عام آدمی سےڈائریکٹ ایپروچ کی کہانیاں
م ۔ ناگ
ممبئی
ہمارےیہاں افسانوں کی
تنقید دو طرح کےناقدین کرتےہیں ۔ ایک وہ جو افسانہ نگار نہیں ہیں اور ایک وہ جو
افسانہ نگار ہیں ۔ افسانہ نگار نہ ہوتےہوئےافسانوں پر تنقید کرنےوالےلوگ آج بھی
حالی کےتنقیدی سانچےسےنکل نہیں پائےہیں ۔ ( یا نکلتےبھی ہیں تو کسی نہ کسی بیرونی
تنقیدی سانچےمیں ملوث پائےجاتےہیں ۔ جبکہ افسانہ نگار احباب کےتبصرےاپنےہم عصروں پر
اسٹیریو ٹائپ ہوکر رہ گئےہیں ۔ ( وہ افسانہ نگار سےاتنےقریب ہوتےہیںکہ” دور کی کوڑی
“ نہیں لاتے۔ ) ان کو ا عتبار پھر بھی حاصل نہیں ہوسکا ہے۔
ایک تو ہمارےافسانوں کی تنقید کا یہ المیہ ہےکہ ناقدین نےوہی ٹیپ میجر اور ترازو
اٹھالئےہیں جو شاعری کےوقت ان کےہاتھوں میں ہوتےیا بندر بانٹ کی طرح ترقی پسندی
کےدور کےکچھ افسانےیا وہ کلاسیکل کہانیاں جو آج بھی انہیںہا نٹ کرتی ہیں ۔ ان کےپیش
ِ نظر ہوتی ہیں ۔ ان مثالوں کو سامنےرکھ کر حسابی انداز میں افسانوں کو
ناپنےتولنےکا یہ رویّہ ایک طرف افسانےکی تنقید کو نقصان پہنچا رہا ہےدوسری طرف
نئےافسانہ نگاروں کا اعتبار بھی ختم کررہا ہے۔ یہ رویّہ کہ ہم عصر ،اپنےآس پاس
کےافسانہ نگاروں پر تنقید کریں، مگر بات نہیں بنی ۔ دھند اتنی گاڑھی ہوتی ہےکہ تیر
صحیح نشانےپر نہیں لگتا اور گھائل شکار بغیر پانی مانگےڈھیر ہوجاتا ہے۔ لا محالہ ہم
ایسےلوگوں کی تنقید پر تکیہ کرنےلگتےہیں ۔ جنہوں نےشاعری کی تنقید میں
کارہائےنمایاں انجام دئےہیں ۔
کھلی آنکھ سےدیکھیں تو پتہ چلتا ہےکہ ادھر جو نئےافسانہ نگار متعارف ہوئےہیں ان میں
ایک نیا زاویہ ابھر کر آیا ہے، وہ ہے زندگی کو نئےانداز میں برتنےکا ‘ زندگی
کےگوناگوں نئےپرانےرنگوں کو نئی عینک سےدیکھ کر صحیح رویوں کو پہچاننےکا اور شخصی و
سماجی تناظر میں دنیا اور زندگی ‘ قدرت اور سائنس کےانسلاک و سروکار کا ۔ ہمارا
افسانہ تکنیکی میدان میں ہمیشہ سےخوشحال رہا ہے۔ اس سےمستفید ہوتےیہ افسانہ نگار
اپنےجلو میں نئی تازہ کاری اور بو قلمونی کا مظاہرہ کر رہےہیں ‘ جس کا استقبال کیا
جانا چاہئیے۔ آج افسانےکی کوئی تحریک زندہ نہیں ہےاور تنقید بھی کم و بیش گمراہ کن
ہےلیکن افسانےمضبوط و پر اثر ہیں ۔
ایم ۔ مبین کی کہانیاں سچائیوں سےہم کلام کراتی ہیں ۔ صرف تلخیوں کےساتھ نہیں بلکہ
اس میں ایک انسانی نقطہ ¿ نظر بھی جھلکتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں سوچ و فکر
کےگہرےسمندر میں ڈبکی لگانےپر مجبور بھی کرتی ہیں ۔ ان کہانیوں میں ایم ۔ مبین
نےزندگی کےمختلف سیاق و سباق کو کامیابی کےساتھ پیش کرنےکوشش کی ہے۔
کون سی کہانی اہم یا دیرپا تاثر چھوڑنےوالی ہےاس سےقطع نظر اگر ہم یہ دیکھیں کہ ایم
۔ مبین کےکردار کہانیوں میں کہاں صحیح اور غلط ہیں ؟ وہ سماج کےساتھ یا سماج ان
کےساتھ کس طرح کا برتاو¿ کرتا ہے؟‘ تو بےجا نہ ہوگا ۔
مسرت اس بات کی ہےکہ ایم ۔ مبین کی کہانیوں میں کسی قسم کی لڑکھڑاہٹ کو چھپانےکےلئے”
دھند “ کا استعمال نہیں کیا گیا ۔ نہ ان میں رمزیت اور بین السطور میں کرتب بازی کی
گئی ہی۔ علامت اور تجریدیت سےپرےیہ کہانیاں عام آدمی کےگرد گھومتی ہیں ۔ انہیں عام
آدمی کےمسائل کی کہانیاں کہنا نامناسب ہوگا ۔ وہ آج ان مسائل سےکس طرح جوجھ رہےہیں
۔ کبھی ہارتےہیں کبھی اپنا ضمیر بیچ بھی دیتےہیں ‘ کبھی ضمیر کےبل بوتےپر اپنےآپ کو
فاتح بھی سمجھتےہیں ۔ کبھی سرینڈر بھی ہوجاتےہیں ‘ کبھی سرخرو ہو کر فتح مندی کا
پرچم لہراتےہیں ۔
ایک بڑی بات یہ ہےکہ اپنےکرداروں کےمنھ میں بھی افسانہ نگار نےاپنی زبان نہیں دی
ہےاور نہ ہی کہیں وہ کرداروں کےبیچ آیا ہے۔ ایسا لگتا ہےجیسےافسانہ نگار نہیں ہے۔
اور جو کچھ ہےوہ کردار واقعات ، مسائل ، دکھ درد ہی ہیں ۔ مجموعی اعتبار سےہی ایم ۔
مبین کی کہانیوں کو پرکھنا مناسب ہوگا ۔ ان کےکردار کبھی پولس سےنبرد آزما ہیں ‘ (
رھائی ‘ دہشت ‘ حوادث اور عذاب کی ایک رات ) کبھی زمین کےمافیا اور بستی کےغنڈوں
سےدو دو ہاتھ کرتےہیں ۔ ( بلندی ‘ ایک اور کہانی‘ حوادث اور نقب ) کہانی ” چھت “
میں بنیادی ضروریات کےدستیاب نہ ہونےپر زندگی کی پریشانیوں کی بات ہے۔
آج کےگاو¿ں پر ایم مبین کی دو کہانیاں ہیں ۔ ” دیوتا © ©“ اور ” پارس “ ۔ ان دو
کہانیوں میں ”دیوتا“ کےآدرش کافی عظیم ہیں ۔ جبکہ ایک عام دیہاتی کو کنواں
کھدوانےمیں جو تکلیف اور پریشانیاں ہوتی ہیں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ ” کتنےپل صراط “
اور ” ہرنی “ کام کاجی عورتوں کی کہانیاں ہیں ۔ ” عذاب کی ایک رات “ بنگالی زبان
بولنےوالےکو بنگلہ دیشی کہہ کر ملک بدر کیا جارہا ہےتو ”گردش “ کا سلیم اپنےبچوں
کےمستقبل کےبارےمیں فکر مند اور ” دہشت “ کا ہیرو عدم تحفظ کا شکار ہے۔
مجموعی اعتبار سےایم ۔ مبین کی کہانیاں عام آدمی کی زندگی سےڈائریکٹ ایپروچ کی
کہانیاں ہیں ۔ انہیں ناپنےکا پیمانہ الگ ہونا چاہئیے۔ ان کی چھان پھٹک الگ طرح سےکی
جانی چاہئیے۔
یہ میرےتاثرات ہیں ۔ ایم ۔ مبین کی کہانیوں پر مستند اور معتبر رائےتو کوئی صحیح
ناقد ہی دےسکتا ہے۔ میں نےاپنےطور پر چند اشارےکردئےہیں کیونکہ میں ایم ۔ مبین کو
ان کےہم عصروں سےاس لئےالگ پارہا ہوں کہ ایم ۔ مبین نے” سکہ بند “ ڈھانچےسےالگ
افسانہ نگاری کی ہی۔ وہ قاری کو اپنےافسانےسےقریب کر رہےہیں ‘ انہیں آئینہ دکھا
رہےہیں ‘ سوچ و فکر پر اکسا رہےہیں ‘ نئی زندگی کی شروعات پر آمادہ کر رہےہیں ۔
سادہ زبان اور دلچسپ انداز و واقعات پر مبنی کہانیاں کہنا انہیں آتا ہےاور بہت خوب
آتا ہے۔
کہانی انسانی فطرت اور سرشت کا ایک اہم جز ہےوہ انسانی حس و جذبہ کو دلچسپ بناتی
اور برانگیخت کرتی ہے۔ میں ایم ۔ مبین کو” کہانی“ کےساتھ انصاف کرنےپر مبارکباد
دیتا ہوں ۔ ll
م ۔ ناگ
ممبئی
To read this Short Story
Collection on
Internet
Contact:-
Meem Naag
Editor Urdu Daily Tameer
Near Telephone Echange
BEED (Maharashtra)
پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔421302
ضلع تھانہ (مہاراشٹر)
Contact:-
M.Mubin
303-Classic Plaza,Teen Batti
BHIWANDI-421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)
Mobile:-09372436628