افسانہ

حوادث

 از:۔ایم مبین

 



اتنی دیر کہاں تھے؟ “ دروازہ کھولنےکےساتھ بیوی نےسوال کیا ۔

پولس اسٹیشن گیا تھا ۔ “ اس نےبیزاری سےجواب دیا اور کپڑےاتارنےلگا ۔

رات کےدس بج رہےہیں اور تم پولس اسٹیشن سےآرہےہو ؟ “ بیوی نےحیرت سےپوچھا ۔ ” شام پانچ بجےسےپولس اسٹیشن میں بیٹھا ہوں ۔“ اس نےاپنا سر پکڑتےہوئےجواب دیا۔

تین بجےہی دو کانسٹبل آفس پہنچ گئےتھےاور فوراً پولس تھانےچلنےکےلئےکہہ رہےتھے۔ بڑی مشکل سےمیں نےانہیں سمجھایا کہ آفس میں بہت ضروری کام ہےمیں شام کو تھانےآتا ہوں ۔ شام کو تھانےگیا تو انسپکٹر کا پتہ ہی نہیں تھا جس کےہاتھ میں ملند کا کیس ہے۔ ایک دو گھنٹہ انتظار کرنےکےبعد جانےلگا تو تھانےمیں موجود کانسٹبل ڈرانےدھمکانےلگےکہ تم بنا انسپکٹر صاحب سےملےجا نہیں سکتے۔ اگر تم چلےگئےتو ہوسکتا ہےانسپکٹر صاحب تمہیں رات گھر سےبلائیں۔ مجبوراً اس کا انتظار کرنےلگا۔ نوبجےکےقریب وہ آیا تو مجھ سےاس طرح کا برتاو

¿ کرنےلگا جیسےمیں کوئی عادی مجرم ہوں ‘ کہنےلگا ۔ ” کیوں بےتُو بہت بڑا صاحب آفیسر ہےجو ہمارےبلانےپر نہیں آتا ہے؟ ہم تیرےباپ کےنوکر ہیں ‘ دوست کےقتل کی گواہی دےرہا ہےتو ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہےزیادہ ہوشیاری دکھائی تو اسی کیس میں تجھےپھنسا دوں گا ۔ یہ مت بھول قتل تیری آنکھوں کےسامنےہوا ہےاور تُو اکیلا چشم دید گواہ ہے۔ وہاں موجود دوسرےتمام افراد نےگواہی دینےسےانکار کردیا ہےورنہ جائےواردات پر موجود کوئی بھی فرد قاتلوں کو دیکھنےکی بات ہونٹوں پر نہیں لا رہا ہی۔ اپنےدوست کےقاتلوں کو سزا دلانا چاہتا ہےتوسیدھی طرح ہماری مدد کر جب ہم بلائیں اسی وقت پولس اسٹیشن میں حاضر ہوتا رہ ۔ ورنہ پولس کےساتھ تعاون نہ کرنےکےجرم میں تجھےاندر کردیں گی۔ “
انہوں نےکس لئےبلایا تھا ؟ “ رادھا نےبات بدلنےکےلئےپوچھ لیا ۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اگر اس نےاس بات کو ختم نہیں کیا تو امیت ساری کہانی لفظ بہ لفظ اسےسنائےگا اور سناتےہوئےتناو

¿ کا شکار ہوجائےگا ۔
کچھ نہیں ایک دو بیانات پر دستخط لینےتھے۔ جائےواردات پر ملی ایک دو چیزوں کی تصدیق کرنی تھی ۔ “ امیت نےجواب دیا ۔

بھگوان جانےاس کیس سےکب نجات ملے۔“ یہ کہتےہوئےرادھا نےایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر بولی ۔ ” چلو جلدی سےمنھ ہاتھ دھوکر آو

¿ ۔ رات کےدس بج رہےہیں مجھےبڑی بھوک لگی ہےاور تم بھی تو بھوکےہو ۔ “
ان چار گھنٹوں میں پانی کی ایک بوند بھی منھ میں نہیں گئی ہے۔ “ کہتا ہوا امیت واش بیسن کی طرف بڑھ گیا ۔

پتہ نہیں یہ ہمارےکن پاپوں کی سزا ہےجو بھگوان ہمیں دےرہا ہے۔“ امیت کو واش بیسن کی طرف جاتےدیکھ کر وہ سوچنےلگی ۔ ” ہم کو اس کیس میں پھنسا دیا ہے۔ “ تھوڑی دیر کےبعد دونوں ساتھ بیٹھےبظاہر کھانا کھا رہےتھے۔ لیکن رادھا کا ذہن کہیں اور کھویا ہوا تھا ۔

امیت کی آنکھوں کےسامنےوہ واقعاتگھوم رہےتھےجب اس کےسامنےملند کا قتل ہوا تھا ۔ دونوں ایک ریستوراں میں بیٹھےچائےپی رہےتھے۔

آفس سےچھوٹنےکےبعد ملند نےچائےکی دعوت دی تھی ۔ اسےبھی شدت سےچائےکی ضرورت محسوس ہورہی تھی ۔ دن بھر آفس میں اتنا کام تھا کہ وہ چائےبھی نہیں پی سکا تھا ۔

دونوں آفس سےنکلےاور سامنےوالےریستوراں میں بیٹھ کر چائےپینےلگی۔ شام کا وقت تھا ریستوراں میں زیادہ بھیڑ نہیں تھی ۔ ویسےبھی وہ باہر کی ٹیبل پر بیٹھےتھے۔

اور بتاو

¿ تمہارا اور بلڈر کا جھگڑا کہاں تک پہنچا ہے؟ “ اس نےچائےپیتےہوئےملند سےپوچھا ۔
اب اس جھگڑےکےبارےمیں کیا بتاو

¿ں ۔ جھگڑا دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہی۔اب تو وہ سالا دھمکیاں دینےلگا ہے۔ کل شام سات آٹھ غنڈوں کےساتھ آیا تھا میں ان سب کو پہچانتا تھا ۔ کہنےلگےکل تک سیدھی طرح جگہ خالی کردے۔ ہم اس بلڈنگ میں دو سو اسکوائر فٹ کا فلیٹ تجھےبلا قیمت دےدیں گے۔ دوسو اسکوائر فٹ کا فلیٹ ‘ سالےجیسےمرغی کو رہنےکےلےڈربہ دےرہےہیں ۔ فی الحال جتنی جگہ میں رہتا ہوں وہ دو ہزار اسکوائر فٹ سےکم نہیں ہوگی ۔ دو ہزار اسکوائر فٹ جگہ کےبدلےدو سو اسکوائر فٹ جگہ دےرہےہیں ۔ جب میں نےوہ جگہ کرائےپر لی تھی آس پاس چاروں طرف جنگل تھا جنگل ۔ اس وقت جگہ کےمالک نےمجھ سےڈپازٹ کےطور پر پانچ ہزار روپےلئےتھےاور کہا تھا میں جتنی جگہ چاہوں استعمال کرسکتا ہوں ۔ میں نےتھوڑی سی جگہ صاف کرکےایک کمرہ بنایا تھا ۔ رات بھر چاروں طرف سےڈراو

¿نی آوازیں آتی تھیں ۔ اور سانپ بچھو گھر میں گھس آتےتھے۔
مجبوری تھی نئی نئی نوکری تھی ۔ سر چھپانےکےلئےجگہ چاہئیےتھی ۔ اس لئےمیں اس جگہ رہتا تھا ۔ وقت گذرنےلگا تو آس پاس اور بھی لوگ آکر بسنےلگے۔ جنگل ختم ہوا ۔ میں نےصاف صفائی کرکےاور ایک دو کمرےبنا لئے۔ مالک نےکرایہ سو روپیہ کردیا میں باقاعدگی سےکرایہ دیتا تھا ۔ اب جب کہ وہ جگہ آبادی کےوسط میں آگئی ہےچاروں طرف بڑی بڑی بلڈنگیں بن گئی ہیں ۔ زمین کی قیمت کروڑوں روپیہ ہو گئی ہےتو وہ جگہ خالی کرانا چاہتا ہے۔ اس جگہ بلڈنگ بنا کر اسےاونچی قیمت پر فروخت کرنا چاہتا ہی۔ “

یہ کہانی تو ہر جگہ دہرائی جا رہی ہے۔ “ امیت نےاسےسمجھایا تھا ۔” لیکن جہاں بھی پرانےکرایہ داروں کا نکال کر نئی بلڈنگ بنائی جاتی ہے۔ پرانےکرایہ داروں کو رعایتی قیمت پر ان کی جگہ دی جاتی ہے۔ “

میرےمالک نےوہ جگہ کسی بلڈر کو دی ہےاور سنا ہےبلڈر بہت بڑا غنڈہ ہےاور وہ چاہتا ہےکہ اس کی دہشت سےمیں چپ چاپ وہ جگہ خالی کردوں لیکن اسےپتہ نہیں اس بار اس کا واسطہ ملند سےہے۔ اس بار اسےاپنا طریقہ

¿ کار بدلنا پڑےگا ۔ میرےقبضےکی دو ہزار اسکوائر فٹ جگہ کےبدلےاگر وہ مجھےپانچ سو اسکوائر فٹ کا فلیٹ بھی دینےکےلئےتیار ہو جائےتو میں وہ جگہ خالی کردوں گا ۔ لیکن وہ غنڈہ گردی اور دہشت سےوہ جگہ خالی کرانا چاہتا ہےجو ممکن نہیں ........ ! “
ابھی ان کی گفتگویہاں تک ہی پہنچی تھی کہ اچانک ریستوراں میں کچھ چیخیں گونجیں ۔

انہوں نےریستوراں کےدروازےکی طرف دیکھا ۔

وہ کچھ عنڈےتھےجو ہاتھوں میں ہتھیار لئےریستوراں میں داخل ہوئےتھےاور انہیں دیکھ کر لوگ چیخ اٹھےتھے۔

ان کےتیور سےایسا لگ رہا تھا جیسےوہ کسی کو ڈھونڈ رہےہیں ۔

وہ رہا بھائی
! “ اچانک ایک غنڈےنےملند کی طرف اشارہ کیا ۔
غنڈےکی یہ بات سنتےہی اس شخص کا ہاتھ اوپر اٹھا ۔ اس کےہاتھ میں پستول تھی ۔ اس نےملند کےسر کا نشانہ لیا ۔ ایک دھماکہ ہوا اور ملند کی چیخ گونجی ۔

گولی ملند کےسر میں لگی تھی ۔

دوسرا دھماکہ ۔

اس بار گولی اس کےسینےپر لگی تھی ۔

ملند منھ کےبل ٹیبل پر آکر گرا تھا ۔ اس کےسر اور سینےسےخون کا ایک فوارہ اڑا تھا اور اس کےکپڑوں پر خون کی ایک لکیر سی کھنچ گئی تھی ۔

نہیں
........ ! “ اس کےہونٹوں سےایک چیخ نکل گئی ۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سےکبھی ملند کو دیکھ رہا تھا کبھی ان غنڈوں کی طرف جو بڑےاطمینان سےریستوراں ےدروازےسےنکل کر باہر کھڑی کار میں بیٹھ رہےتھی۔

اور پھر کار تیزی سےچلی گئی ۔ ایک لمحہ کےلئےاس کی نظریں کار کی نمبر پلیٹ پر پڑی اور اس نےکار کےنمبر ذہن نشین کرلئے۔

کسی نےپولس کو اطلاع دی ۔ پولس آئی اور اس نےجانچ شروع کردی ۔ اس قتل کا چشم دید گواہ وہی تھا ۔ وہ ملند کےساتھ تھا اس لئےپولس کےلئےسب سےاہم فرد وہی تھا ۔

ابتدائی کاروائی کےلئےملند کی لاش پوسٹ مارٹم کےلئےبھیج دی گئی اور اسےبیان لینےکےلئےپولس اسٹیشن بلایا گیا ۔ بیان لینےکےساتھ ساتھ اس سےسینکڑوں سوالات کئےگئے۔

کیا تم نےاس سےقبل کبھی قاتلوں کو دیکھا تھا ؟ “

نہیں اس سےقبل تو انہیں کبھی نہیں دیکھا تھا ‘ لیکن جس شخص نےملند پر گولی چلائی تھی اس کو بآسانی پہچان لوں گا ۔ “

تم کس بنا پر کہہ رہےہو کہ تم اس کو بآسانی پہچان لوگے؟ “

اس کا حلیہ ایسا ہےکہ اس حلیہ کا آدمی لاکھوں میں آسانی سےپہچانا جاسکتا ہی۔“ یہ کہتےہوئےوہ قاتل کا حلیہ بیان کرنےلگا ۔

اسےکسی پر شک ہےکےجواب میں اس نےوہ ساری کہانی بیان کی جو ملند اسےسنا چکا تھا۔

اس درمیان پولس جاکر ملند کی بیوی اور گھر والوں کو بلالائی تھی ۔ انہوں نےرو رو کر پولس اسٹیشن سر پر اٹھا رکھا تھا ۔ لیکن ان کی ذہنی حالت کا اندازہ لگائےبنا پولس اپنی کاغذی کاروائیاں مکمل کر رہی تھی ۔

رات چار بجےاسےپولس اسٹیشن سےنجات ملی اور وہ گھر آیا تو رادھا اس کا انتظار کر رہی تھی ۔

اتنی رات گئےگھر آئےہو ‘ کہاں رک گئےتھے؟ میں ایک لمحہ کےلئےنہیں سو سکی ۔ طرح طرح کےوسوسےمجھےبےچین کررہےتھے۔ “

جواب میں اس نےملند کےقتل کی کہانی سنائی ۔

دوسرےدن ملند کی لاش اس کےگھر والوں کو ملی ۔ ملند کی آخری رسوم میں بھی وہ شریک رہا ۔

ملند کےوالد کی حالت غیر تھی ۔ وہ اپنی عمر سےکچھ زیادہ ہی بوڑھےلگنےلگےتھے۔

میرےملند کو اس مکان کےمالک نےمروایا ہے۔ وہ زبردستی یہ جگہ خالی کروانا چاہتا تھا اور ہم جگہ خالی نہیں کر رہےتھے۔ اس لئےاس نےہمارےملند کو مروادیا۔ “ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونےلگے۔

تیسرےدن پتہ چلا کہ پولس نےملند کےمکان مالک کو پوچھ تاچھ کےلئےپولس اسٹیشن بلایا تھا لیکن بعد میں اسےیہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اس کےخلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔دوسرےدن اسےکسی کام سےپولس اسٹیشن طلب کیا گیا تو وہ انسپکٹر پر پھٹ پڑا۔

آپ نےملند کےمکان مالک کو صرف پوچھ تاچھ کےلئےپولس اسٹیشن بلایا اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اس کےخلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہےجس سےیہ ثابت ہوتا ہےکہ اس قتل کےپیچھےاسی کا ہاتھ ہے۔ انسپکٹر صاحب
! یہ قتل اگر ملند کےمکان مالک نےنہیں کروایا تو پھر کس نےکروایا ؟ ملند کی کسی سےدشمنی نہیں تھی ۔“
 

 

اےزیادہ ہوشیاری مت مار ‘ کس کو گرفتار کرنا چاہیئےاو رکس کو چھوڑدینا چاہیئےتجھ سےزیادہ بہتر ہم لوگ جانتےہیں وردی ہمارےجسم پر ہےتیرےجسم پر نہیں۔ ہمارا باس بن کر ہم کو حکم مت دے۔ “ انسپکٹر نےکچھ ایسےلہجےمیں کہا کہ اسےخون کا گھونٹ پی کر رہنا پڑا ۔
دو دن بعد پولس کو وہ کار بھی مل گئی جس میں قاتل بھاگےتھے۔ شناخت کےلئےاسےبلایا گیا ۔ اس نےایک نظر میں ہی کار پہچان لی ۔ کار ایک ویرانےمیں ملی تھی ۔ اور دو دن قبل چوری ہوئی تھی ۔ اس کےمالک نےکار چوری ہونےکی رپورٹ لکھائی تھی ۔ کار کی شناخت اور اس کےبیان میں رات کےدو بج گئے۔ جب وہ گھر آیا تو رادھا اس کا انتظار کررہی تھی ۔

دیکھو تم میرےلئےبےکار پریشان ہو کر میرےآنےتک جاگتی رہتی ہو ۔ “ وہ اسےسمجھانےلگا ۔ ” پولس کا معاملہ ہےاس میں وقت لگتا ہے۔ اگر میں سات آٹھ بجےتک گھر نہیں آو

¿ں تو تم سمجھ لینا کہ میں پولس اسٹیشن گیا ہوں آنےمیں وقت لگےگا۔“
ایسا کب تک چلےگا ؟ “

جب تک ملند کےقاتل پکڑےنہیں جاتے۔ “ اس نےجواب دیا ۔

ایک ہفتہ بعد وہ خود ہی پولس اسٹیشن پہنچ گیا ۔ ملند کےقاتل کی تلاش کس مرحلےمیں ہےپتہ لگانےکےلئے۔ جب اس سلسلےمیں ملند کےقتل کی تحقیقات کرنےوالےانسپکٹر سےپوچھا تو انسپکٹر بھڑک اٹھا ۔

پولس اپنا کام کررہی ہے۔ اور وہ قاتل کو گرفتار کرلےگی ۔ اس سلسلےمیں تُو ہم سےپوچھنےوالا کون ہوتا ہے؟ ہماراباپ یا کمشنر ؟ “ انسپکٹر کےاس جواب سےوہ جل بھن گیا ۔

ایک شام وہ آفس سےآرہا تھا تو ایک ہوٹل کےباہر کھڑےہوئےایک شخص کو دیکھ کر وہ چونک پڑا ۔ اس شخص کو وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا ۔ یہی ملند کا قاتل تھا ۔ اس نےملند پر گولی چلائی تھی ۔

باسٹرڈ
! میں تجھےزندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ “ کہتےہوئےوہ اس پر جھپٹا ۔ غنڈےنےبڑی آسانی سےخود کو چھڑا کر اسےدھکا دےکر زمین پر گرا دیا اور اطمینان سےپاس کھڑی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر چلتا بنا ۔ وہ ہکا بکا اسےجاتا دیکھتا رہ گیا ۔ وہاں سےوہ سیدھا پولس اسٹیشن پہنچا ۔
انسپکٹر صاحب
! آپ بھی کمال کرتےہیں‘ آپ کو ملند کا قاتل نہیں مل رہا ہےوہ سینہ تان کر شہر میں دندناتا پھر رہا ہے۔ ابھی مجھےوہ رائل ہوٹل کےباہر ملا تھا۔“
پھر تم نےاسےپکڑا کیوں نہیں ‘ وہ کس طرح بھاگ نکلا ۔ کہیں تم نےتو اسےنہیں بھگایا ہے‘ قاتل تمہارےسامنےتھا اور تم نہیں پکڑ پائےتم نےاسےبھگا دیا ‘ اس سےتو لگتا ہےتمہارا بھی اس قتل میں ہاتھ ہے۔ تم نےاپنی مدد کےلئےدوسرےلوگوں کو کیوں نہیں بلایا ؟ “ الٹا اس پر سینکڑوں سوالوں کا حملہ ہوگیا اور اسےجواب دینا مشکل ہوگیا ۔ اور اسےمحسوس ہوا اس نےپولس اسٹیشن آکر غلطی کی ۔

اس کےبعد اس نےطےکیا کہ وہ خود سےکبھی پولس اسٹیشن نہیں جائےگا ۔ وہاں جاکر اسےجو بےعزتی برداشت کرنی پڑتی تھی اب وہ برداشت کرنےکی اس میں قوت نہیں ہے۔ لیکن اس کےچاہنےسےکیا ہوتا ہے؟

خود پولس ایک دو دن بعد اسےپولس اسٹیشن بلا لیتی اور گھنٹوں پولس اسٹیشن بٹھا کر رکھنےکےبعد دوچار اوٹ پٹانگ سوالات کرکےاسےچھوڑ دیتی تھی ۔

وہ آفس پہنچتا تو سپاہی آدھمکتےتھےاور کہتےتھےکہ صاحب نےاسےبلایا ہےاور مجبوراً اسےان کےساتھ جانا پڑتا تھا ۔

ایک دو بار باس نےاسےبلا کر صاف کہہ دیا ۔

تم یا تو نوکری کرو یا پولس اسٹیشن میں رہو ۔ یہ تمہارا بار بار پولس اسٹیشن آفس چھوڑ کر جانا مجھےبالکل پسند نہیں“ اس سلسلےمیں جب اس نےانسپکٹر سےبات کی تو انسپکٹر اس پرغصہ ہوگیا ۔

ای
........ ! تُونےہی اپنےبیان میں لکھوایا ہےکہ تُونےقاتل کو دیکھا ہی۔ تُو قاتل کو پہچان سکتا ہےاس لئےبار بار پولس اسٹیشن بلایا جارہا ہےکہ ہم جو آدمی پکڑیں اس کی تجھ سےشناخت کرائی جاسکے۔ اگر تُو اپنا بیان بدل دےاور یہ کہہ دےکہ تُونےقاتل کو نہیں دیکھا تُو اسےنہیں پہچانتا ہےتو ہم تجھےبلائیں گےہی نہیں ۔ تجھےایک معمولی گواہ بنا کر تیرا معاملہ ختم کردیں گی۔“
اپنےضمیر سےجنگ لڑنےکہ بعد اس نےیہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنا بیان نہیں بدلےگا ۔ وہی ملند کےقتل کا چشم دیدگواہ ہے۔ قاتل کو پہچانتا ہے۔ اس کی گواہی قاتل کو اس کےکئےکی سزا دلاسکتی ہےاس کےلئےاسےیہ سب تو برداشت کرنا ہی پڑےگا ۔

پولس اسٹیشن میں روز کی حاضری اس کا معمول بن گیا تھا ۔ وہ خود کبھی پولس اسٹیشن نہیں جاتا تھا ہر بار اسےبلایا جاتا تھا ۔ وہاں اس کےساتھ ہر کوئی بد تمیزی سےپیش آتا ‘ اس کا مذاق اڑاتا اور اسےگھنٹوں پولس اسٹیشن میں بٹھا کر رکھا جاتا ۔ اور پھر اسےکوئی چور اچکا دکھا کر پوچھا جاتا کہ یہ تو ملند کا قاتل نہیں ؟ جب وہ انکار کردیتا تو اسےگھر جانےکی اجازت دےدی جاتی ۔ اس درمیان ایک بار پھر اس سےملند کا قاتل ٹکرایا تھا ۔

قاتل نےروک کر اس سےبڑی دیدہ دلیری سےکہا تھا ۔

کیوں امیت صاحب
! میری شناخت کرنا چاہتےہو ناں ؟ ارےپولس مجھےپکڑےگی ہی نہیں تو تم کہاں سیشناخت کرسکوگے۔ دیکھو میں کس دیدہ دلیری سےشہر میں گھوم رہا ہوں ۔ پولس مجھےجانتی ہےلیکن مجھ کو گرفتار نہیں کررہی ہے۔ کیونکہ میرا رسوخ بہت ہے۔ اس لئےمیرا ایک ہی مشورہ ہےاس معاملےکو ختم کردو ۔ مجھےپہچاننےسےانکار کردو اور اپنےبیان میں لکھ دو کہ تم قاتل کو نہیں پہچان سکتے۔ سارا معاملہ ختم ہوجائےگا ۔ تمہیں بار بار پولس اسٹیشن نہیں بلایا جائےگا ۔ “
اور وہ چلا گیا ۔

اس دن جب اسےپولس اسٹیشن بلایا گیا تو وہ انسپکٹر پر برس پڑا ۔

انسپکٹر صاحب
! آپ مجھےروزانہ قاتل کیشناخت کےلئےپولس اسٹیشن بلاتےہیں اور مجھےمعمولی چور اچکےبتا کر گھر واپس بھیج دیتےہیں جبکہ اصلی قاتل اب تک آزاد ہے۔ وہ شہر میں دندناتا پھر رہا ہےمجھ سےمل کر دھمکیاں دےرہا ہے۔ پھر بھی آپ اسےنہیں پکڑ رہےہیں ۔ یہ کیا تماشہ ہے؟ “
اس کی اس بات پر انسپکٹر نےاسےایک گھونسہ رسید کردیا ۔

حرامزادے
! پولس کےمحکمےپر الزام لگاتا ہے۔ زیادہ بکواس کی تو ہڈی پسلی توڑ کر رکھ دوں گا تجھ سےجو کچھ کہا جا رہا ہےاس سےزیادہ مت بک زیادہ بک بک کی تو اندر کردوں گا ۔ “
وہ چپ ہوگیا ۔

اس دن بھی اسےایک معمولی چور دکھایا گیا اور گھر جانےکا حکم دےدیا گیا ۔ وہ گھر واپس آیا تو سکتےمیں تھا ۔ وہ یہ کس پریشانی میں پڑ گیا ہےاس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا ۔ وہ رات بھر سو نہیں سکا۔ رادھا اس سےپوچھتی رہی کہ کیا بات ہےلیکن اس نےاسےکچھ نہیں بتایا ۔ چپ چاپ صرف چھت کو گھورتا رہا ۔

دوسرےدن اسےپولس اسٹیشن نہیں بلایا گیا ۔ اس شام چھ بجےہی وہ گھر آگیا اور کھانا کھا کر نو بجےہی وہ سو گئے۔

رات میں دروازےپر دستک کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی ۔ رات کےبارہ بج رہےتھی۔ اتنی رات گئےکون گھر آسکتا ہے؟ سوچتےہوئےاس نےدروازہ کھولا تو اس کا دل دھک سےرہ گیا ۔ باہر آٹھ دس غنڈےکھڑےتھےوہ دندناتےہوئےاس کےگھر میں گھس آئےان غنڈوں کےساتھ ملند کا قاتل بھی تھا ۔ ان کو دیکھ کر رادھا کی چیخ نکل گئی ۔

اپنی بیوی سےکہہ کہ وہ چیخ پکار نہ کرے۔ ہم صرف دو باتیں کرنےآئےہیں۔ دو باتیں کرکےہم چلےجائیں گے۔ اگر وہ چیخی تو مجبوراً اس کا منھ بند کرنےکےلئےہمیں کوئی قدم اٹھانا پڑےگا ۔ “غنڈوں کا باس اس سےبولا ۔ اس نےاشارےسےرادھا سےخاموش رہنےکو کہا ۔

امیت بابو
! تم ملند کےقتل کےکیس میں گواہی دےرہےہو ۔ کاہےکو اس جھنجھٹ میں پڑتےہو ۔ دیکھو یہ بہت برا شہر ہےملند دن دہاڑےمار دیا گیا ۔ اور اس کو مارنےوالےہم لوگ آج بھی آزاد ہیں ۔ پولس ہم پر ہاتھ ڈالنےکی ہمت نہیں کررہی ہےاور کرےگی بھی نہیں ۔ لیکن تمہاری گواہی اسےمجبور کررہی ہےکہ وہ یہ ہمت کرے۔ اس لئےکاہےکو خواہ مخواہ ہم سےاور پولس سےدشمنی مول لےرہےہو ۔ بھول جاو

¿ کہ تمہارےسامنےملند کا قتل ہوا تھا اور یہ بھی بھول جاو

¿ کہ تم نےاسےقتل کرتےکسی کو دیکھا ہے۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائےگا ۔ ورنہ ملند کی طرح تمہارا بھی کسی سڑک پر قتل ہوجائےگا ۔ تم اس شہر میں نوکری کرنےآیا ہےاگر تم مر گیا تو یہ تمہارا جو بیوی ہےدو دنوں تک اس کو پتہ بھی نہیں چلےگا کہ تم مر گیا ہے۔ تمہارےمرنےکےبعد یہ تمہارا بیوی اکیلا رہ جائےگا ۔ یہ بہت بڑا شہر ہےیہ شہر اکیلی عورت کو ویشیا بنا دیتا ہے۔ یہ بہت بُرا شہر ہےچھوٹےآدمی کو اس شہر کےبڑےلوگوں کےلفڑوں میں نہیں پڑنا چاہیئی۔ دن بھر محنت کرکےملنےوالی دو روٹی کھا کر آرام سےسوجانےمیں ہی بھلائی ہی۔ ہمارےجیسےلوگ اپنا کام کرتےرہتےہیں اور ہمارےکام میں جو بھی ٹانگ اڑاتا ہےاس کا انجام ملند سا ہوتا ہے۔ ہمارا کچھ نہیں بگڑتا ۔ اس لئےاب تم بھی ہمارےکسی کام میں ٹانگ مت اڑاو

¿ اور چپ چاپ سو جاو

¿ باقی سب ٹھیک ہوجائےگا ۔ “
چلو
........ ! “
کہتےہوئےاس نےاپنےآدمیوں کو اشارہ کیا اور سب چپ چاپ گھر سےباہر نکل گئے۔

رادھا سکتےمیں کھڑی انہیں دیکھتی رہی اور پھر اچانک وہ آکر اس سےلپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی ۔ وہ اس کو سینےسےلگائےاس کےبالوں میں انگلیاں پھیرنےلگا ۔

دوسرےدن شام پانچ بجےہی دو کانسٹبل اسےبلانےآگئے۔

صاحب نےبلایا ہے۔ دو آدمی پکڑےہیں شاید وہ ملند کےقاتل ہوں ۔ تمہیں پہچاننےکےلئےبلایا ہے۔ “

وہ چپ چاپ ان کےساتھ چل دیا ۔

آو

¿ امیت بابو ! آج کےبعد تمہیں ہم سےکوئی شکایت نہیں رہےگی ۔ ہم نےدو آدمی پکڑےہیں اور ہمیں پورا یقین ہےکہ ان میں سےایک ملند کا قاتل ہے۔ وہ قاتل کون ہے؟ اب یہ تمہاری شناخت پر منحصر ہے۔“ انسپکٹر نےکہا اور سپاہی کو ان آدمیوں کو لانےکا اشارہ کیا ۔
دو آدمی اس کےسامنےلائےگئے۔ ایک تو اجنبی تھا اور دوسرا ملند کا قاتل ۔ وہ سکتےمیں آگیا ۔

بتاو

¿ امیت ! کیا ان میں سےکوئی ملند کا قاتل ہے؟ “
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سےملند کےقاتل کو دیکھنےلگا ۔

بتاو

¿ امیت ! کیا تم انھیں پہچانتےہو ؟ “ انسپکٹر نےپھر پوچھا ۔
نہیں انسپکٹر صاحب
! میں انہیں نہیں پہچانتا ۔ میں نےان کو پہلےکہیں نہیں دیکھا ۔ “ وہ بولا اور پھر اچانک اپنےدونوں ہاتھوں سےاپنا چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونےلگا ۔


پتہ
:۔
ایم مبین

٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی

بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤

ضلع تھانہ
( مہاراشٹر)

 

 



 


پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)
 

M.Mubin

Classic Plaza, Teen Batti

BHIWANDI_ 421302

Dist.Thane Maharashtra  India)

Mob:- 09322338918)  )

mmubin123@yahoo.com

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short  tStory  about common man's suffiring

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



  Domain Name + 1GB Linux India Web Hosting in Rs.349