مہانگرکےدکھوں
کا عکاس افسانہ
نگار ۔ایم مبین
از:۔
نورالحسنین
ایم
مبین کو میں
جہاں سےجاننتا
ہوں وہ دور Èٹھویں
دہائی کا Èدھا
سفر طےکر چکا
تھا ،اور اردو
افسانےکا مظر
نامہ واضح نہیں
تھا ، علامتی
اور تمثیلی
افسانےبھی
لکھےجا رہےتھےاور
حقیقت پسندانہ
اسلوک بھی اختیار
کیا جارہا تھا
ایم مبین کا
کمال یہ ہےکےانھوں
نےکبھی بھی فیشن
زدگی کا شکار
ہو کر افسانہ
نہیں لکھا ،بلکہ
انھوں نےہمیشہ
کوشش کی کہ ان
کا قلم افسانہ
ہی لکھے۔
ایم
مبین کےافسانوں
کےموضوعات پر
گفتگوں کرنےسےپہلےمیں
Èپ
کو بتا دو ں کہ
وہ نہایت سیلس
اور سیدھی سادھی
زبان میں لکھنےکےعادی
ہیں ِ،چھوٹےچھوٹےجملوں
سےبڑی بڑی باتیں
کر نےکا ہنر
جانتےہیں ۔اور
جہا ں تک ہو سکےعصری
مسائل کا احاطہ
کرتےہیں۔ ان
کےکردار اجنبی
نہیں ہوتے،بلکہ
ہمارےاپنےاطراف
بکھرےہوےوہ
افراد ہےجو
زندگی کرنےکا
فرض ادا کر رہےہیں
اسی وجہسےان
کا قاری ان سےراست
جڑا ہوا ہے۔
بلکہ ان سےہمیشہ
خوش رہتا ہے۔
قارئین کا کسی
ادیب پر یہ اعتماد
خود اس کی کامیابی
کی بڑی دلیل
ہے۔
گزشتہ
دس برصوں میں
جن نوجوان©افسانہ
نگاروں کےافسانوی
شائع ہوئےان
میں ایم مبین
کا مجموعہ ،ٹوٹی
چھت کا مکان
،ایک خاص اہمیت
حاصل ہےکیونکہ
اس مجموعہ کی
بیشتر کہانیاں
ایک مخصوص کاسمو
پولیٹین شہر
ممبئی کا احاطہ
کرتی ہیں۔ ممبئی
جو ریاست مہاراشٹر
کا صدر مقام اور
سارےہندوستان
کا دل ہےجہاں
مختلف علاقوں
سےروزی روٹی
کی تلاش میں
Èنےوالےافراد
کی بڑی تعداد
Èباد
ہےان افراد کی
زبان ‘بولی
ٹھولی ©’رسم
ورواج ‘تہزیب
وتمدن ‘مذہبی
تصادم کےباعث
ایک اپنےکلچر
کا جنم ہوا
جسےممبئیاءکلچر
کا نام دےسکتےہیں
یہ کلچر ہمارےلئےکچھ
حد تک ،اجنبی
بھی ہےاور بہت
حد تک مانوس بھی
ہےایم مبین
کےافسانوں کا
مطالعہ ہمیں
اس ممبئیاءکلچر
سےمتعارف کرواتا
ہےÈبادی
کا عظیم جنگل
پیٹ کی Èگ
بجھانےکی خاطر
ایک ایسا واسہبنا
ہوا ہےجہاںروزی
کا حصول ہزار
ہا راستوں کےدر
کھلتا ہے،اب
یہ راستہ کہی
بہت عمدہ ہیں۔اور
کہیں اتنےبرےکہ
انسانیت بھی
پناہ مانگنےلگتی
ہےاس کلچر سےانصاف
وہی
کر سکتا ہےجو
یا تو خود اس
تہذیب کا ایک
حصہ ہو ،یا پھر
اس کلچر کو بھوگ
رہا ہو ۔ایم
مبین نےممبیاءکلچر
کا ہر دو سطحوں
پر مطالعہ و
مشاہدہ کیا ہو
ان کا افسانہ
گردش ایک ایسا
افسانہ ہےجس
میں صرف ادم
تحفظ کا مسئلہ
ہمارےسامنےÈتا
ہےبلکہ اپنی
مٹتی قدروں کا
احساس بھی دلاتا
ہی۔ اپنےبچوں
کو بہتر ”جن
بچوں کےمستقبل
کو بچانےکی خاطر
شہر سےدور سکونت
اختیار کی وہا
ں جانےکےبعد
بھی بچوں کا
مستقبل محفوظ
نہیں ہو سکا
ہے۔یہاں کےماحول
سےوہ بچ گئےتو
وہا ں پر ایک
اور عجیب ماحول
میں رم رہےہیں
،،۔
اسطرح
ممبئی کےحالیہ
ماحول پر ان کا
ایک اور خوب
صورت افسانہ
©©”
دہشت
“ہےجس کی روشنی
میں ہم دیکھتےہیں
۔ممبئی کا ہر
وہ باسی اور اس
کے
متعلقین
پریشان ہی۔ جو
ملازمت کی خاطر
یا روضی کی تلاش
میں گھر سےباہر
نکلتا ہی۔ گویا
کفن سےباندھ
کر نکلتا ہےاور
جب وہ شام کو
واپس اپنےگھر
پہنچتا ہےتو
جیسےوہ جنگ جیت
کر یا پھر زندگی
کا ایک دن خیر
خوبی سےگزر
جانےپر شکرانہ
ادا کرتا ہو یہی
خوب ان کےدرمیان
محبت کےجزبےکو
بھی شدید کر رہا
ہے۔ افسانہ
حوادث ،ممبئی
میں پرورش
پانےوالےگنڈا
گردی کی عکاسی
کرتا ہی۔ جہاں
قدم قدم پر زندہ
رہنےکی قیمت
ادا کرنا ہے۔
حادثوںکےاس
شہر میں کبھی
کوئی حادثہ
قدرتی ہوتا
ہے۔کبھی کوئی
فرد اتفاقی
حادثےکا شکار
ہو جاتا ہی۔ اور
کبھی ایمانداری
اور سچ۔
ویسےایم
مبین نویسی
کےلئےکافی شہریت
رکھتےہیں بلکہ
بقول عظیم راہی
ایم مبین سیکڑوں
افسانےلکھ
چکےہے۔ وہ اردو
کےعلاوہ ہندی
بھی لکھتےہیں
۔ اور دو نوں
سوالوں میں اپنی
ایک شناخت بنا
چکےہیں ٹوٹی
چھت کا مکان ،ان
کےافسانوں کا
پہلہ مجموعہ
ہے،اور اس میں
صرف ٧١(سترہ)افسانوں
کا انتخاب کیا
گیا ہےاس لحاظ
سےدیکھا جائےتو
یہ ایک نہایت
کڑابلکہ سخت
انتخاب ہے۔
بولنےکی
صورت میں بطور
سزاحادثہ روح
نما ہوتا ہے۔اور
کبھی خود فرد
کی ماسومیت اور
سادگی کا جرمانہ
حادثہ بن جاتا
ہے۔
مصنف
نےمکان کی خلت
،اور اس کےحصول
کی جدوجہد کےبا
وجود اکثر دھوکا
کھا جانےوالےافراد
کی بھی کہانیاں
لکھی ہیں افسانہ
”نقب“ایسےہی
افراد کا احوال
ہےاس کےعلاوہ
ممبئی میں پہنچنےوالا
کبھی کبھی غلط
راستوں پر چل
کر کسی طرح دولت
مند اور بااثر
ہوجاتاہےاسکا
نقشہ افسانہ
بلندی ،پیش کرتا
ہی۔ مبین نےمنٹوں
کی طرح Èج
کےبرےانسان
میں بھی محبت
اور احسان مندی
کےجزبےکو ڈھونڈھنےکی
کوشش کی ہے۔
کردار نگاری
کی روشنی میں
یہ ایک اچھا
افسانہ ہے۔
افسانہ
چھت،اور ٹوٹی
چھت کا مکان،چھت
کےنیچےزندگی
بسر کرنےوالوں
کےدرمیان ایک
وسیع فرق کو
واضح کرتا ہی۔افسانہ
چھت ،مڈل کلاس
افراد کےاس خواب
کی عکاسی کرتاہے۔
جہاں
وہ ایک چھت کا
متلاشی ہےاور
افسانہ ٹوٹی
چھت کا مکان ،
ان افراد کی
کہانی ہےجو کبھی
ٹوٹی چھت کےسایہ
میں بھی نہایت
سکون اور شانتی
کی نیند سوتےتھی۔اور
Èج
Èلیشان
چھت کےنیچےبھی
انہیں نیند نہیں
Èتی۔
ایم
مبین کا یہ افسانوی
مجموعہ قاری
کو جہاں ممبئی
کےمسائل اور
زندگی سےمتعارف
کرواتا ہےوہی
وہ
اسلوب کی رنگی
کاشاکی بھی ہو
جاتا ہےاس کےعلاوہ
اگرچہ ایم مبین
نےمختلف موضوعات
پر افسانےلکھےہیں۔لیکن
ایک ہی ماحول
اور ایک ہی شہر
کےپس منظر کےباعث
کاری کو گمان
بھی نہیں ہوتا
کہ وہ مختلف
افسانےپڑھ رہا
ہے۔
ایم
مبین ایک ہونہار
افسانہ نگار
ہیں۔ اس لئےبھی
ان سےدیگر نوضوعات
کی توقع کی جا
سکتی ہی۔رہی
بات افسانہ
نگاری کی تو ایم
مبین افسانہ
لکھنا جانتےہیں،اور
جرئیات کو بیان
کرنےکاحوصلہ
بھی ان کےپاس
ہی۔رواں بیانیہ
کےباعث انکےافسانےاپنی
دلچسپی کو برقرار
رکھتےہیں۔
To read Book on Internet
Contact:-
M.Mubin
303-Classic Plaza,Teen Batti
BHIWANDI-421302
Dist.Thane( Maharashtra)
Mobile:-09322338918