن بشریٰ
میں الجھا رہا
۔ پتہ نہیں کیسی
ہوگی ؟ بارہ
بجےکےقریب ایک
شناسا نےآکر
خبر دی کہ بھیونڈی
سےطارق کا فون
آیا ہےکہہ رہےہیں
کہ تم فوراً
آجاو
¿
بشریٰ
کی طبیعت بہت
خراب ہے۔
اس
نےطارق کو ایک
شناسا کا نمبر
دےرکھا تھا تاکہ
اگر اسےکوئی
ضروری پیغام
دینا ہو تو وہاں
رابطہ قائم کرے۔
وہ لوگ بھی اسےفوراً
مطلع کردیتےتھے۔
وہ فوراً اسکول
سےنکل گئی ۔
اسٹیشن آکر لوکل
میں بیٹھی اور
لوکل چل دی ۔
لیکن تھوڑی دور
جاکر رک گئی ۔
کسی
لیڈر پر حملہ
ہوا تھا ۔ اس
کےخلاف احتجاج
کرکےلوگوں
نےٹرین سروس
بند کردی تھی
احتجاج کرنےوالوں
کو پولس کو پٹریوں
سےہٹانےمیں
دو گھنٹےلگ
گئےاس کےبعد
ٹرین چلی ۔
تھانےسےاسپیشل
رکشا کرکےوہ
گھر آئی تو پتہ
چلا بشریٰ کو
اسپتال میں داخل
کیا گیا ۔ اسپتال
میں پلنگ پہ
بشریٰ بےہوش
لیٹی تھی اس
کےہاتھ میں
سرِنج لگی ہوئی
تھی اس سےقطرہ
قطرہ دوائی ٹپک
کر نلی کےذریعہ
اس کےجسم میں
جارہی تھی ۔
”
بخار
بہت بڑھ گیا تھا
اس لئےایڈمٹ
کرنا پڑا ۔ “
طارق نےبتایاتو
وہ اچانک پھوٹ
پھوٹ کر رونےلگی
۔ یہ سوچ کر کہ
مرنےکےبعد تو
انسان کو صرف
ایک پُل صراط
سےگزرنا ہوگا
۔ لیکن جیتےجی
اسےکتنےپُل
صراط سےگزرنا
پڑتا ہے؟
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ (
مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09322338918) )
Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short tStory about common man's suffiring