کالی
رات کا تخلیقی
نوحہ
حقّانی
القاسمی
ہمارےعہد
کی رات میر کےعہد
کی رات سےزیادہ
بھیانک اور دہشت
ناک ہی۔ ہمارےعہد
کا تخلیق کار
جس بھیانک کالی
رات میں قید ہے‘
اس کالی رات کو
وہ اِظہارات
کےمختلف پیرائےمیں
پیش کررہا ہے۔
آج
کےعہد کی رات
نےتخلیقی ذہنوں
میں جس عدم تحفظ
، خوف اور دہشت
کو جنم دیا ہے‘
وہ خوف ہی ان کی
تخلیق کا بُنیادی
محور بن گیا ہے۔
ہمارےعہد کےہر
حساس تخلیق کار
کی فکری مطاف
، خوف ، دہشت
اور جبریت ہے۔
وہ جو انتظار
حُسین نےکہا
ہےوہ آج کی صورت
ِ حال پر مکمل
طور پر صادِق
آتا ہے۔ آج کا
تخلیق کار اِس
جنجال اور دُبدا
میں ہےجیسی
دُبدا انتظار
حُسین نےمحسوس
کی ہے۔
شاعری
تو ایسی بھی
ہوتی ہے‘ جو
نعرےہی کےزور
پر چمکتی ، گرجتی
ہے۔ مگر کہانی
ایسی چھوئی موئی
ہےکہ نعرےکا
پرچھاواں بھی
پڑجائےتو مرجھا
جاتی ہے۔ پھر
کہانی کیا کرے؟
ایک طرف جنگ ہے،
دہشت گردی ہے،
بُنیاد پرستی
ہے، کلاشنکوف
ہے، ایٹمی دھماکےہیں
، نظریات ہیں
‘ جن کی چھتری
میں یہ سرگرمیاں
اخلاقی جواز
حاصل کرتی ہیں
۔ دُوسری طرف
اس کےخلاف نعرےہیں
، خطبےہیں ،
تقریریں ہیں
۔ چکی کا ایک
پاٹ وہ ‘ دُوسرا
پاٹ یہ جمیعتِ
خاطر کوئی صورت
ہو ‘ کہاں ہے؟
کہیں نہیں ۔
صحیح کہا کہ
آسُودگی کا تو
بس نام ہی رہ
گیا ہے۔ آسُودگی
عرضیت نہ یاں
ہےنہ وہاں ہے۔
یہ تو وہی سودا
والا زمانہ واپس
آگیا ۔ اُس سےبھی
بُرا ‘ نئےبٹ
مار ، نئےقزّاق
، لُوٹیں ہیں
دِن رات بجا
کرنقّارہ نفرت
کا بول بالا ،
حرفِ محبت عنقا
، کلامِ نامک
بےاثر ‘ کیسی
شاعری کہاں کی
کہانی ، دِل میں
خس کی برابر جگہ
نہ پائے۔ کبیر
رویا ، سودا
نےزہر خند کیا
‘ ادھر قلم رُک
گیا ۔ اب میں
دُبدا میں ہُوں
۔ اِسی قسم کی
دُبدا جو داستانوں
، کہانیوں میں
وقتاً فوقتاً
مہم جُو شہزادےکو
آلیتی ہے۔ کہ
پیچھےکھائی
، آگےسمندر ‘
نہ پائےرفتن
نہ جائےماندن
‘ پھر کیا کیا
جائے۔ بس اچانک
خواجہ خضر نمودار
ہوتےہیں کہ میری
اُنگلی پکڑ اور
چل یا کوئی غیبی
آواز آتی ہےکہ
لوح کو پڑھ او
راِس میں جو کچھ
لکھا ہے‘ اس پر
عمل کر ۔ میرےپاس
کون سی لوح ہے۔
ہاں ‘ ہاں ہے۔
الف لیلہ !
میرےپاس
یہی لوح ہے۔ لوح
کہو ، فکشن کا
اِسم اعظم کہو
اور یہ اب کون
سی آواز آئی
جیسےسُنی ہُوئی
ہو ۔ ارے‘ یہ تو
الف لیلہ کےوَرقوں
کےبیچ سے شہر
زاد آواز ہے۔
کیا کہتی ہے‘
کچھ بھی نہیں
کہتی ؟ نہ کوئی
ہدایت ، نہ کوئی
پیغام ، نہ کوئی
فلسفہ ، نہ کوئی
نظریہ ۔ بس کہانیاں
سُنائےچلی جارہی
ہے۔ ایک کہانی
، دُوسری ، تیسری
کہانی ‘ سلسلہ
ٹوٹنےہی میں
نہیں آرہا ۔
اےوزیر زادی
!
اےکہانیوں
کی ملکہ !
ایسےوقت
میں تمھیں کہانیوں
کی سُوجھی ہے۔
جان کی خیر مانگو
‘ یہ سب رات رات
کا کھیل ہے۔ صبح
ہونےپر تمہاری
گردن ہوگی اور
جلاد کی تلوار
۔ کہانی رات کو
اِسی لئےسُنائی
جاتی ہےکہ وقت
کٹےاور رات کٹے۔
میں بھی ایک
لمبی کالی رات
کےبیچ سانس
لےرہا ہُوں ۔
اِس رات کا دستہ
شہر زاد کی راتوں
سےملتا ہے۔ تو
گویا اس رات کا
بھی تو توڑ یہی
ہےکہ کہانی کہی
جائے۔ جب تک رات
چلے‘ کہانی چلے۔
ایم
۔ مبین کی کہانیاں
بھی اسی رات کا
توڑ ہیں اور اسی
رات کی اندوہناکی
کو اُنھوں نےاپنی
تخلیق کی بُنیاد
بنایا ہے۔ ایم
۔ مبین جیسےتخلیق
کار جو کھلی
آنکھوں سےسماج
اور سیاست کا
منظر نامہ دیکھ
رہےہیں ‘ اُن
کا المیہ یہی
ہےکہ وہ ان سانحات
اور واقعات
سےاپنی آنکھیں
بند نہیں کرسکتےجو
آج کل کےصنعتی
شہر ی معاشرےمیں
رُونما ہورہےہیں
۔ ایک حساس ذہن
وقت کی دستکوں
کو اپنےسینےپر
محسوس کرتا
ہےاور یہی دستکیں
اُس کےپورےوجود
میں پھیل جاتی
ہیں تو وہ بےکلی
اور اضطراب سا
محسوس کرتا
ہےاور یہی اضطراب
جب تخلیق میں
بدلتا ہےتو یہ
اضطرابی لہریں
اُن ذہنوں کو
بھی اسیر کرلیتی
ہیں ‘ جو اُنھیں
محسوسات کی سطح
پر دیکھتےتو
ہیں‘ مگر اِظہاری
سطح پر اپنےدرد
کا اِظہار کرنےسےقاصر
رہتےہیں ۔
ایم
۔ مبین کےافسانےآج
کےعہد کا آشُوب
نامہ ہیں ۔ اُنھوں
نےاپنےعہد
کےانتشار کو
تخلیقی ہنر مندی
کےساتھ اپنےاِظہار
کا لمس عطا کیا
ہے۔ اپنےعہد
کی معاشرتی ،
سیاسی صُورتِ
حال اور انسانی
ذہن اور احساس
کی کیفیات کو
بڑی ہی فن کاری
کےساتھ اپنی
کہانیوں میں
پیش کیا ہے۔ اور
یہاں اِس حقیقت
کا اِظہار ضروری
ہےکہ جن تخلیق
کاروں نےاپنےعہد
کےانتشار کو
اپنی تخلیق کا
محور بنایا ہے‘
وہ زمانی و مکانی
حدُود سےماورا
ہوگئےہیں اور
ان کی تخلیقات
کو مابعد کےزمانوں
میں حوالوں کی
حیثیت حاصل رہی
ہے۔
ایم
۔ مبین نےبھی
اپنی تخلیق میں
زیادہ تر اپنےعہد
سےہی سروکار
رکھا ہےاور
اپنےعہد کی تمام
تر تصویروں کو
اپنی تخلیق میں
قید کرلیا ہے۔
اُنھوں نےتجریدی
طرز ِ اِظہار
یا علامتی اسلوب
سےقاری کےلئےپیچیدگیاں
پیدا نہیں کیں
بلکہ صاف شفّاف
بیانیہ اسلوب
میں اپنےعہد
کی تفہیم کی
کوشش کی ہےاور
اس میں قاری کی
ذہنی سطحوں کا
بھی خیال رکھا
ہے۔ ان کےاسلوب
میں جو کھردرا
پن ہے‘ وہ بھی
ماحول کا زائیدہ
ہے۔ ایسےپُر
خطر ماحول میں
انسان کی سوچ
بھی کھردری
ہوجاتی ہےاور
زندگی کی بےکیفی
اسلوب پر حاوی
ہوجاتی ہے۔ اِس
کا مطلب یہ نہیں
کہ اُن کےلہجےاور
اسلوب میں صرف
کرختگی ہے‘ بلکہ
یہ کرختگی افسانےکا
تقاضہ ہےاور
اِس کی تکمیل
کےلئےیہ اسلوب
ہی ناگزیر تھا
۔
ایم
۔ مبین کی کہانیاں
اپنےعہد کی
تاریخ بھی ہیں
اور اپنےعہد
کا اضطراب بھی
۔ ان کےبیشتر
افسانوں کا محور
مذہبی خطوط پر
انسانی ذہنوں
کی تقسیم اور
اس تقسیم سےپیدا
شدہ بھیانک
مسائل ہیں ۔ ایم
۔ مبین کےافسانوں
میں فسادات ،
جبر اور ہولناکی
کی جو فضا ہے‘
وہ آج کےماحول
کی دین ہے۔ ان
کےزیادہ تر
افسانےSystemکےخلاف
ہیں ۔ وہ سسٹم
جو ساری بُرائیوں
اور سارےفساد
کی جڑ ہے۔ دراصل
یہی وہ نظام
ہے‘جس کی وجہ
سےانسان زرد
کُتّا بن گیا
ہے۔
ایم
۔ مبین کےافسانوں
میں سوالات ہیں
، احتجاج کی
آوازیں ہیں اور
یہی احتجاج آج
کےافسانےکا
غالب عنصر ہے۔
افسانوں سےاحتجاج
غائب ہوجائےتو
افسانےمعنویت
کھودیتےہیں
۔ ایم ۔ مبین
نےاپنےافسانوں
کےذریعہ اپنےعہد
کی بےزبانی کو
بھی زبان عطا
کرنےکی کوشش
کی ہے۔ دراصل
خوف و دہشت میں
جکڑی ہُوئی
زبانیں جب سکوت
اختیار کرلیتی
ہیں تو مسائل
اور بھی پیچیدہ
ہوجاتےہیں ۔
ایم ۔ مبین نےآج
کےانسان کےکرب
اور ذہنی کیفیات
کےتناظر میں
کہانیاں لکھی
ہیں اور یہ کہانیاں
انسانی رِشتوں
اور تعلقات کی
کہانیاں ہیں
۔ اِس میں Innerاور
Outer
lifeکی
جھلکیاں ملتی
ہیں ۔ ان کہانیوں
کےکردار بالکل
ویسےہی حقیقی
ہیں ‘ جیسے” وار
اینڈ پیس ، وینٹی
فیئر ، مادام
بواری Tristam
Shandy“ کےکردار
حقیقی ہیں ۔ ایم
۔ مبین کےافسانوی
کرداروں کی
آنکھوں سےمحبت
، جنگ ، امن ،
دہشت ، خوف ،
فیملی لائف ،
سوشل لائف کےسارےرنگ
دیکھ سکتےہیں
۔ یہ کردار راوی
کےذہن سےنکل
کر قاری کےذہن
میں ہلچل اور
ہیجان بپا کرتےہیں
۔
ایم
۔ مبین کی کہانیاں
صرف ایک حساس
ذہن کےاِضطراب
کی آئینہ دار
نہیں ہے‘ بلکہ
ان کہانیوں میں
ہمارےعہد کا
اِضطراب ہے‘
وہ اِضطراب جو
تخلیقی ذہنوں
میں شعلگی کی
کیفیت پیدا کرتا
ہےاور پھر یہی
شعلگی جب حساس
خلّاق ذہن سےعام
انسانی ذہن میں
منتقل ہوتی ہےتو
آگ سی دہکتی
ہےاور قاری
اپنےوجود کو
شعلوں کےحصار
میں محسوس کرتا
ہے۔ شہر زاد
نےاپنےعہد کےکرب
کو کہانی میں
پیش کیا تھا ۔
ہمارےآج کا
تخلیق کار بھی
اپنےعہد کےکرب
کو پیش کررہا
ہے۔ ایم ۔ مبین
کےافسانوں کا
اِمتیاز یہ ہےکہ
اُنھوں نےاپنےافسانےمیں
آج کےعہد کی سوچ
، کرب اور اس
کےتمام تر زاویوں
کو پیش کیاہے۔
ایم
۔ مبین کی کہانیاں
آج کی سچویشن
کی شاعری ہےاور
یہ شاعری اپنی
تمام تر اِظہاری
قوت کےساتھ
ہمارےعہد کےضمیروں
کو جھنجھوڑ رہی
ہے۔ یہ اِسی نوع
کی پویٹری ہےجیسی
وار اینڈ پیس
وِد رِنگ ہائٹس
میں اور جین
آسٹن کےہاں ملتی
ہی
پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔421302
ضلع تھانہ (مہاراشٹر)
Contact:-
M.Mubin
303-Classic Plaza,Teen Batti
BHIWANDI-421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)
Mobile:-09372436628