
افسانہ
معتوب
از؛۔ایم مبین
اس
بازار سےگزرتےہوئےاس
کےقدم لڑکھڑارہےتھے۔
اسےخدشہ
محسوس ہورہا
تھا یہاں اس
کےساتھ وہی ہوگا
جو ابھی تک اس
کےساتھ ہوتا
آیا ہے۔ وہ اس
طرف جانےسےکترا
رہا تھا ۔ اس
نےبہت کوشش کی
کہ اسےاس طرف
جانےکی ضرورت
ہی پیش نہ آئے۔
لیکن وہ اس طرف
جانےکو ٹال نہیں
سکا ۔ خیال آیا
کہ رکشہ یا کسی
سواری کےذریعہ
اس بازار سےگزر
جائے۔ لیکن وہ
جس دور سےگذر
رہا تھا ان حالات
میں وہاں
سےگذرنےکےلئےاسےسواری
کرنےکی استطاعت
نہیں تھی ۔
اس
کےایک دوست کی
بیوی کا انتقال
ہوگیا تھا ۔
اس
کا وہ دوست اسی
کےساتھ کام کرتا
تھا ۔ دونوں
کےبہت قریبی
تعلقات تھےاس
لئےاس دوست کی
بیوی کےانتقال
کی خبر سننےکےبعد
پرسہ دینےکےلئےاس
کےگھر جانا بھی
ضروری تھا ۔
وہ
جانتا تھا دوست
جہاں رہتا ہےاس
راستہ میں وہ
بازار پڑتا ہے۔
وہ ایک تنگ سڑک
سی تھی جس کےدونوں
طرف ہاکروں ‘
پھیری والوں
نےاسٹال بنا
رکھےتھے۔ ان
چھوٹےچھوٹےلکڑی
کےاسٹالوں پر
ساری دنیا کی
چیزیں بکتی تھیں
۔ ان اشیاءمیں
کچھ غیر ملکی
اشیاءبھی بکتی
تھیں ۔ کچھ غیر
ملکی اشیاءکی
نقل جو اصل کےنام
پر اصل کی آڑ
میں بکتی تھیں
۔
اسٹالوں
کی لمبائی چوڑائی
بڑھتی ہی جاری
تھی اور راستہ
تنگ ہوتا جارہا
تھا ۔ بڑی سواریاں
تو اس سڑک سےگذر
ہی نہیں سکتی
تھیں ۔ دوسری
سواریوں والےبھی
اس راستےسےجانےسےکتراتےتھے۔
وہاں سےگذرنےکےلئےوہ
دور کا لمبا
راستہ پسند
کرتےتھےاور
اسی راستےکو
ترجیح دیتےتھے۔
ہر
راہگیر کو اس
بازار سےتکلیف
تھی ۔ ہر کوئی
اس بازار کےخلاف
آواز اٹھاتا
تھا کہ اس بازار
کی وجہ سےٹریفک
میں خلل آتا
ہےاور وہاں
سےگذرنےمیں
گھنٹوں لگ جاتےہیں
۔ اس لئےغیر
قانونی بازار
کو صاف کرکےٹریفک
کی سب سےبڑی
مشکل دور کی
جائے۔
میونسپلٹی
نےکئی بار اس
بازار کو صاف
کرنےکی کوشش
کی تھی اس جگہ
کو اجاڑنےمیں
کئی دشواریاں
پیش آئی تھیں
۔ بازار صاف بھی
ہوا تھا لیکن
دو دن کےبعد پھر
بسنا شروع ہوا
تھا اور آٹھ دن
بعد پھر اپنی
اصلی حالت میں
واپس آگیا تھا
۔
اس
بازار کےسارےہاکر
اور دھندہ
کرنےوالےغنڈہ
قسم کےلوگ تھےان
سےکوئی بھی
الجھنےکی کوشش
نہیں کرتا تھا
۔
وہ
کئی بار ان سےالجھ
چکا تھا ۔ لیکن
وہ ان سےاس وقت
الجھا تھا جب
اس کےپاس قوت
تھی ۔ اب اسےوہاں
سےگذرنا ہے۔
اگر
انہوں نےاسےپہچان
لیا تو ؟
وہ
لوگ اسےپہچان
تو لیں گے۔ بھلا
وہ اسےکس طرح
بھول سکتےہیں
۔ پہلےوہ آسانی
سےان کاسامنا
کرلیتا تھا
کیونکہ اس وقت
اس کےپاس قوت
تھی ۔
لیکن
اب وہ کس طرح ان
کا سامنا کرےگا
؟
بس
یہی سوچ کر اس
جگہ سےگذرتےہوئےاس
کےقدم لڑکھڑا
رہےتھے۔ آخر
اس نےہمت کرکےطےکیا
کہ وہ تیز تیز
قدم بڑھائے۔
مگر وہی ہوا جس
کا اسےخدشہ تھا
۔ ایک اسٹال
والےکی نظر اس
پر پڑی اور اس
نےاسےپہچان
لیا ۔ اور آوازیں
لگانی شروع کردی
۔
”
ارےبھائیو
!
دیکھو
‘ دیکھو ‘ ہمارےاس
بازار میں کون
آیا ؟ ہمارےاس
بازار میں موپنار
صاحب آئےہیں
۔ “
”
موپنار
صاحب !
کہاں
ہیں موپنار صاحب
؟ “
سب
چونک پڑےاور
پھر چاروں طرف
سےان اسٹالوں
پر دھندہ کرنےوالوں
نےاسےگھیر لیا
۔
”
نمستےموپنار
صاحب !
“
” کہیئےکیسےآنا
ہوا ؟ کیا دوبارہ
ہمارےاسٹال
توڑنےکےلئےآئےہیں
‘ ارےآپ کےساتھ
آپ کےوہ کمانڈو
باڈی گارڈ دکھائی
نہیں دےرہےہیں
۔ نہ آپ کےہاتھ
میں وہ پستول
ہےجو سرکار نےآپ
کو اپنی حفاظت
کےلئےہم معصوموں
پر گولیاں
چلانےکےلئےدی
تھی ۔ آپ کےساتھ
آپ کا وہ وحشی
خونخوار دستہ
بھی نہیں ہےجو
آن کی آن میں
ہماری زندگی
بھر کی کمائی
یہ اسٹال اور
ہماری روزی روٹی
تہس نہس کردیتا
تھا ۔ آج کس
کےسہارےہماری
روزی چھیننےآئےہیں
؟ “
”
ارےآج
یہ ہماری روزی
کیا چھینےگا
؟ اس کی روزی تو
کبھی کی چھینی
جا چکی ہی۔ اب
یہ صاحب نہیں
ہےآفیسر نہیں
ہےایک معمولی
آدمی ہے۔ اسےاس
کےعہدےسےہٹا
دیا گیا ہے۔ یہ
معطل ہےکچھ دنوں
میں نکال بھی
دیا جائےگا
سالےنےہم پر
بہت ظلم ڈھائےہیں
۔ آج موقع ہاتھ
آیا ہےچاہو تو
اس سےاس کےایک
ایک ظلم کا حساب
لےلو ۔ اس کی
مدد کو کوئی
نہیں آنےوالا
۔ “
”
ارےیار
!
مرےہوئےکو
کیا مارنا یہ
تو پہلےہی مارا
جا چکا ہے۔ یہ
سرکاری آفیسر
ہیں ناں ‘ ان کا
عہدہ ‘ ان کی
کرسی ان کی زندگی
ہوتی ہے۔ اسی
عہدے‘ کرسی کا
وہ دل کھول کر
ناجائز استعمال
کرتےہیں ۔ لیکن
اس کرسی سےہٹتےہی
ان کی زندگی
کتوں سےبدتر
ہوجاتی ہے۔ یہ
موپنار بھی اب
ایک کتےسےزیادہ
نہیں ہے۔ سڑک
کا ایک آوارہ
کتا جسےجو چاہےمار
سکتا ہے۔ “
”
ارےجاو
¿ ! ہاجرہ خالہ کو بلا کر لاو
¿
۔
اس سےکہنا
تمہارےبیٹےکا
قاتل آیا ہے۔
بیٹےکی موت کےغم
میں بےچاری پاگل
ہوگئی ہے۔ اپنےمعصوم
بیٹےکےقاتل
کو موت کی نیند
سلا کر شاید
اسےسکون مل سکے۔
“
چاروں
طرف سےآوازیں
آرہی تھیں اور
اس کا سارا جسم
خوف سےکانپ رہا
تھا ۔ جسم کےکپڑےپسینےمیں
تر ہورہےتھے۔
آنکھوں کےسامنےاندھیرا
سا چھا رہا تھا
۔ اسےاپنی موت
اپنےسامنےرقص
کرتی محسوس
ہورہی تھی ۔ سچ
مچ اس نےان لوگوں
کےساتھ جو کیا
تھا ۔ یہ لوگ اس
وقت آسانی سےاس
کا بدلہ لےسکتےتھے۔
اسےموت کی میٹھی
نیند سلا کر ۔
سچ
مچ اس وقت اس کی
مدد کو کوئی بھی
نہیں آنےوالا
تھا ۔
اپنےانجام
کےبارےمیں سوچ
سوچ کر ہی اس کی
آنکھوں کےسامنےاندھیرا
چھا رہا تھا ۔
اچانک ایک بوڑھی
عورت بھیڑ کو
چیرتی ہوئی
آگےبڑھی ۔
”
کہاں
ہےمیرےبیٹےکا
قاتل ‘ کہاں
ہےمیرےبیٹےکا
قاتل ؟ “
”
خالہ
!
یہ
ہےتمہارےبیٹےکا
قاتل ۔ بہت دنوں
کےبعد ہاتھ آیا
ہے۔ آج تم اس
سےاپنےبچےکی
موت کا بدلہ
لےسکتی ہو ۔ ہم
تمہارےساتھ
ہیں ۔ “
”
ارےظالم
!
تجھےمیرےمعصوم
اکلوتےبیٹےکو
مار کر کیا ملا
‘ کیا بگاڑا تھا
اس نےتیرا ‘
تیری اس سےکیا
دشمنی تھی ۔
تجھےدشمنی ان
پھیری والوں
سےتھی ناں تو
ان کو گولی مارتا
؟ میرا بیٹا تو
پھیری نہیں کرتا
تھا ........
! وہ
تو اسکول جاتا
تھا اسکول ۔ وہ
میری زندگی کا
آخری سہارا تھا
پھر تُونےکیوں
اسےگولی ماری
بول ‘ پھر تُونےاسےکیوں
گولی ماری ؟ “
بڑھیا
اس سےلپٹ گئی
اور گریبان پکڑ
کر جھنجھوڑنےلگی
۔
”
جا
........
! تُونےمیری
زندگی برباد
کی ۔ خدا تیری
بھی زندگی برباد
کرےگا۔ میں تجھ
کو بددعا دیتی
ہوں ‘ تُونےمیری
زندگی کا سکون
چھینا ہے۔ تجھےزندگی
بھر سکون نہیں
ملےگا ‘ تُو
زندگی بھر سکون
کی تلاش میں در
در کی ٹھوکریں
کھائےگا ‘ جا
چلا جا ۔ میری
آنکھوں سےدور
ہوجا ظالم ‘
میری آنکھوں
سےدور ہوجا ۔
“ یہ کہتی ہوئی
بڑھیا روتی ہوئی
واپس بھیڑ میں
گم ہوگئی ۔
”
ارےاس
کےساتھ کیا ‘
کیا جائے؟ ہاجرہ
خالہ نےتو اسےچھوڑ
دیا ۔ “
”
ارےجس
کی زندگی اس
نےچھین لی اس
نےاسےچھوڑ دیا
۔ تو ہماری حیثیت
ہی کیا ۔ اس نےتو
جتنی بار ہمیں
اجاڑا ہم آباد
ہوگئے۔ پھر ہم
اس سےکیا بدلہ
لیں ۔ میرےخیال
میں اسےچھوڑ
دیا جائے۔ “
کوئی بولا ۔
”
ہاں
!
ہاں
۔ اسےاس کےحال
پر چھوڑ دیا
جائے۔ “ کہہ کر
بھیڑ ایک طرف
ہٹ گئی ۔
”
جائیےموپنار
صاحب !
جہاں
جانا ہےبےخطر
جائیے۔ “ کوئی
بولا ۔
چھٹتی
بھیڑ دیکھ کر
اس کی جان میں
جان آئی ۔
اس
نےاپنےماتھےپر
آئےپسینےکو
صاف کیا ۔ پھولی
ہوئی سانسوں
پر قابو پایا
اور پھر تیز تیز
قدموں سےآگےبڑھ
گیا ۔
جہاں
تک ان لوگوں اور
اس علاقےکا تعلق
تھا۔اپنی دانست
میں اس نےاس جگہ
کےلئےسب سےزیادہ
ایمانداری اور
دیانت داری
سےاپنےفرض کو
ادا کیا تھا ۔
بار بار اپنےدستےکےذریعہ
اس نےاس علاقےکےاسٹال
توڑےتھےانہیں
اجاڑا تھا ۔ بار
بار یہ لوگ دوبارہ
اسٹال بناتےاور
ہر بار یہ انہیں
اجاڑتا ۔
اس
جگہ ایک بار اس
پر قاتلانہ حملہ
بھی ہوا تھا ۔
ظاہر
سی بات ہےجس کی
زندگی لٹ رہی
ہو بدلےمیں وہ
اس کےعلاوہ کوئی
قدم اٹھا ہی
نہیں سکتا تھا
۔ اس کی زندگی
کو درپیش خطرےکو
دیکھتےہوئےسرکار
نےاسےپستول
اور دو باڈی
گارڈ اور بےشمار
پولس دی تھی ۔
ایک
بار اس جگہ اپنی
حفاظت کےلئےاس
نےگولی چلائی
اور اس گولی
سےاس پر حملہ
کرنےوالا تو
نہیں مرسکا ۔
مر گیا ایک معصوم
بچہ ۔
جو
اس بوڑھی ہاجرہ
کا تھا ۔
اس
کی گولی سےایک
بچہ مرا ہےاسےاس
کا احساس تھا
۔ اس کےعلاوہ
اس نےکبھی اس
سےزیادہ سوچا
بھی نہیں تھا
۔
لیکن
اس موت کےاتنےخوفناک
اثرات ہونےہوں
گےاس نےکبھی
خواب میں بھی
نہیں سوچا تھا
۔
سرکار
نےتو اس بچےکےمرنےپر
اس کےخلاف کوئی
کاروائی بھی
نہیں کی تھی ۔
ہر کسی نےاس کو
بےگناہ معصوم
قرار دیا تھا
۔ ہر کسی کا کہنا
تھا کہ اس نےاپنےفرض
کو ادا کرتےہوئےاپنی
حفاظت کےلئےگولی
چلائی ہے۔ اسےاپنی
حفاظت کےلئےگولی
چلانےکا حق ہے۔
سرکار اس سلسلےمیں
اس کےخلاف کاروائی
نہ کرے۔
اس
کی مخالفت میں
اٹھنےوالی
آوازوں سےزیادہ
اس کی حمایت میں
اٹھنےوالی
آوازیں بلند
تھیں ۔ اس لئےاس
کی مخالفت میں
اٹھنےوالی
آوازیں دب کر
رہ گئیں ۔
اپنےدوست
کو پرسہ دےکر
جب وہ گھر آیا
تو رات بھر چین
سےسو نہیں سکا
۔ ساری رات کروٹیں
بدلتا رہا ۔
نیند اس کی آنکھوں
سےغائب رہی ۔
وہ اس رات اپنےاوپر
مسلط عذاب کو
کچھ زیادہ ہی
شدت سےمحسوس
کررہا تھا ۔
آج
وہ بچ گیا ۔ ممکن
تھا آج ان بپھرےہوئےلوگوں
کےہاتھوں اس
کی موت ہوجاتی
۔ یا بوڑھی جس
کا جوان بیٹا
اس کےہاتھوں
مارا گیا ہےبدلےمیں
اس کی جان لےلیتی
۔ اگر وہ بھیڑ
چاہتی تو بدلےمیں
اسےمار مار کر
ادھ مرا ضرور
کرسکتی تھی ۔
آج
وہ بچ گیا ۔
لیکن
آخر اس طرح کب
تک بچتا رہےگا
؟
کیا
اس کی قسمت میں
اس طرح کسی دن
کسی کےہاتھوں
ہلاک ہونا لکھا
ہے؟ لیکن آخر
اسےیہ کس جرم
کی سزا مل رہی
ہے؟ آج ساری
دنیا اس کی دشمن
کیوں ہے؟
اس
نےجو کچھ کیا
اپنا فرض نبھاتےہوئےکیا
تھا ۔ لیکن اس
فرض کےنبھانےنےاس
زمانےکو اس کا
دشمن بنا لیا
ہے۔
ابھی
پرسوں کی بات
ہے۔ ایک بلڈر
نےاسےدھر لیا
تھا ۔
”
موپنار
صاحب !
یاد
ہےآپ نےمیری
پوری بلڈنگ کو
غیر قانونی قرار
دےکر توڑ دیا
تھا ‘ کیا ہوا
؟ میری وہ بلڈنگ
تو دوبارہ بن
گئی ۔ میں نےاس
بلڈنگ میں پہلےسےزیادہ
پیسہ کما لیا
ہےنقصان کس کا
ہوا ؟ آپ کا ہی
ہوا ناں ؟ میں
نےتواس بلڈنگ
کو نہ توڑنےکےلئےآپ
کو لاکھوں روپےکا
آفر دیا تھا اور
آپ نےاسےٹھکرا
دیا تھا ۔ اگر
آپ وہ آفر نہ
ٹھکراتےتو فائدہ
آپ کا ہی ہوتا
۔ دیکھئےمیں
بڑا دل والا ہوں
۔ میں نےآپ کو
معاف کردیا لیکن
کئی لوگ آپ کو
معاف نہیں کرسکتےجن
کی عمارتیں آپ
نےتوڑی ہیں ۔
وہ بدلےکی آگ
میں سلگ رہےہیں
۔ اب تک انہوں
نےآپ کےخلاف
کوئی قدم اس
لئےنہیں اٹھایا
تھا کیونکہ آپ
ایک بڑےسرکاری
عہدےپر تھے۔
آپ کےساتھ پوری
سرکاری مشنری
تھی ۔ لیکن آج
تو آپ کا سایہ
بھی آپ کےساتھ
نہیں ہےجس سرکار
کےلئےآپ نےیہ
سب کیا اس نےآپ
کی حفاظت کےلئےایک
پولس کا سپاہی
بھی نہیں دیا
ہے۔
وہ
لوگ بدلےکی آگ
میں جل رہےہیں
اور وہ آپ سےبدلہ
لینےکےلئےکبھی
بھی آپ کو کتےکی
موت مار سکتےہیں
۔ اس لئےمیرا
آپ کو مشورہ
ہےاگر آپ اپنی
زندگی بچانا
چاہتےہیں تو
یہ شہر چھوڑ کر
چلےجائیں ۔
اپنےگاو
¿ں
جاکر گمنامی
کی زندگی اختیار
کرلیں اسی میں
آپ کی بھلائی
ہے۔ جس نوکری
سےآپ کو معطل
کیا گیا ہےوہ
نوکری آپ کو اب
ملنےوالی نہیں
ہے۔ بلکہ سرکار
تو آپ کےخلاف
اقدامات کی
فہرست تیار کر
رہی ہےاور ممکن
ہےکہ ان الزامات
کو ثابت کرکےزندگی
بھر کےلئےآپ
کو جیل کی کالی
کوٹھری میں بھیج
دے۔ اس لئےآپ
کی بھلائی اسی
میں ہےکہ نوکری
سےاستعفیٰ دےدیں
اور سارےمعاملےکو
ختم کردیں ۔
اس
بلڈر کی بات بھی
درست تھی ۔ شہر
کےکئی خونخوار
بلڈر اس کےخون
کےپیاسےتھےوہ
کبھی بھی اس
سےبدلہ لےسکتےتھے۔
اور کل تک سرکار
نےاس کےجن کاموں
کو فرض قرار دیا
تھا آج انہیں
جرم قرار دےکر
اسےمجرم ثابت
کرنےکی کوشش
کررہی ہے۔
کچھ
سیاسی لیڈروں
نےاس کےعہدےکا
فائدہ اٹھا کر
اس پر سیاسی
دباو
¿
ڈال
کر کچھ ایسی
بلڈنگیں تڑوائی
تھیں جو قانونی
تھیں ۔ آج ان
قانونی بلڈنگوں
کو توڑنےکےالزام
میں اس پر مقدمہ
چلانےکےلئےاسےگرفتار
کرنےکی تیاریاں
کی جارہی تھیں
۔
اس
نےاپنےعہدےپر
رہتےہوئےاپنی
مرضی سےکام کم
دوسروں کےحکم
اور دباو
¿
میں
زیادہ کام کئےتھے۔
کسی سیاسی لیڈر
کا حکم آتا ۔”
اس غیر قانونی
بلڈنگ کےخلاف
کوئی کاروائی
نہیں کی جائے۔
“ اور وہ کاروائی
نہیں کرتا ۔
کبھی
کسی کا حکم آتا
۔ ” اس شخص کی
بلڈنگ توڑدی
جائےچاہےوہ
قانونی ہو یا
غیر قانونی ۔
“ وہ توڑ دیتا
۔
کوئی
سیاسی آقا اسےحکم
دیتا ۔ ” جاو
¿
آج
اس علاقےکو
تاراج کردو ۔
“ وہ اپنےدستےکےساتھ
جاکر اس علاقےکو
تاراج کردیتا
۔
وہی
سیاسی آقا اسےحکم
دیتا ۔ ” اس علاقےمیں
قدم بھی نہیں
رکھنا ۔ “ وہ
چاہتےہوئےبھی
اس علاقےکی طرف
نظر اٹھا کر
نہیں دیکھتا
تھا ۔
اس
سیاسی آقا کےلئےاس
کےدل میں ہمدردی
تھی اور اس کےاشارےپر
وہ ہر کام کرتا
تھا ۔ چاہےوہ
غلط ہو یا صحیح
۔ جائز ہو یا
ناجائز ۔ کبھی
اس نےاس بارےمیں
نہیں سوچا تھا
۔ آقا کا ہر حکم
بجا لاتا تھا
۔ اور اس حکم کو
بجالانےمیں
اپنےرسوخ اور
قوت کا بھرپور
اور بےجا استعمال
کیا تھا ۔
لیکن
آج وہ سیاسی آقا
بھی اس کی کسی
طرح سےمدد کرنےکو
تیار نہیں ہے۔
وہ خاموش ہےاور
کبھی کبھی تو
اسےگالیاں
دینےلگتا ہے۔
وہ
چاہتا تو اس
سیاسی آقا کو
بھی دنیا کےسامنےننگا
کرسکتا تھا کہ
اس کےاشارےپر
اس نےکیسےکیسےگھناونےکام
کئےہیں ۔
لیکن
وہ مجبور تھا
۔ اس کےخلاف
زبان بھی نہیں
ہلا سکتا تھا
۔ کیونکہ وہ
جانتا تھا اس
آقا کی طاقت
اتنی زبردست
ہےکہ اس کےخلاف
اس کےمنھ سےاگر
ایک لفظ بھی
نکلا تو اس
کےچیتھڑےاڑجائیں
گے۔
اسےایک
سیای لیڈر کےخلاف
منھ کھولنےکی
سزا مل رہی تھی
۔ اس نےاس سیاسی
لیڈر کےخلاف
منھ کھولا تھا
تو سچائی پیش
کی تھی ۔ کوئی
الزام نہیں
لگایا تھا نہ
اس پر تہمت لگائی
تھی ۔
اور
اس طرح کا بیان
دیتےہوئےاس
نےاپنی دانست
میں ایک فرض ادا
کیا تھا ۔ لیکن
اس کا انجام کیا
ہوا ؟
اس
کی ہی مشنری اس
کےخلاف حرکت
میں آگئی ۔ اور
اس کو چند وجوہات
کا سہارا لےکر
معطل کردیا گیا
۔ ا سکی ساری
قوت اس کا عہدہ
چھین لیا گیا
۔ اسےمفلوج
کرکےگھر بھیج
دیا گیا ۔
آج
وہ اکیلا ہےکمزور
ہے۔ اپنی خود
کی حفاظت نہیں
کرسکتا ۔ اس
کےچاروں طرف
اس کےدشمن ہیں
۔ جو دھیرےدھیرےاسےگھیر
رہےہیں ۔ وہ اس
کا کیا حشر کریں
گےاس کا اسےاندازہ
ہے۔
اس
کا کوئی بھی ہم
درد نہیں ہے‘
کوئی جھوٹی ہم
دردی بھی اس
کےساتھ جتانےکےلئےتیار
نہیں ہے۔ اس
کےاچھےکاموں
کا کوئی بھی ذکر
تک نہیں کرتا
۔ ہر کوئی اس
کےظلم و ستم اور
مظالم کا ذکر
کرتا رہتا ہےاور
اس کےفرائض
کےانجام دینےکو
بھی ظلم قرار
دیتا ہے۔
اسےنوکری
سےمعطل کردیا
گیا ہے۔ اس نوکری
کو دوبارہ حاصل
کرنےکےلئےوہ
لڑ رہا ہے۔ لیکن
اسےخود یقین
ہوچلا ہےکہ اب
دوبارہ اسےوہ
نوکری ‘ وہ عہدہ
اور وہ قوت نہیں
مل سکتی ۔ اور
جو الزامات اس
پر لگا کر اس
کےخلاف جو چارج
شیٹ تیار کی
جارہی ہے۔ ہوسکتا
ہےاس سےاسےسزا
بھی ہوجائے۔
یہ
سب اس کےساتھ
کس لئےہورہا
ہے؟
صرف
اس لئےکہ اس
نےپوری ایمان
داری اور دیانت
داری سےاپنا
فرض انجام دیا
تھا ۔
صرف
اس لئےکہ اس
نےاپنےسیاسی
آقاو
¿ں
کو خوش کرنےکےلئےاپنےعہدےکا
ہر طرح سےجائز
و ناجائز استعمال
کیا تھا ۔ اور
جو انہوں نےچاہا
تھا وہ کرکےدکھایا
تھا ۔
آج
وہی آقا اس کےخلاف
ہیں اور اسےسزا
دلانےکےلئےکوشاں
ہیں ۔ کل تک وہ
سب کےلئےعتاب
تھا ۔ جس پر چاہتا
تھا عذاب بن کر
نازل ہوتا تھا
۔
آج
و ہ خود معتوب
ہے۔
ہر
عذاب اس پر گر
رہا ہے۔ وہ کئی
عذابوں میں
مبتلاہے۔
پتہ:۔
ایم
مبین
٣٠٣،کلاسک
پلازہ،تین
بتتی
بھیونڈی
٢٠٣ ١٢٤
ضلع
تھانہ (
مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09322338918) )
Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short tStory about common man's suffiring