
افسانہ
نقب
از:۔ ایم مبین
مضبوط
بنیاد کےبنا
اونچی عمارت
تعمیر نہیں کی
جا سکتی ۔
جس
عمارت کی بنیاد
جتنی زیادہ
مضبوط ہوگی اس
کی اونچائی اتنی
زیادہ ممکن ہے۔
سلیب کےلئےلوہےکی
سلاخیں بہت
ضروری ہیں ۔
اچھےعمدہ
مال کا استعمال
ایک اینٹ کی
دیوار کو بھی
پختگی دےدیتا
ہے۔ کالم کی
مضبوطی پر عمارت
کی مضبوطی منحصر
ہوتی ہے۔
دلدلی
علاقوں میں
تعمیر ہونےوالی
عمارتوں کی
بنیادیں کافی
گہری ہونی چاہیئے۔
اسےایسا محسوس
ہورہا تھا جیسےفن
تعمیرات کےیہ
سارےاصول آپ
میں خلط ملط ہو
کر نئےضابطےمرتب
کررہےہیں ۔
کمزور
بنیادوں پر بھی
اونچی عمارتیں
تعمیر کی جاسکتی
ہیں ۔
ضروری
نہیں کہ عمارت
کی تعمیر میں
عمدہ سامان
استعمال کیا
جائے۔ عمارت
تعمیر کرنےسےمطلب
ہو تو اس عمارت
کی حفاظت کی ذمہ
داری عمارت
کےمکینوں پر
عائد ہوتی ہے۔
وہ
سر پکڑےبیٹھا
اپنےسامنےپھیلےکاغذ
کو گھور رہا تھا
۔ جس پر اس نےایک
نئی عمارت کا
نقشہ بنایا تھا
۔
نقشہ
بڑا خوبصورت
تھا ۔ نیچےکےحصےمیں
دکانیں تھیں
۔ ٠٢ ، ٥٢ دوکانیں
۔ شہر کےجس حصےمیں
وہ عمارت بنائی
جانےوالی تھی
اس حصےمیں جو
دکانوں کی قیمت
رائج تھی اس
کےحساب سےایک
ایک دوکان چار
چار ، پانچ پانچ
لاکھ سےکم میں
فروخت نہیں ہوگی
۔
ان
دوکانوں کےاوپر
تین منزلوں پر
رہائشی فلیٹوں
کی تعمیر کا
منصوبہ تھا ۔
ان فلیٹوں کی
قیمتیں بھی دو
سےتین لاکھ تک
آسانی سےجائےگی
۔
دوکانیں
تو بڑےبڑےبزنس
مین خرید لیں
گے۔ ان میں بہت
سےایسےتاجر
شامل ہوں گےجن
کی شہر کےمختلف
حصوں میں اور
بھی دکانیں ہوں
گی ۔
ان
لوگوں کےلئےاس
علاقےمیں نئی
دوکان شروع
کرنےکےلئےچار
پانچ لاکھ روپوں
کی سرمایہ کاری
کرنا کوئی مشکل
کام نہیں ہوگا
۔
کچھ
ایسےہوں گےجو
پہلی بار کوئی
دھندہ شروع
کررہےہوں گےاور
ان دوکانوں کی
خرید کےلئےانہوں
نےاپنی زندگی
کی ساری کمائی
اور بچت صرف کی
ہوگی ۔ کچھ لوگ
ایسےہوں گےجنہوں
نےکئی جگہوں
سےقرض لےکر ان
دوکانوں کی قیمت
ادا کی ہوگی ۔
ان
دوکانوں کےاوپر
جو فلیٹ بنائےجائیں
گےان کو خریدنےاور
ان کےمکینوں
کی بھی اپنی الگ
الگ کہانیاں
ہوں گی ۔
کچھ
لوگ انہیں صرف
ایکجوئےکےطور
پر خریدیں گے۔
جس قیمت پر آج
وہ فلیٹ خرید
رہےہیں اگر کل
اس سےزیادہ قیمت
آئےگی تو فروخت
کر کےنفع کمائیں
گے۔
کچھ
لوگ دور دراز
کےعلاقوں سےاپنی
گندی تنگ سی
کھولیاں فروخت
کرکےاس جگہ
آبسیں گے۔ ان
فلیٹوں میں کچھ
نوکری پیشہ
افراد بھی آبسیں
گےجو اپنی ساری
زندگی کی بچت
اور اونچی سود
کی دروں پر قرض
لےکر ان کمروں
کی قیمت ادا
کریں گےاور پھر
اس میں آکر آباد
ہونےکےبعد آدھی
زندگی تک پیٹ
کاٹ کاٹ کر اس
قرض کی قسطیں
اور سود ادا
کریں گے۔
اگر
اس عمارت کےتعمیر
ہونےکےبعد
اسےبھی کسی
قانونی پیچیدگی
کا سہارا لےکر
مسمار کردیا
گیا تو ؟ یا زیر
تعمیر عمارت
کسی تضاد کا
شکار ہوکر ادھوری
رہ گئی تو؟ اسےلگا
پھر ایک بار اس
عمارت میں دوکانیں
اور فلیٹ لینےوالےآکر
اس کےسامنےکھڑےہوجائیں
گے۔
”
روِش
بھائی !
اس
عمارت کا پلان
آپ کا تھا ۔ ہم
نےتو صرف آپ
کےپلان اور آپ
کا نام ہونےکی
وجہ سےاس عمارت
میں مکان اور
دوکانیں خریدی
تھیں ۔ کیا آپ
کو اس عمارت کا
پلان بناتےوقت
ان باتوں کا پتہ
نہیں تھا ‘ کیا
آپ نےدانستہ
ان باتوں کو نظر
انداز کیا اور
ہماری زندگی
کی کمائی پر
ڈاکہ زنی میں
نمایاں رول ادا
کیا ؟ “ اس کا
دل چاہا کہ اس
کاغذ کو مروڑ
کر پرزےپرزےکردےمگر
وہ ایسا نہیں
کرسکا ۔ اور
کرسی سےپشت لگا
کر بیٹھ گیا ۔
آج
کم سےکم دس افراد
اس سےمل کر گئےتھے۔
ان دسوں افراد
کی اپنی اپنی
الگ کہانی تھی۔
ان کہانیوں کو
سن کی وہ دہل
اٹھا تھا ۔ اس
کی آنکھوں کےسامنےان
کےمسکین چہرےاور
کانوں میں درد
بھری فریادیں
گونج رہی تھیں
۔
”
روِش
بھائی !
میرا
لڑکا تین سال
سےگلف میں ہے۔
وہ آئندہ سال
ملک واپس آرہا
ہےاس کا ارادہ
دوبارہ واپس
جانےکا نہیں
ہے۔ اس کا ارادہ
یہاں پر کوئی
چھوٹی موٹی
دوکان کھول کر
بس جانےکا تھا
۔ اس مقصد کےلئےمیں
نےبسیرا میں
ایک دوکان بک
کرائی تھی ۔ اب
تک اس نےجتنےپیسےروانہ
کئےتھےسب اس
دوکان کی خرید
پر لگا دئے۔
دوکان کی پوری
قیمت ادا کرنےکےلئےکچھ
لوگوں سےقرض
بھی لیا ۔ یہ
سوچ کر کہ بیٹا
پیسہ روانہ
کرےگا تو ان کا
قرض ادا کردوں
گا ۔ لیکن اب نہ
تو بسیرا ہےاور
نہ ہی وہ دوکان۔
میرےبیٹےکی
تین سال کی محنت
اور خون پسینےکی
کمائی برباد
ہوگئی ۔ اب اس
کا کیا ہوگا ؟
چار سال بعد وہ
واپس ملک آئےگا
تو پہلےکی طرح
قلاش اور بےکار
ہوگا ۔ “
”
روِش
صاحب !
میں
ایک نوکری پیشہ
شخص ہوں ۔ “ اس
کی آنکھوں کےسامنےایک
دوسرےفرد کا
مسکین چہرہ
ابھرا ۔ ” بسیرا
میں ‘ میں نےفلیٹ
بک کیا تھا ۔
گدشتہ بیس سالوں
کی ملازمت کےدوران
جو بچت کرپایا
تھا ۔ سب اس فلیٹ
کی قیمت ادا
کرنےمیں لگا
دی پھر بھی قیمت
پوری طرح سےادا
نہیں کرسکا تو
ایک دو مقامی
بینکوں اور
کریڈٹ سوسائٹیوں
سےقرض لےکر فلیٹ
کی پوری قیمت
ادا کردی ۔ یہ
سوچ کر کہ بیس
سال سےایک تنگ
کھولی میں اپنےخاندان
کےساتھ گزارہ
کر رہا ہوں ۔ اس
فلیٹ میں آنےکےبعد
اس تنگ کوٹھری
سےتو نجات ملےگی
۔ لیکن بسیرا
مسمار کردی گئی۔
اب بھی مقدر میں
وہی کوٹھری
ہےاور قرضوں
کا بوجھ اس کےعلاوہ
۔ ساری زندگی
کی کمائی تو لٹ
ہی چکی ہے۔
ہر
آدمی کی اپنی
ایک الگ کہانی
تھی ۔
وہ
ان لوگوں کی
آنکھوں میں ان
کی بےبسی اور
ان کےخوابوں
کےاجڑنےکا کرب
بخوبی دیکھ سکتا
تھا ۔ وہ صرف
فریاد کررہےتھےاور
اپنےاجڑنےکی
کہانی سنا رہےتھے۔
اپنی بربادی
پر آنسو بہانےکےعلاوہ
شاید ان کےپاس
کوئی دوسرا
راستہ بھی نہیں
تھا ۔
کوئی
بھی جوش میں
بھرا اس کےپاس
نہیں آیا تھا
۔ برباد ہونےکےبعد
دوسرےکو برباد
کرنےکا عہد
کرنےوالا کوئی
نہیں تھا ۔ کسی
کی آنکھوں میں
انتقام کا شعلہ
نہیں تھا ۔ صرف
بےبسی اور بےچارگی
تھی ۔ اور ان کی
بےبسی اور بیچارگی
کو دیکھ کر وہ
دہل اٹھا تھا
اور بار بار
اسےاحساس ہورہا
تھا کہ ان لوگوں
کو صرف بابو
بھائی نےبرباد
نہیں کیا ہے۔
ان کی بربادی
میں اس کا بھی
پورا پورا ہاتھ
ہے۔ کچھ لوگوں
نےصرف دبی آواز
میں اس پر الزام
لگایا تھا ۔
”
روِش
بھائی !
آپ
شہر کےمانےہوئےآرکٹیکٹ
ہیں ۔ آپ کا نام
ہی معیاری کام
‘ ایمانداری
کی ضمانت ہے۔
بسیرا کا نقشہ
آپ نےبنایا تھا
۔ اس کی تعمیر
میں آپ کا پلان
‘ آپ کےمشورےاور
آپ کی رہنمائی
شامل تھی۔ ظاہر
سی بات ہےپلان
بناتےوقت آپ
نےاس عمارت کی
تعمیر کےتمام
قانونی پہلوو
¿ں کو بھی اچھی طرح جان لیا ہوگا
۔
اس عمارت کی
تعمیر میں اب
کوئی بھی غیر
قانونی پہلو
شامل نہیں ہوگا
۔ جس کی وجہ سےہم
کسی مشکل میں
پھنس جائیں ۔
آپ کےنام نےہمیں
اس بات کی ضمانت
دی تھی لیکن
افسوس ہم دھوکہ
کھا گئے۔ آپ
نےثابت کردیا
۔ پیسہ کےلئےآپ
کچھ بھی کرسکتےہیں
۔ آپ کو ان باتوں
سےکوئی لینا
دینا نہیں ہےکہ
آپ جس عمارت کی
تعمیر کےلئےنقشہ
بنا رہےہیں ‘
جس عمارت کی
تعمیر میں رہنمائی
کررہےہیں وہ
قانونی ہےیا
غیر قانونی ۔
آپ کو اپنےمعاوضےسےمطلب
۔ بن جانےکےبعد
وہ غیر قانونی
ثابت ہو کر ڈھا
دی گئی تو آپ کو
اس سےکیا لینا
دینا ہے۔ آپ کو
تو اپنا معاوضہ
مل چکا ہے۔ اس
عمارت کےڈھائےجانےکےساتھ
کتنی زندگیوں
سےکھلواڑ کیا
گیا ہےاس سےآپ
کو کیا لینا
دینا ہے۔ بےوقوف
تو وہ لوگ ہیں
جو آپ کےنام کو
معتبر سمجھ کر
اعتبار کرتےہیں
اور دھوکہ فریب
کھا کر اپنی
ساری زندگی کی
کمائی لٹا دیتےہیں
۔ “
ان
لوگوں کی بات
بالکل سچ تھی
۔ اس عمارت کا
نقشہ بناتےوقت
اور اس کی تعمیر
کےدوران رہنمائی
کرتےوقت اس
عمارت کےقانونی
یا غیر قانونی
ہونےکےبارےمیں
اس نےبالکل غور
نہیں کیا تھا
۔ صرف ایک نقطہ
پر وہ ایک بار
اڑا تھا ۔
بابو
بھائی ٠٠٠١ میٹر
کےپلاٹ پر ٠٠٨
میٹر کی عمارت
تعمیر کرنا
چاہتا تھا ۔ یہ
ناممکن ہے۔ ایک
ہزار مربع میٹر
زمین پر آٹھ سو
مربع میٹر زمین
کا پلان پاس
ہوہی نہیں سکتا
ہے۔ اتنےکم ایف
۔ ایس ۔ آئی پر
عمارت کی تعمیر
کی منظوری مل
ہی نہیں سکتی
۔
”
انجنیئر
صاحب !
آپ
کا کام نقشہ
بنانا ہےاور
ضرورت پڑےتو
عمارت کی تعمیر
کےدوران رہنمائی
کرنا ہے۔ پلان
کس طرح پاس ہوگا
اور کون پاس
کرےگا یہ دیکھنا
ہمارا کام ہے۔
آپ کو جس طرح کا
پلان بنانےکےلئےکہا
جارہا ہےاسی
طرح کا پلان
بنائیےاور اپنا
معاوضہ لیجئے۔
“
بابو
بھائی نےاسےاپنےروایتی
اکھڑ لہجےمیں
کہا تھا ۔ اسےنہ
تو بابو بھائی
کی بات پسند آئی
تھی نہ لہجہ
لیکن اس بار بھی
اس کا وہ دوست
آڑےآیا تھا جو
بابو بھائی کو
اس کےپاس لایا
تھا ۔
”
روِش
!
تم
ان باتوں کےپیچھےکیوں
اپنا وقت ضائع
کر رہےہو ۔ بابو
بھائی کہہ تو
رہےہیں۔ وہ خود
میونسپلٹی سےاس
پلان کو منظور
کرالیں گےتمہیں
پلان منظور
کروانےکےلئےدوڑنا
نہیں پڑےگا کہ
اگر غلط پلان
بن جائےتو پلان
منظور نہیں ہوگا
بار بار اس میں
تبدیلی کرنی
پڑےگی ۔ “
”
ٹھیک
ہے!
آپ
لوگ چاہتےہیں
تو میں آپ کی
بتائی جگہ میں
پلان بنادوں
گا“ بابو بھائی
کو وہ اچھی طرح
جانتا تھا ۔ ایک
زمانےمیں وہ
شہر کا مشہور
غنڈہ اور بدمعاش
تھا ۔ بعد میں
وہ سیاست میں
پڑ کر مقامی
میونسپلٹی کا
کونسلر بن گیا
اور پھر سفید
پوش بن کر بلڈر
بن گیا ۔ وہ بسیرا
کےنام سےایک
عمارت بنانا
چاہتا تھا جس
میں دوکانیں
اور مکان ہوں
گے۔ اس عمارت
کےپلان کےلئےوہ
اس کےدوست کی
معرفت اس کےپاس
آیا تھا ۔
اگر
بابو بھائی
اکیلا آتا تو
شاید وہ بابو
بھائی کےرویّےاور
اس قانونی نقطہ
کی بنیاد پر کام
کرنےسےانکار
کردیتا ۔ لیکن
اپنےاس دوست
کی دوستی کا
لحاظ رکھتےہوئےجس
کی معرفت بابو
بھائی اس کےپاس
آیا تھا ‘ اس
نےوہ کام کرنا
منظور کرلیا
تھا ۔
اسےپتہ
تھا بابو بھائی
یا کوئی بھی جس
طرح کا پلان
منظور کرانےکےلئےمیونسپلٹی
میں جائےگا تو
دنیا کی کوئی
بھی میونسپلٹی
اس پلان کو منظور
نہیں کرسکتی
ہے۔
اسےپلان
بنانےکا معاوضہ
تو مل ہی جائےگا
پھر پلان منظور
ہو یا نہ ہو اسےاس
بات سےکیا لینا
دینا ہے۔
زیادہ
سےزیادہ اسےصرف
ایک کام نہیں
ملےگا وہ کام
عمارت کی تعمیر
کےلئےرہنمائی
کرنےکا ۔ اگر
وہ کام اسےنہ
بھی ملےتو اس
کی صحت پر کوئی
اثر پڑنےوالا
نہیں تھا ۔ ویسےبھی
اس کےپاس اتنا
کام تھا کہ وہ
اور کام لےکر
ذہن کا سکون اور
چین کھونا نہیں
چاہتا تھا۔ اس
لئےاس نےبابو
بائی کےکہنےکےمطابق
بسیرا کا پلان
بنا کر اس کےحوالےکردیا۔
اس
کی حیرت کی انتہا
نہ رہی جب اسےپتہ
چلا کہ بسیرا
کا سنگ بنیاد
رکھ دیا گیا اور
تعمیر کا کام
شروع ہوگیا اور
بابو بھائی نےاس
تعمیر میں رہنمائی
کےلئےاسےہی
پسند کیا ہے۔
وہ پلان کس طرح
منظور ہوا ؟
اسےاس بات پر
حیرت ہورہی تھی
۔ اس نےمیونسپلٹی
سےمنظور شدہ
پلان کی ایک
کاپی بابو بھائی
سےمانگی تو بابو
بھائی نےاس
سےصاف کہہ دیا
۔
”
روِش
بھائی !
تم
کو اس بات سےکیا
لینا دینا ‘ تم
تعمیر کےلئےرہنمائی
کرو ۔ “ ویسےبھی
وہ بابو بھائی
سےالجھنا نہیں
چاہتا تھا ۔ وہ
بابو بھائی کو
اچھی طرح جانتا
تھا اور اس کےدوست
نےبھی اسےسمجھایا
کہ وہ بابو بھائی
سےکبھی نہ الجھے‘
وہ اچھا آدمی
نہیں ہے۔ خاص
طور پر اپنےساتھ
الجھنےوالوں
کو کبھی نہیں
بخشتا ہے۔ اس
لئےاس نےبابو
بھائی سےالجھنا
چھوڑ کر اپنا
کام شروع کردیا
۔
وہ
روزانہ جس جگہ
بسیرا تعمیر
ہورہا تھا وہاں
جا کر معماروں
کو مختلف ہدایتیں
دیتا ۔ کبھی اس
کی ہدایتوں پر
عمل کیا جاتا
تو کبھی اس کی
ہدایتوں کو نظر
انداز کرکےاپنی
مرضی سےکام کیا
جاتا ۔ وہ جب
بھی اس طرح کا
کوئی کام دیکھتا
اپنا سر جھٹک
دیتا اور یہ
سوچتا ۔
”
اگر
عمارت میں کوئی
خامی رہ گئی تو
اسےمیونسپلٹی
کا انجنیئر پاس
ہی نہیں کرےگا
۔ میں اس وقت
بابو بھائی کو
بتا و
¿ں
گا کہ اس کےذمہ
دار وہ اور اس
کےمعمار ہیں
جنہوں نےاس کی
بات نہیں مانی
تھی ۔ “
بابو
بھائی نےقریب
ہی بابو کنسٹرکشن
کےنام سےایک
آفس کھول لیا
تھا ۔ اس آفس
میں بسیرا میں
دوکانیں اور
مکانات خریدنےوالوں
کی بھیڑ لگی
رہتی تھی ۔ کام
تیزی سےہورہا
تھا اور بابو
بھائی تیزی
سےدوکانوں اور
مکانوں کا پیسہ
بھی وصول کررہا
تھا ۔ اگر کسی
کی قسط دو تین
دن بھی لیٹ ہوجاتی
تو وہ اسےاس
دوکان یا مکان
سےبےدخل کردینےکی
دھمکی دیتا ۔
اس سےڈر کر بعد
میں وہ آدمی اور
دوسرےلوگ وقت
پر قسطیں ادا
کرتے۔
بسیرا
کی تعمیر کچھ
مقاموں پر بہت
اچھی اس کی ہدایت
کےمطابق ہورہی
تھی تو اور جگہوں
پر نہیں اس کی
وجہ سےاسےیقین
ہوگیا تھا کہ
عمارت پختہ نہیں
بنےگی ۔ جہاں
خرچ زیادہ ہونےکا
اندیشہ تھا وہاں
خراب کام کرکےخرچ
بچایا جا رہا
تھا ۔
جہاں
کم خرچ میں اچھا
کام ہوسکتا تھا
وہاں اچھا کام
کیا جارہا تھا
۔ عمارت کےجو
فلیٹ اور دوکانیں
تعمیر ہوگئیں
تھیں ان کی پوری
قیمت وصول کرکےبابو
بھائی نےفراخدلی
کا ثبوت دیتےہوئےوہ
دوکانیں اور
مکان ان کےمالکوں
کےحوالےکردئےتھے۔
یہ کہتےہوئےکہ
وہ لوگوں کا
نقصان نہیں
چاہتا ہے۔ کام
تو چلتا رہےگا
۔ ضرورت مند
یہاں آکر رہ
سکتےہیں یا اپنا
بزنس شروع کرسکتےہیں
۔ اس وجہ سےبہت
سےلوگ آکر وہاں
رہنےبھی لگےتھے۔
او رکئی لوگوں
نےاپنی دوکانیں
بھی شروع کردی
تھیں ۔
جس
شخص کی زمین پر
بسیرا تعمیر
ہوئی تھی بابو
بھائی نےنہ تو
اس شخص سےوہ
زمین خریدی تھی
نہ اس سےاس زمین
پر عمارت بنانےکےلئےکوئی
معاہدہ کیا تھا
۔ بابو بھائی
نےجو معاہدےکی
نقل لوگوں کو
بتائی تھی جس
کی رو سےاس نےاس
زمین پر تعمیر
کا کام شروع کیا
سراسر جھوٹا
تھا ۔ اس کا بنایا
پلان نہ تومیونسپلٹی
میں داخل کیا
گیا تھا نہ اس
پلان کی منظوری
لی گئی تھی ۔ نہ
عمارت کی تعمیر
کےلئےمیونسپلٹی
سےقانونی طور
پر منظوری لی
گئی تھی ۔ اپنےرسوخ
اور پیسہ کی
طاقت پر بابو
بھائی نےمتعلقہ
محکمہ کےافسران
کو خرید کر اس
بات پر راضی
کرلیا تھا کہ
جب تک وہ عمارت
پوری تعمیر نہیں
ہوجاتی اور وہ
اس عمارت کےخریداروں
سےپوری قیمت
وصول نہیں کرلیتا
وہ آنکھ بند
کئےبیٹھےرہیں
گے۔ وہ بابو
بھائی کی پوری
رقم کی وصولی
کےبعد جو چاہےوہ
کاروائی کرسکتےہیں
۔
اور
انہوں نےکاروائی
کی ۔ عمارت کو
غیر قانونی
تعمیر قرار دےکر
ڈھا دیا ۔ کل
جہاں پر ایک بہت
بڑی عمارت زیر
تعمیر تھی ۔
میونسپلٹی کی
کاروائی کےبعد
وہ جگہ ملبےکا
ڈھیر بن گئی ۔
میونسپلٹی
کےغیر قانونی
عمارتوں کو
منہدم کرنےوالےدستےنےبسیرا
کو منہدم ہوجانےکےبعد
فرض شناسی کےلئےواہ
واہی لوٹی ۔
بسیرا منہدم
ہوجانےکےبعد
بھی بابو بھائی
کی صحت پر کوئی
اثر نہیں پڑا
۔ وہ تو سارےپیسےوصول
کر کرےکروڑوں
کما چکا تھا ۔
برباد
تو وہ لوگ ہوئےجنہوں
نےبسیرا میں
مکان اور دوکانیں
خریدی تھیں ۔
وہ لوگ کس کےپاس
فریاد لےکر
جائیں کہ ان
کےساتھ کتنا
بڑا دھوکہ ہوا
ہے‘ نقب زنی
ہوئی ہےاور کس
طرح دیدہ دلیری
سےان کی زندگی
بھر کی گاڑھےپسینےکی
کمائی کو لُوٹا
گیا ہے۔ انہیں
لُوٹنےوالےڈاکوو
¿ں
میں اگر بابو
بھائی سرِ فہرست
ہےتو وہ شخص بھی
شامل ہےجس کی
زمین پر اتنےدنوں
تک اتنی بڑی
عمارت تعمیر
ہوتی رہی اور
وہ چپ چاپ تماشائی
بنا رہا ۔
میونسپلٹی
اور میونسپلٹی
کا وہ عملہ بھی
شامل ہےجو ایک
غیر قانونی
عمارت کو تعمیر
ہوتےدیکھتا
رہا ۔ اور اس
کےساتھ وہ بھی
شامل ہے۔ جس
نےایک غیر قانونی
پلان بنایا اور
پلان بنانےسےپہلےاس
بات کی تصدیق
نہیں کی کہ زمین
مالک اور بلڈر
کےدرمیان عمارت
کی تعمیر کےلئےکوئی
معاہدہ یا خرید
و فروخت ہوئی
یا نہیں ۔ تمام
اصولوں کو مدِّنظر
رکھ کر پلان
نہیں بنایا ۔
ایک غیر قانونی
عمارت کا پلان
بنا ۔
اور
اپنےنام کی وجہ
سےکئی لوگوں
کو دھوکہ دےکر
برباد کردیا
۔
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ (
مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09322338918) )
Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short tStory about common man's suffiring