
افسانہ
پارس
از:۔ایم مبین
کشن
گرام پنچایت
کےباہر ہی مل
گیا ۔
”
کیا
ہوا ‘ کیا کام
ہوگیا ۔ “
”
نہیں
سیٹھ “ کشن نےمایوسی
سےکہا ۔ ” سیکریٹری
بہت حرامی ہے۔
وہ اس طرح کا
سرٹیفکیٹ دینےکےلئےدو
ہزار روپےمانگ
رہا ہے۔ ہزاروں
قانون بتا رہا
ہے۔ جس کا کوئی
وجود نہیں ہے۔
آپ بےکار ہی ان
باتوں کےلئےپریشان
ہورہےہیں ۔
اپنےکھیت میں
کنواں کھودنےکےلئےگرام
پنچایت یا کہیں
سےبھی کسی اجازت
نامےکی ضرورت
نہیں پڑتی ہے۔
میری زندگی گذر
گئی میری آنکھوں
کےسامنےہزاروں
کنویں اس گاو
¿ں میں اور دوسرےگاو
¿ں
میں کھودےگئےہیں
لیکن انہوں نےتو
کبھی کنواں
کھودنےکےلےگرام
پنچایت سےاجازت
نامہ نہیں لیا
۔ آپ کام شروع
کردیجئے۔ اگر
کسی نےٹانگ
اڑانےکی کوشش
کی تو اس کی ٹانگ
توڑ دوں گا ۔
“
آخر
میں کشن کا چہرہ
غصےسےلال ہوگیا
۔
”
کشن
یہ تو میں بھی
جانتا ہوں کہ
اپنی زمین میں
کنواں کھودنےکےلئےکسی
سےبھی کسی قسم
کےاجازت نامےکی
ضرورت نہیں پڑتی
ہے۔ “ میں
نےاسےسمجھاتےہوئےکہا
۔ ” لیکن میں اس
کنویں کو کھودنےکےلئےبینک
سےقرض لےرہا
ہوں ۔ اور اس
قرض کو حاصل
کرنےکےلئےبینک
کو گرام پنچایت
کی طرف سےاس طرح
کا تحریر نامہ
دینا بہت ضروری
ہےکہ اس کنویں
کی کھدائی پر
گرام پنچایت
کو کوئی اعتراض
نہیں ہے۔ بس اسی
لئےوہ داخلہ
حاصل کرنا چاہتا
ہوں ۔ “
”
وہ
حرامی جانتا
ہوگا کہ اس قسم
کا سرٹیفکیٹ
بینک لون کےلئےلگتا
ہے۔ اسی لئےدو
ہزار مانگ رہا
ہے۔ “ کشن دانت
پیس کر بولا ۔
” نیچ ذات کا جو
ہے۔ “ ” کیا مطلب
؟ “ میں کشن کا
چہرہ تاکنےلگا
۔
”
ان
باتوں کو آپ
نہیں سمجھ سکیں
گے۔ کیونکہ آپ
کےیہاں ذات پات
کا کوئی رواج
نہیں ہے۔ “ کشن
بولا ۔ ” سرکار
نےان لوگوں کو
ذات کےنام پر
سینکڑوں سہولتیں
دےرکھی ہیں ۔
اب دیکھئےنہ
پتہ نہیں کس طرح
یہ طےہےکہ اس
گاو
¿ں
کا کوئی سیکریٹری
کوئی پس ماندہ
ذات سےتعلق
رکھنےوالا ہونا
چاہئیے۔ اور
اسےیہ نوکری
مل گئی قابلیت
کےنام پر وہ صرف
میٹرک پاس ہے۔
میں اس کےسارےخاندان
سےواقف ہوں اس
کا باپ در درکی
بھیک مانگتا
تھا ۔ آج ریزرویشن
کی وجہ سےان کو
بڑےبڑےعہدےمل
گئےہیں تو اپنی
اوقات بھول
گئےہیں ۔ ارےبڑا
عہدہ مل جانےسےکوئی
ذات تھوڑی بدل
جاتی ہے۔
”
اب
کشن !
چھوڑو
ان باتوں کو ۔
“ میں نےموضوع
بدلنےکےلئےکہا
۔ ” اس کےلئےکوئی
دوسرا راستہ
نکالتےہیں ۔
آو
¿
چلو
کھیت پر چلیں
۔ “
ہم
دونوں کھیت کی
طرف چل دئے۔
اچانک
راستےمیں پوپٹ
مل گیا ۔
مجھےدیکھتےہی
پوپٹ حیرت میں
پڑ گیا ۔ او رمیں
اپنےسر پر ہاتھ
پھیرنےلگا کہ
یہ مصیبت کہاں
مل گئی ۔
”
ارےاقبال
سیٹھ !
آپ
یہاں کہاں ؟ “
”
اس
گاو
¿ں
میں ایک کھیت
لیا ہے۔ کبھی
کبھی اس لئےاس
طرف آجاتا ہوں
۔ “ میں نےبیزاری
سےجواب دیا ۔
”
ارےاقبال
سیٹھ !
یہ
گاو
¿ں دھنیہ ہوگیا جو آپ نےاس گاو
¿ں
میں اپنا کھیت
لےلیا ۔ “ پھر
وہ کشن کی طرف
مُڑ کر بولا ۔
” کشن !
اقبال
سیٹھ جیسا ہیرا
آدمی اس دنیا
میں ڈھونڈنےسےنہیں
ملےگا ارےیہ
دل کےراجہ ہیں
۔ آج تک کوئی ان
کےدر سےخالی
ہاتھ نہیں گیا
۔ “
اس
نےاپنےروایتی
انداز میں کہنا
شروع کیا ۔
میں
سمجھ نہیں سکا
کہ وہ اس وقت
شراب کےنشےمیں
ہےیا پھر پورےہوش
و حواس میں ہے۔
کبھی کبھی
میرےلئےاسےپہچاننا
بہت مشکل ہوجاتا
تھا ۔ کہ اس نےشراب
پی رکھی ہےیا
نہیں ۔
کیونکہ
وہ شراب کےنشےمیں
بھی اسی طرح کی
باتیں کرتا تھا
جس طرح کی باتیں
ہوش میں کیا
کرتا تھا ۔
”
سیٹھ
!
آپ
کیا اسےپہچانتےہیں
۔ “ کشن آکر میرےکانوں
میں بدبدایا
۔ ” میں اسےبرسوں
سےجانتا ہوں
۔ “ میں نےجواب
دیا ۔ ” کیوں
کیا بات ہے؟ “
” اس کا بیٹا
گرام پنچایت
کا سیکریٹری
ہےجو اس معمولی
سرٹیفکیٹ کےلئےہم
سےدو ہزار روپےمانگ
رہا ہے۔ “ کشن
بولا
”
کیا
کہتےہو ؟ “ میں
حیرت میں پڑ گیا
۔ ” کیا پوپٹ کا
لڑکا گرام پنچایت
کا سیکریٹری
ہے؟ “
”
ہاں
!
“ کشن
نےجواب دیا ۔
”
کیا
بات ہےاقبال
سیٹھ !
آپ
کیا باتیں کررہےہیں
؟ “ پوپٹ نےپوچھا
۔
”
پوپٹ
تمہارا بیٹا
کیا اس گاو
¿ں کی گرام پنچایت کا سیکریٹری ہے؟ “ میں نےپوچھا ۔ ” ہاں سیٹھ ! آپ کی دعاو
¿ں سےمیرےدن بدل گئےہیں ۔ ایک لڑکا اس گاو
¿ں
کی گرام پنچایت
کا سیکریٹری
ہے‘ ایک لڑکا
پولس انسپکٹر
بن گیا ہے‘ ایک
لڑکی بینک میں
کام کرتی ہےاور
ایک لڑکا نائب
تحصیلدار ہے۔
“
”
پوپٹ
کیا کہہ رہےہو
تم ؟ “ میں حیرت
سےاسےدیکھنےلگا
۔
”
ہاں
سیٹھ !
اب
میں پرانا والا
پوپٹ نہیں ہوں
۔ جو ایک ایک دو
دو روپیوں کےلئےآپ
کو گھنٹوں تنگ
کیا کرتا تھا
۔ بھگوان کےدئےسےاب
میرےپاس اتنا
ہےکہ آج میرےجیسےکئی
لوگوں کی روزانہ
آپ کی طرح مدد
کرتا ہوں ۔ “
پوپٹ کہنےلگا
۔ ”ابھی گذشتہ
سال پچاس ایکڑ
کھیت لیا ہے۔
اس کھیت میں
رہنےکےلئےایک
بنگلہ بنایا
ہے۔ کھیت جوتنےکےلئےخود
کا ٹریکٹر ہے۔
دونوں لڑکوں
کےپاس موٹر
سائیکل ہے۔ گھر
میں رنگین ٹی
وی اور خود کا
ڈش انٹینا ہے۔
آج کیا نہیں
ہےمیرےپاس ۔
“ وہ بتانےلگا
تو میں حیرت
سےاس کا منہ
تکنےلگا ۔
کل
تک ایک ایک
پیسےکےلئےمحتاج
رہنےوالا یہ
پوپٹ آج اتنا
صاحب حیثیت بن
گیا ہےمجھےیقین
نہیں آرہا تھا
۔
میری
آنکھوں کےسامنےوہ
پوپٹ گھوم رہا
تھا جو ایک ایک
روپیہ کےلئےمجھےگھنٹوں
تنگ کیا کرتا
تھا ۔
کالج
کا زمانہ تھا
۔
پڑھائی
کےلئےمیں نےگھر
سےقریب ایک کمرہ
لےرکھا تھا ۔
اس کمرےمیں کالج
سےآنےکےبعد
میں پڑھائی کرتا
تھا ۔ اخبارات
و رسائل کا مطالعہ
کرتا اور لکھتا
رہتا تھا ۔ وہ
کمرہ میرےدوستوں
کا اڈا بھی تھا
۔
کالج
سےآنےکےبعد
تمام دوست اس
جگہ جمع ہوجاتےتھےاور
گپ شپ چلتی تھی
۔ کبھی تاش کھیل
رہےہیں تو کبھی
شطرنج کی بازی
لگی ہے۔ کبھی
ریڈیو سےفلمی
گیت سنےجارہےہیں
۔ کہیں اگر ٹسٹ
میچ یا ون ڈےانٹرنیشنل
ہورہا ہےتو
میرےاس کمرےمیں
میلہ لگا رہتا
تھا۔ ریڈیو
سےنشر ہونےوالی
کامینٹری سننےکےلئےاور
کبھی کبھی صرف
اسکور جاننےکےلئےدور
دور سےلوگ وہاں
آتےتھے۔ آدھی
رات تک اس جگہ
میلہ لگا رہتا
تھا ۔
میں
تو وہیں سوتا
تھا ۔ میرےکئی
دوست ایسےتھےجو
مستقلاً میرےساتھ
اسی کمرےمیں
سوتےتھے۔ کبھی
کبھی کسی کےگھر
مہمان آجاتےتھےتو
مہمان بھی اسی
کمرےمیں آکر
سوتےتھے۔ مٹی
کی دیواروں والا
کمرہ تھا جس کی
دیواریں بڑی
پیچ و خم والی
تھیں ۔ کہیں
سےابھری ہوئی
تو کہیں سےاند
ر گئی ۔ فرش بھی
مٹی کا تھا ۔
وہاں اتنےلوگوں
کی آمد و رفت
رہتی تھی کہ وہ
بار بار اکھڑ
جاتا تھا اور
پورےکمرےمیں
مٹی ہی مٹی رہتی
تھی ۔ ہر سال
بارش میں بھیگنےکےکےبعد
کمرےکی دیوار
کا کوئی نہ کوئی
کونا ضرور گرجاتا
تھا ۔ سال بھر
اس کمرےکی مرمت
کی ضرورت محسوس
ہوتی تھی اور
مرمت ہوتی رہتی
تھی ۔ بارش میں
گیلا ہونےکےبعد
دروازےکےپاس
والی دیوار کا
ایک حصہ گرگیا
تھا اور اس کی
مرمت کی ضرورت
تھی ۔ اس کی مرمت
کےلئےپہلی بار
میرےبڑےبھائی
نےپویٹ کو میرےپاس
لایا تھا ۔ بھائی
کی اس طرح کےلوگوں
سےکافی جان
پہچان تھی ۔
پوپٹ سےبھی شاید
کافی پہلےسےجان
پہچان تھی ۔ جس
کام کےلئےپوپٹ
کو میرےپاس لایا
گیا تھا اس کام
کو انجام دینےکےلئےپوپٹ
کافی مناسب
داموں میں تیار
ہوگیا تھا۔
مٹی
کی اینٹیں بنانی
تھیں ۔ انہیں
سوکھنےکےبعد
ان ہی اینٹوں
سےدیوار بنانی
تھی اور پھر اسی
دیوار کا پلاسٹر
بھی کرنا تھا
۔ کام دو تین
دنوں کا تھا ۔
مجھےاس کام
کےلئےگھر سےکوئی
اعانت ملنےوالی
نہیں تھی اسےاپنی
جیب خرچ سےانجام
دینا تھا ۔ بیس
روپےمیں پوپٹ
وہ کام کرنےکےلئےتیار
ہوا تھا ۔
پہلےدن
اس نےاینٹیں
بنائیں ۔ ان
اینٹوں کو
بنانےکےلئےاس
نےگٹر کا پانی
استعمال کیا
۔ گٹر کا پانی
استعمال کرنےپر
میں نےسخت اعتراض
کیا لیکن ان
دنوں پینےکےلئےپانی
ملنا مشکل تھا
تو بھلا اینٹیں
بنانےکےلئےپانی
کہاں سےمل سکتا
تھا ؟
شام
کو کام پورا
کرنےکےبعد اس
نےاپنی مزدوری
کےسات روپےمانگےجو
میں نےخوشی خوشی
دےدئے۔ اس کےبعد
وہ مجھ سےایک
روپیہ خوشی
سےدینےکی ضد
کرنےلگا ۔ میں
نےانکار کیا
تو وہ میری منت
سماجت کرنےلگا
۔
”
اقبال
سیٹھ !
بہت
تھک گیا ہوں ۔
ایک روپیہ کی
پی لوں گا تو
تھکن اتر جائےگی۔
“
آخر
پیچھا چھڑانےکےلئےمجھےایک
روپیہ دینا پڑا
۔
بقیہ
دودنوں میں اس
نےدیوار بنا
ڈالی اور ہر دن
انعام کےطور
پر منت سماجت
کرکےمجھ سےایک
روپیہ لےجاتا
۔ اس کےبعد میرےپاس
آنا اس کا معمول
بن گیا ۔ جس دن
اسےکام نہیں
ہوتا وہ میرےپاس
آتا ۔
”
سیٹھ
!
چائےپلائیے۔
“
وہ
جب بار بار ضد
کرنےلگتا تو
میں اسےچائےلانےکےلئےکہتا
وہ ہوٹل جاکر
خود اپنےلئےاور
میرےلئےچائےلاتا
اور چائےپی کر
کہیں چلا جاتا
۔ لیکن شام کو
پھر نازل ہوجاتا
۔ اور اس کا ایک
روپیہ یا دو
روپیہ کا سوال
ہوتا تھا ۔
”
سیٹھ
!
آج
کوئی کام نہیں
ملا ۔ واپس گاو
¿ں
جانا ہے۔ سائیکل
کےکرائےکےلئےایک
روپیہ دیجئے۔
“
”
سیٹھ
!
دو
روپیہ دےدیجئے۔
دال سبزی تیل
وغیرہ لےکر جاو
¿ں
۔ آج کوئی کام
نہیں ملا ۔ خالی
ہاتھ گیا تو
بچےبھوکےپیٹ
سوجائیں گے۔
“
”
سیٹھ
!
بہت
تھک گیا ہوں
شراب پینےکےلئےایک
روپیہ دےدیجئے۔
“
پیسوں
کےلئےوہ مجھےاتنا
تنگ کرتا تھا
اور ایسی ایسی
منت سماجت اور
حرکتیں کرتا
تھا کہ مجھےاسےپیسےدےکر
پیچھا چھڑانےمیں
ہی عافیت نظر
آتی تھی ۔
میری
اماں سےبھی اس
نےخاصی جان
پہچان بنا لی
تھی ۔ جس دن وہ
کھانےکےلئےکچھ
نہیں لاتا تھا
سیدھا اماں
کےپاس پہنچ جاتا
تھا ۔ ” ماں !
آج
کھانےکےلئےکچھ
نہیں لایا ہوں
کچھ کھانےکےلئےہو
تو دےدیں ۔ “
اماں اسےکھانےکےلئےدےدیتی
تھیں ۔ بدلےمیں
وہ اماں کےچھوٹےموٹےکام
کردیا کرتا تھا
۔
میری
اماں کو جتنا
اس سےانسیت تھی
میرےابا کو اس
سےاتنی ہی سخت
چِڑھ تھی کہ
اسےدیکھتےہی
وہ چراغ پا ہوجاتےتھے۔
” تُو یہاں کیوں
آیا ہے‘ چل باہر
نکل ۔ “
اور
وہ ہنس کر ٹال
دیتا تھا ۔ کبھی
کبھی تو عضےمیں
ابا اسےگالیاں
بھی دےدیتےتھے۔
لیکن وہ ان کا
کبھی برا
نہیں
مانتا تھا ۔
اکثر ایسا ہوا
کہ ابا نےاس
سےکو ئی کام
کرنےکےلئےکہا
اور اس نےکام
بگاڑ دیا تو اس
کےبعد وہ کئی
دنوں تک ابا
کےعتاب کا شکار
رہتا تھا ۔
اسےدیکھتےہی
ابا اس پر برس
پڑتےتھےاور
وہ ہنستا رہتا
تھا ۔
”
اقبال
سیٹھ !
ابا
کو سمجھائیے۔
ایک بار غلطی
ہوگئی بار بار
نہیں ہوگی ۔ “
اس
کی بیوی کھیتوں
میں کام کرتی
تھی ۔ اس کےتین
بیٹےاور دو
بیٹیاں تھیں
سب بچےاسکول
جاتےتھے۔ وہ
ان کو باقاعدگی
سےاسکول بھیجتا
تھا ۔
”
سیٹھ
!
بچےپڑھنےمیں
سب تمہاری طرح
ہی ہیں ۔ بہت
پڑھتےہیں اور
اچھا پڑھتےہیں
۔ “ وہ بچوں کی
تعلیم کےمعاملےمیں
کبھی کوئی کوتاہی
نہیں کرتا تھا
۔ اکثر آکر مجھےبتاتا
رہتا تھا ۔
”
سیٹھ
!
لڑکےنےایک
کتاب مانگی تھی
آج کام کرنےسےجو
بھی مزدوری ملی
اسی سےکتاب لےلی
۔ “ بچوں نےکاپیاں
مانگی ہیں آج
کوئی کام ملا
تو ان کےلئےکاپیاں
خریدوں گا ۔ “
کوئی دن ایسا
نہیں گزرتا تھا
جس دن وہ شراب
نہیں پیتا تھا
۔ جہاں اسےکوئی
اچھا کام ملتا
تھا وہ شراب پی
کر میرےپاس آتا
تھا ۔ اور سائیکل
کےکرایےکےلئےمجھ
سےایک روپیہ
مانگتا تھا ۔
کبھی
کبھی وہ میرےدوستوں
کےلئےنشےکی
حالت میں کافی
دلچسپی کا سامان
بن جاتا تھا ۔
وہ اس سےطرح طرح
کی حرکتیں
کرواتےتھےاور
جب وہ ایسا کرتا
تو سب لطف اندوز
ہوتےتھے۔
ایک
دوبار وہ گھر
کےتانبےپیتل
کےبرتن فروخت
کرنےکےلئےلایا
۔ یہ دیکھ کر
میں اس پر غصہ
ہوگیا ۔
”
گھر
کےان برتنوں
کو بیچ کر کیا
شراب پیئےگا
؟ “
”
نہیں
سیٹھ !
“ وہ
عاجزی سےبولا
۔ بچوں کےامتحان
کی فیس بھرنی
ہے۔ میرےپاس
تو پیسےنہیں
ہیں اس لئےسوچا
ان برتنوں کےفروخت
کرنےسےاتنےپیسےتو
مل ہی جائیں
گےجن سےان کی
فیس ادا ہوجائےگی
۔ “
میرےپاس
بھی اتنےپیسےنہیں
تھےکہ میں اسےادھار
دےکر برتن بیچنےسےباز
رکھتا ویسےبھی
اس نےمجھ سےادھار
لئےروپےکبھی
واپس نہیں کئے۔
پھر
اس کےبعد تعلیم
مکمل کرنےکےبعد
میں نوکری کےسلسلےمیں
دوسرےشہر چلا
گیا اور اپنےشہر
سےرابطہ ٹوٹ
سا گیا ۔ سال چھ
مہینےمیں کبھی
ایک دو دنوں
کےلئےجانا ہوتا
تو وہ مل جاتا
اور ملتےہی
دعائیں دینےلگتا
۔
”
اقبال
سیٹھ !
تم
تھےتو بچوں کی
تعلیم کےسلسلےمیں
بہت سےمفید
مشورےملتےتھے۔
بچےتو اب بھی
پڑھ رہےہیں ۔
مگر ان کی تعلیم
میں تمہارےمشوروں
کی کمی ہے۔ “ اس
کےبعد وہ مجھ
سےپیسہ لینا
نہیں بھولتا
تھا ۔
اب
اس کی مانگ ایک
دو روپیہ سےبڑھ
کر دس روپےہوگئی
تھی ۔ اور دس
روپےدینا بھی
میرےلئےکوئی
مشکل کام نہیں
تھا ۔ میں اسےپیسہ
دیتا تھا لیکن
پہلےہی کی طرح
پریشان کرنےکےبعد
۔
اس
کےبعد کئی سالوں
تک میرا اپنےشہر
جانانہیں ہوا
۔ ملازمت اور
گھر کےجھمیلوں
میں بری طرح
پھنسا رہا ۔ کچھ
پیسہ جمع ہوا
تو سوچا اس سےکچھ
زمین خرید لوں
گا ۔
ایک
چھوٹا سا کھیت
اچھےداموں پر
مل گیا ۔ کھیتی
کرنا اتنا آسان
نہیں ہوتا ہے۔
ایک سال میں اس
کھیت میں کاشت
کرنی پرتی ہے۔
اس کےبعد ہی
کھیت نام پر
ہوتا ہےوہ کام
بھی ہوگیا کھیت
کی دیکھ بھال
کےلئےایک آدمی
کشن کو میں نےرکھ
لیا ۔
وہ
بڑی محنت سےکھیت
کی دیکھ بھال
کرتا تھا ۔ ویسےبھی
اس کھیت سےمجھےکسی
آمدنی کی توقع
تو نہیں تھی اس
کھیت کی آمدنی
اسی کھیت میں
لگتی رہےمیں
یہی چاہتا تھا
۔
کنواں
کھودنےکےلئےسرکار
سےقرض لینےکی
سوچی ۔ سرکار
اس طرح کےکاموں
پر کافی رقم
رعایتوں کےساتھ
قرض دیتی ہے۔
مجھےعلم تھا
۔ دوسرےتمام
کاغذات موجود
تھے۔ قرض پاس
کرانےکےلئےصرف
ایک کاغذ کی کمی
تھی ۔ جسےلانےکےلئےکشن
کو گرام پنچایت
بھیجا تھا ۔
مجھےمعلوم ہی
نہیں تھا کہ اس
گرام پنچایت
کا سیکریٹری
پوپٹ کا لڑکا
ہے۔ ورنہ یہ کام
بہت آسانی سےہوجاتا
تھا کیونکہ وہ
مجھےاچھی طرح
پہچانتا تھا
۔
اس
کام کےنا ہونےسےہم
مایوس ہوکر لوٹ
رہےتھےکہ راستےمیں
پوپٹ مل گیا ۔
اور میں اس کےبارےمیں
سوچنےلگا ۔ یہی
سوچتےسوچتےہم
کھیت تک آگئے۔
”
سیٹھ
!
کیا
سوچ رہےہیں ۔
“ پوپٹ نےمجھےٹوکا
۔
”
پوپٹ
پنجابا گھیور
!
“ میں
نےاس کا نام
دوہراتےہوئےکہا
۔ ” تُو تو بہت
بڑا آدمی بن گیا
رے۔ “
”
کیا
بڑا آدمی سیٹھ
؟ “ وہ بولا ۔ ”
میں تو آج بھی
آپ کےلئےوہی
پرانا پوپٹ ہوں
۔ بڑےآدمی کا
جہاں تک سوال
ہےسب اوپر والےکا
کرم اور سرکاری
سہولتوں کی
عنایت ہے۔ جو
میرا خاندان
اس مقام تک پہنچا
ہے۔ آپ تو جانتےہیں
ہمارا تعلق
نچلےطبقہ سےہےاور
پس ماندہ ذاتوں
کو سرکار نےریزرویشن
کی سہولت دےرکھی
ہے۔ اس کا فائدہ
میری اولاد کو
ملا ہے۔ ریزرو
سیٹ پر میرےدو
لڑکےپولس سب
انسپکٹر اور
نائب تحصیلدار
بن گئےاسی سہولت
کی وجہ سےلڑکی
کو بینک میں
نوکری مل گئی
ہےاور اسی سہولت
کا فائدہ اٹھاتےہوئےایک
لڑکا اس گرام
پنچایت کا سیکریٹری
بن گیا ہےاور
تو اور سیٹھ !
مجھےایک
پارٹی الیکش
ٹکٹ بھی دےرہی
ہےمیں جس گاو
¿ں میں رہتا ہوں اس حلقہ میں ضلع پریشد کی سیٹ ریزرو ہےاور اس سیٹ سےالیکشن لڑنےکےلئےایک اعلیٰ ذات کاامیدوار پارٹی کےپاس نہیں ہے۔ میں اس پارٹی کا ممبر ہوں اس لئےاس بار انہوں نےمجھےٹکٹ دینےکا فیصلہ کیا ہےمیں الیکشن جیت جاو
¿ں
گا ۔ ایک سال
کےلئےسبھا پتی
پس ماندہ ذات
والوں کو بنانا
ضروری ہےوہ
پارٹی تن من دھن
کی بازی لگادےگی
۔ “
وہ
بتانےلگا اور
میں حیرت سےاسےدیکھنےلگا
۔
ایک
معمولی آدمی
اتنا بڑا اور
اہم آدمی بن
جائےگا اور اتنی
ترقی کرجائےگا
میں نےتو خواب
میں بھی نہیں
سوچا تھا ۔ آج
اس کی ذات کو
ملنےوالی سہولتوں
کی وجہ سےاس
کےتمام بچےاچھےعہدوں
پر فائز ہیں ۔
اب یہ دیگر بات
ہےکہ وہ ان عہدوں
کےقابل ہیں یا
نہیں یا ان سےزیادہ
قابل لوگ ان
عہدوں اور ان
سےچھوٹی چھوٹی
نوکریوں کےلئےدر
در بھٹک رہےہیں
۔
”
پوپٹ
!
میرا
ایک چھوٹا سا
کام کردو ۔ “
”
بولو
سیٹھ !
“ وہ
سعادت مندی
سےبولا ۔ تو میں
نےاسےکام بتایا
۔
”
ابھی
لو سیٹھ !
ابھی
جاکر وہ سرٹیفکیٹ
لےکر آتا ہوں
۔ اس کمینےنےآپ
کےاتنےسےکام
کےلئےآپ سےاتنےپیسےمانگے؟
ابھی اسےمزہ
چکھاتا ہوں ۔
لیکن سیٹھ !
اس
کی غلطی نہیں
ہی۔ اسےمعلوم
نہیں ہوگا کہ
یہ اقبال سیٹھ
کا کام ہے۔ “
آدھےگھنٹےکےاندر
وہ سرٹیفکیٹ
لےآیا ۔
اس
کی لڑکی اسی
بینک میں کام
کرتی تھی جہاں
مجھےکنواں
کھودنےکےلئےقرض
پاس کروانا تھا
۔ اس کی وجہ سےایک
دن میں میرا وہ
کام بھی ہوکر
پیسہ بھی مل گیا
۔ اس کےعلاوہ
اس کا ایک بیٹا
جو تحصیلدار
تھا ۔ اس نےمیری
زمین کےلئےکئی
سرکاری سہولتیں
بھی دےدیں ۔
میں
خواب میں بھی
نہیں سوچ سکتا
تھا کہ کبھی
پوپٹ میرےاتنےکام
آئےگا ۔ سارےکام
ہوجانےکےبعد
وہ اس دن بھی
شراب پینےکےلئےمجھ
سےدس روپےلینا
نہیں بھولا ۔
جسےہر
کوئی پتھر سمجھتا
تھا ۔ کبھی اس
طرح سےپارس بن
جائےگا کسی
نےخواب میں بھی
نہیں سوچا تھا
۔
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ(
مہاراشٹر)
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ (
مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09322338918) )
Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short tStory about common man's suffiring