افسانہ

بلندی

از:۔ایم مبین
 

 



کال بیل بجی ۔
دروازہ کھولنےپر سامنےکچھ ایسی صورتیں نظر آئیں جو دیکھنےسےہی ناگوار سی لگیں ۔ ” کیا بات ہے؟ “ میں نےاستفہامیہ نظروں سےان کی طرف دیکھا ۔
بھاو¿ کا ہفتہ دو ؟ “
بھاو¿کا ہفتہ ........ ؟ میں سمجھا نہیں ۔ “ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔
نیا نیا یہاں رہنےکےلئےآیا ہےناں اس لئےادھر کےطور طریقےمعلوم نہیں ہیں ۔ ایک دو مہینےمیں سب معلوم ہوجائےگا ۔ چپ چاپ دو سو روپیہ دےدو ۔ “ ایک نےکہا ۔
دو سو روپے.... ! مگر کس بات کےدو سو روپے؟ “ میں نےپوچھا ۔
اےاکبر ! اِدھر آ اور یہ جو تیرا نیا پڑوسی آیا ہےناں اسےبتا کہ ہم کس بات کےدوسو روپےمانگ رہےہیں ۔ تُو اسےبتا دے۔ اگر تجھ سےہماری بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تو ہم اپنی زبان میں اپنےانداز میں اسےسمجھائیں گےکہ ہم کس ئےدو سو روپےمانگ رہےہیں ۔ “ ایک نےاکبر بھائی کو آواز دی ۔
ارےنہیں دامو بھائی ! میں انہیں سمجھا دوں گا ۔ آپ کو اسےسمجھانےکی ضرورت نہیں پڑےگی ۔ “ کہتےہوئےاکبر بھائی آگےآئےاور مجھ سےبولے۔
سلیم صاحب ! انہیں دو سو روپےدےدیجئے۔ “
مگر دو سو روپےکس بات کے؟ “
وہ میں آپ کو بعد میں سمجھا دوں گا پہلےآپ انہیں دو سو روپےدےدیجئی۔“ اکبر بھائی نےاصرار کیا تو میں سوچ میں ڈوب گیا ۔ جو لوگ دو سو روپےمانگ رہےتھے۔ صورت و شکل سےایسےتھےکہ اگر ان کی مانگ پوری نہیں کی گئی تو وہ مجھ سےالجھ سکتےتھے۔ الجھنےکی صورت میں مجھےہی گزند پہنچ سکتی تھی ۔ لیکن دو سو روپےمفت میں انہیں دینا میرےحلق سےنیچےنہیں اتر رہا تھا ۔
کچھ سوچ کر میں نےانہیں دو سو روپےدےدئے۔ جاتےوقت وہ اکبر بھائی سےکہہ گئے۔ ” اکبر ! ہم کس لئےپیسہ مانگتےہیں اسےاچھی طرح سمجھا دینا ۔ اگلی بار اس نےکوئی حجت نہیں کرنی چاہیئے۔ اگر اگلی بار ہفتہ کےلئےیہ ہم سےالجھا تو ہم اس کا حلیہ بگاڑ دیں گے۔
نہیں نہیں دامو بھائی ! اگلی بار ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔ میں انہیں سب سمجھا دوں گا ۔ “ اکبر بھائی نےکہا اور ان کےجانےکےبعد گھر میں آگئے۔
سلیم بھائی ! آپ یہاں نئےنئےرہنےکےلئےآئےہیں اس لئےیہاں کےطور طریقےنہیں معلوم ۔ یہاں کا ایک دادا ہےجو یہاں کی شاکھا کا پرمکھ بھی ہے۔ وسنت‘ہر مہینےاس کو ہفتہ دینا پڑتا ہے۔ اس کو ہفتہ دینےسےایک فائدہ یہ ہوتا ہےکہ اس کالونی میں کبھی کچھ نہیںہوتا ۔ کوئی غنڈہ آنکھ اٹھا کر بھی اس کالونی کی طرف نہیں دیکھتا ہےنہ اس کالونی کی کسی لڑکی کو چھیڑنےکی ہمت کرتا ہے۔ اور تو اور اگر کسی دوسری کالونی کا کوئی آدمی بھی اس کالونی کےکسی فرد سےالجھتا ہےتو وسنت کےآدمی اسےایسا سبق سکھاتےہیں کہ وہ دوبارہ اس کالونی کےپاس سےگذرنےسےبھی خوف کھاتا ہےاور پھر ہم تو مسلمان ہیں ۔ پتہ نہیں کب کہیں چھوٹی سی چنگاری بھڑک اٹھےاور وہ چنگاری شعلہ بن کر ہماری چھوٹی سی دنیا ہماری ساری زندگی کی خون پسینےکی کمائی جلا کر خاک کردیں ۔ اگر ایسا کوئی واقعہ بھی ہوا تو ہم پر کوئی آنچ نہیں آتی ہے۔ وسنت کےآدمی ہماری حفاظت کرتےہیں سمجھ لیجئےکہ ایک طرح سےہم اپنی حفاظت کی قیمت ادا کر رہےہیں ۔ “ اکبر بھائی نےتفصیل سےبتایا ۔
کیا کالونی کےدوسرےافراد بھی ہفتہ دیتےہیں ۔ “
ہاں سبھی دیتےہیں ۔ ہم اپنی اپنےگھروں کی حفاظت کےلئےہفتہ دیتےہیں ۔ تو وہ بھی اپنی حفاظت کےلئےہفتہ دیتےہیں ۔ جو ہفتہ نہیں دیتا اس کا کالونی میں رہنا دشوار ہوجاتا ہے۔ وسنت کےآدمی اسےاتنا تنگ کرتےہیں کہ اس کا یہاں رہنا دوبھر ہوجاتاہے۔ کوئی بھی اسےان سےنہیں بچا سکتا ۔ یہاں تک کہ پولس بھی وسنت کےآدمیوں کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی ۔ مجبوراً یا تو اسےوسنت کو ہفتہ دینا پڑتا ہےیا پھر یہ کالونی چھوڑ دینی پرتی ہے۔ “
اچھا یہ وسنت پوار ہےناں ؟ جو اس بار اس علاقےسےمیونسپل الیکشن میں کھڑا ہونےوالا ہے۔ “ مجھےکچھ یاد آیا ۔
ہاں وہی ۔ کھڑا کیا ہوگا میں تو کہتا ہوں وہ اس علاقےسےمنتخب بھی ہوجائےگا ۔کیونکہ پورےعلاقےمیں اس کا رعب اور دبدبہ ہےاس علاقےکا شاکھا پرمکھ ہے۔ اس لئےاس کی جیت یقینی ہے۔ “ اکبر بھائی بولے۔
وسنت پوار ........ ! “ میں نےدہرایا ۔ ” نام کچھ شناسا سا لگ رہا ہےیا میں سمجھتا ہوں کہ اس آدمی کو میں بہت قریب سےجانتا ہوں ۔ اس کےبارےمیں کچھ اور تفصیل سےبتائیی۔ “
میں بھی نیا نیا اس علاقےمیں آیا ہوں ۔ “ اکبر بھائی بولے۔ ” اس لئےمیں بھی وسنت کےبارےمیں زیادہ تفصیل سےنہیں بتاسکتا ۔ سنا ہےوہ اس علاقےکا لیڈر ہے‘ بلڈر ہے‘ دادا ہے‘ شاکھا پرمکھ ہےاور سب کچھ ہے۔ “
یہ وسنت کےآدمی تھے۔وسنت ایسا بھی کرتا ہےیا یہ سب بھی کرسکتا ہےمجھےیقین نہیں آرہا تھا لیکن یقین نہ کرنےکی کوئی وجہ بھی نہیں تھی ۔جو کچھ میں نےوسنت کےبارےمیں سن رکھا تھا ‘ جو کچھ اس کےبارےمیں اخبارات میں پڑھا تھا اس کےبعد وہ یہ کرسکتا ہےاس پر یقین نہ کرنےکا کائی جواز بھی نہیں تھا ۔
دراصل پانچ سال قبل تک وسنت میرا ہم پیالہ و ہم نوالہ تھا ۔ اس کی زندگی کےہر پہلو ہر دکھ سکھ کو میں جانتا تھا دراصل اسےاس شہر میں لانےوالا بھی میں ہی تھا ۔ لیکن گذشتہ پانچ سالوں میں ایک بار بھی اس کا سامنا نہیں ہوسکا ۔ صرف اس کےبارےمیں ‘ میں سنتا رہا کہ وہ آج کل کہاں ہےاور کیا کر رہا ہےیا پھر اس کےبارےمیں اخباروں میں پڑھتا رہا ۔ یا کسی سیاسی جلسےمیں اسٹیج پر اسےدیکھ لیتا ۔ لیکن اس وقت وہ اسٹیج پر ہوتا اور میں تماشائیوں میں ۔
سات سال قبل میں وسنت کو اپنےساتھ اپنےآبائی گاو¿ں سےاس شہر میں لایا تھا ۔ وسنت سےبہت پرانی جان پہچان تھی ۔ گاو¿ں میں چھوٹےموٹےکام کاج کرکےوہ اپنا اور اپنےخاندان کا پیٹ بھرتا تھا ۔ سال دو سال میں جب کبھی میں گاو¿ں جاتا وسنت سےملاقات ہوتی تو ادھر ادھر کی باتیں کرنےکےبعد وہ مجھ سےایک ہی استدعا کرتا تھا۔ ” سلیم بھائی ! گاو¿ں میں چھوٹےموٹےکام کرکےبڑی مشکل سےاپنا اور اپنےخاندان کا پیٹ پالتا ہوں ۔ بچت کےنام پر ایک پیسہ بھی پاس میں نہیں ہےجو آڑےوقت میں کام آئے۔ آپ تو شہر میں بہت بڑی کمپنی میں کام کرتےہیں ۔ آپ کی فیکٹری میں کام کرنےکےلئےمزدوروں کی ضرورت تو پڑتی ہی ہوگی ۔ مجھےبھی فیکٹری میں کوئی کام دلا دیجئے۔
اسےفیکٹری میں لیبر کا کام دلانا میرےلئےکوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ لیکن میں اس بات سےڈرتا تھا کہ وہ گاو¿ں کا بھولا بھالا آدمی شہر کےمسائل اور مصائب کا سامنا نہیں کرسکےگا ۔ اس لئےاسےسمجھاتا تھا کہ گاو¿ں میں اسےجو آدھی روٹی مل رہی ہے۔ وہیٹھیک ہے۔ لیکن اس کےبہت زور دینےپر ایک دن میں اسےاپنےساتھ شہر لےآیا۔ اس وقت میں شہر کی ایک چال میں رہتا تھا ۔ دو دنوں تک وہ میرےگھر میں ہی رہا ۔ ہم جو کھاتےہمارےساتھ کھاتا اور دروازےکےپاس بستر لگا کر ٹھٹھر کر پڑا رہتا ۔
دو دنوں کےبعد میں اسےاپنی فیکٹری کےمنیجر کےپاس لےگیا اور اس کا تعارف کراتےہوئےکہا ۔ ” منیجر صاحب ! میرےگاو¿ں کا آدمی ہےبہت محنتی اور ایماندار ہےاسےکوئی کام دےدیجئے۔ “
منیجر نےمیرےکہنےپر اسےفوراً کام پر لگا دیا ۔ اس دن سےوہ میرےساتھ ہی کام پر جانےلگا ۔ ہم دونوں ساتھ ساتھ گھر سےآفس جانےکےلئےنکلتے۔ وہ نیچےفیکٹری میں جاکر مشینوں پر کام کرتا اور میں اوپر آفس میں کاغذات میں سر کھپاتا ۔
ایک مہینےتک وہ میرےگھر میں رہا ۔ وہ سویرےپانچ بجےہی اٹھ جاتا تھا ۔ نہا دھوکر مندر جاتا اور آتےوقت گھر کا ضروری سامان لےآتا ۔ پھر ہم ساتھ ناشتہ کرتےاور ساتھ میں ٹفن لےکر آفس جاتے۔ واپسی میں ہمارےراستےالگ الگ ہوتےتھے۔ وسنت کےلئےشہر نیا تھا اس لئےوہ گھومنےپھرنےکےلئےنکل جاتا تھا ۔ آٹھ بجےوہ گھر واپس آتا ۔ ہم ساتھ رات کا کھانا کھاتےاس کےبعد وہ اس محلےکی ایک بھجن کیرتن منڈلی میں بھجن گانےچلا جاتا تھا ۔ رات بارہ بجےکےقریب وہ وہاں سےآتا تھا ۔ ہفتےمیں دو تین اپواس ( روزے) ضرور کرتا تھا ۔ وہ سات مختلف دیوتاو¿ں کو مانتا تھا ۔ یہ دن اس نےطےکر رکھا تھا کہ اس دن کس دیوتا کےمندر جایا جائے۔
جب پہلی تنخواہ اس کےہاتھ میں آئی تو ان پیسوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ” سلیم بھائی ! میں نےزندگی میں خود کےاتنےپیسےنہیں دیکھے۔ “ اس نےکھانےکےپیسےدینےچاہےمگر میں نےانکار کر دیا ۔
اس کےبعد اپنےگھر والوں کو شہر لانےکی اس میں دھن سمائی لیکن شہر میں رہنےکےلئےکوئی ٹھکانہ حاصل کرلینا اتنا آسان نہیں تھا ۔ وہ دو تین مہینوں تک اس ٹھکانےکےلئےدردر بھٹکتا رہا۔
ایک دن آیا تو بہت خوش تھا ۔ ”ایک جگہ کسی کی زمین پر غیر قانونی جھونپڑےبن رہےہیں میں نےبھی ایک جھونپڑا بنا لیا ہے۔ اب میں وہیں رہوں گا ۔ کل ہی جاکر اپنےگھر والوں کو لےآتا ہوں ۔ “ دوسرےدن جاکر وہ اپنےبیوی بچوں کو لےآیا اور اس جھونپڑی میں رہنےلگا ۔ فیکٹری میں وہ محنت اور لگن سےکام کرتا تھا ۔ ہر کوئی اس کی تعریف کرتا تھا ۔ اس کےبعد وہ کچھ بدمعاش قسم کےلوگوں کےہتھےچڑھ گیا ۔
فیکٹری میں ان لوگوں کی ایک یونین تھی ۔ وہ لوگ کام وغیرہ تو نہیں کرتےتھےاپنی یونین اور یونین کےلیڈروں اور اس یونین کی مدد کرنےوالی سیاسی پارٹی اور اس کےآقا کا نام لےکر ڈراتےدھمکاتےتھے۔ ان کےساتھ رہنےسےوسنت بھی ان کےجیسا ہوگیا ۔ کام میں اس کا دل نہیں لگتا ۔ بات بات پر وہ آفیسروں اور مالکوں سےالجھتا اور ہڑتال کرنےکی دھمکی دیتا اور کام بند کرادیتا تھا ۔ اس کی ان حرکتوں سےمنیجر اور مالک عاجز آگئےتھے۔ منیجر کےکہنےپر ایک دوبار میں نےبھی اسےسمجھایا تھا کہ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سےاسےکام پر سےنکالا جاسکتا ہے۔ لیکن اس نےصاف جواب دےدیا تھا ۔
وہ لوگ مجھےکام سےنہیں نکال سکتے۔یونین ہمارےساتھ ہےہم فیکٹری کو جلا کر راکھ کردیں گے۔ اگر مالکوں نےہمارےخلاف کوئی قدم اٹھایا ۔ “
آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ وسنت کو کام پر سےنکال دیا گیا ۔ وسنت نےاپنی یونین کی مدد سےہڑتال کی فیکٹری میں توڑ پھوڑ مچائی ۔ مجبوراً مالکوں نےوہ فیکٹری بند ہی کردی ۔ اس وقت تک میرا تبادلہ دوسرےآفس میں ہوچکا تھا ۔ اس کےبعد وسنت کی مجھ سےملاقات نہیں ہوسکی ۔ اس کےبارےمیں صرف خبریں ملتی رہیں ۔ اس کےبعد سنا کہ وہ شہر کی ایک سڑک کےنکڑ پر وڑا پاو¿ کی گاڑی لگاتا ہے۔ اس میں اچھی خاصی آمدنی ہوجاتی ہے۔ اور اس کےخاندان کا پیٹ پل جاتا ہے۔
پھر سنا کہ اس نےوہ گاڑی کسی کو کرائےپر دےدی کیونکہ اسےاس گاڑی کا اچھا خاصہ کرایہ مل رہا تھا ۔ جب اتنا زیادہ کرایہ مل رہا ہو تو پھر محنت کرنےکی کیا ضرورت ۔ وہ اس کرایےمیں اپنا گذر بسر کرنےلگا ۔
ایک دن خبر ملی جس جگہ پر وسنت جھونپڑا بنا کر رہتا ہےاس جگہ کا مالک اس جگہ پر تعمیر غیر قانونی جھونپڑےخالی کرا رہا ہے۔ اس کوشش میں ان جھونپڑےوالوں اور مالک کا ٹکراو¿ ہوگیا ہے۔ اس ٹکراو¿ میں جھونپڑےوالوں کی طرف سےوسنت پیش پیش ہے۔
ایک دن سنا کہ اس زمین پر تعمیر تمام جھونپڑےتڑوانےمیں اس زمین کا مالک کامیاب ہوگیا ہے۔ اس کی اس کامیابی میں وسنت نےنمایاں رول ادا کیا ہے۔
مالک نےوسنت کو اپنی طرف سےملا لیا اور اسےاچھی خاصی رقم اس بات کےلئےدی کہ وہ ان لوگوں کو کسی طرح جگہ خالی کرنےکےلئےراضی کرلے۔ وسنت نےیہ کام کردیا ۔
اس نےایک مخصوص رقم ہر جھونپڑےوالےکو دی اور اسےجھونپڑا خالی کرنےکےلئےراضی کیا اور بدلےمیں ایک دوسری جگہ بتائی جہاں وہ جھونپڑا بنا کر رہ سکتےہیں ۔ ان لوگوں کو اور کیا چاہیئےتھا ۔ وہاں سےہٹنےکےلئےاچھی خاصی رقم مل رہی تھی اور رہنےکےلئےدوسری جگہ بھی مل رہی تھی ۔
وسنت نےایک دوسری زمین پر قبضہ کرکےان لوگوں کو ناجائز جھونپڑےبنانےمیں مدد کی ۔ اور ایک نئی جھونپڑا بستی تعمیر ہوگئی ۔ اس بستی کا مالک وسنت تھا ۔ وہ تمام جھونپڑےوالوں سےکرایہ وصول کرتا تھا اور وہ خوشی خوشی اسےکرایہ دیتےتھےکیونکہ اب وہی ان کا محافظ تھا ۔ اس درمیان وہ ایک سیاسی پارٹی کا رکن بن گیا تھا ۔ اس کےبعد وہ اس سیاسی پارٹی کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینےلگا تھا جس کی وجہ سےاس کا اس سیاسی پارٹی میں مقام بن گیا تھا اور اس سیاسی پارٹی کی پشت پناہی مل جانےکےبعد اس کی طاقت بھی بڑھ گئی تھی اسےاس سیاسی پارٹی کی ایک شاخ کا پرمکھ بھی بنا دیا ۔ وہ اس سیاسی پارٹی کےپروگراموں ‘ مذہبی جلوسوں اور حکمراں کےجشن ولادت کےجلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا ۔ اس دوران شہر میں ایک دو فرقہ ورانہ فسادات بھی ہوئے۔ ان فسادوں میں بھی وسنت نےبڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
اس نےان فسادات میں سینکڑوں گھر جلائے۔ لاکھوں روپوں کا قیمتی سامان لوٹا کئی لوگوں کو زخمی کیا اور جان سےبھی مارا ۔ فسادات کےبعد بےشمار شکایتوں پر پولس نےاسےفساد کرنےکےالزام میں گرفتار بھی کیا لیکن دباو¿ سےدو تین دنوں میں چھوڑ دیا ۔
اس کےپاس بےشمار دولت جمع ہوگئی تھی ۔ سیاست کےساتھ ساتھ وہ سماج سیوا کےنام پر بھی پیسہ جمع کرتا تھا ۔ اس کےبعد اس نےاپنا بزنس شروع کردیا ۔ وہ بلڈر بن گیا ۔ وہ شہر کی خالی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکےان زمینوں کےمالکوں سےاونی پونی قیمتوں پر وہ زمینیں حاصل کرلیتا اور ان پر عمارتیں بنا کر اونچی قیمتوں میں فروخت کرکےلاکھوں روپےکماتا ۔
جس پارٹی سےاس کا تعلق تھا اس کی ریاست میں حکومت قائم ہوجانےکے بعد وسنت کا رسوخ بڑھتا ہی گیا ۔ اس کےلئےکوئی بھی کام نا ممکن نہیں رہا ۔ وہ جائز نا جائز طریقوں سےزمینیں حاصل کرکےقانونی ‘ غیر قانونی طریقوں پر عمارتیں بنا کر فروخت کرتا اور پیسہ کماتا ۔ اس پورےعلاقےمیں اس کا دبدبہ سا چھایا ہوا تھا ۔ چھوٹےبڑےہر طرح کےجھگڑےنپٹانےکےلئےلوگ اس کےپاس جاتےتھےاور وہ اپنا مناسب حق محنت لےکر ان تمام تنازعات کو حل کردیتا تھا ۔
وہ اگر غلط بھی کرتا تھا تو اسےٹوکنےکی کسی میں ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔ وہ کئی قتل کےکیسوں میں ملوث تھا لیکن پولس اس پر ہاتھ ڈالنےکی ہمت نہیں کرتی تھی نہ کوئی اس کےخلاف زبان کھولتا تھا ۔
اس چھوٹی سی چال کےچھوٹےسےکمرےرہتےرہتےمیں تنگ آگیا تھا ۔ اتنےدنوں میں میں نےاتنےپیسےجمع کرلئےتھےکہ میں کسی اچھی جگہ اچھا سا فلیٹ لےسکوں۔ اگر پیسےکم بھی پڑیں تو سرکاری ، غیر سرکاری قرضہ جات کا سہارا تھا ۔ اس درمیان ایک اسٹیٹ ایجنٹ نےاس کالونی میں بکنےوالےایک فلیٹ کےبارےمیں مجھےبتایا ۔ پہلی نظر میں مجھےفلیٹ اور کالونی پسند آگئی ۔ فلیٹ خرید لیا گیا اور ہم وہاں رہنےکےلئےآگئے۔ وہاں آنےکےبعد پتہ چلا کہ یہ وسنت کا علاقہ ہےاور وہاں رہنےکےلئےبھی وسنت کو ہفتہ دینا پڑتا ہے۔ ان باتوں کےبعد وسنت سےملنےکی خواہش دل میں جاگی ۔ لیکن پتہ نہیں تھا کہ وسنت سےملنا اتنا آسان نہیں ہے۔ وسنت جن لوگوں سےملنا ضروری سمجھتا ہے۔ انہی سےملتا ہےجن سےاسےکوئی فائدہ ہو ۔
وسنت سےملنا تو بہت ضروری تھا ۔ لیکن اس سےملنےکا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ آخر اس سےملنےکا میں نےراستہ سوچ لیا ۔ اگلی بار دامو جب وسنت کا ہفتہ مانگنےآیا تو میں نےہفتہ دینےسےانکار کردیا اور کہا کہ میں وسنت سےملنا چاہتا ہوں ۔
اےکاہےکو اپنی موت کو دعوت دےرہا ہے۔ بھاو¿ سنےگا کہ تیرےکو اس لئےاس کےپاس لایا کہ تُونےہفتہ دینےسےانکار کیا ہےتو کچھ سننےسےپہلےتجھ پر چاقو کےدوچار وار مار کر تجھےادھ مرا کردےگا ۔ “
کچھ بھی ہو میں وسنت سےملنا چاہتا ہوں ۔ “ جب میں نےاصرار کیا تو وہ مجھےوسنت کےقلعہ میں لےگئے۔ وہ قلعہ وسنت کا آفس تھا جہاں بیٹھ کر وہ ہر کسی کا انصاف کرتا تھا ۔ عالیشان ڈرائنگ روم جس میں ساری دنیا کےعیش و آرام کی لاکھوں کروڑوں روپوں کی چیزیں سجی تھیں ۔ وسنت کی دولت اور اس کی بلندی دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ۔ میں نےخواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میرےساتھ اس شہر میں آنےوالا وسنت اتنی جلدی اس بلندی پر پہنچ جائےگا اور میں اسےنیچےسےتاک کر اس کےسامنےبونا بن جاو¿ں گا ۔
بھاو¿ .... ! یہ شخص نیا نیا کالونی میں رہنےآیا ہےاور ہفتہ دینےسےانکار کر رہا ہے۔ اور آپ سےملنا چاہتا ہے۔ “
کون ہےوہ حرامزادہ جو مجھےہفتہ دینےسےانکار کرر ہا ہے۔ “ دامو کی بات سنتےہی وسنت غصےمیں بھرا مڑا ۔ مجھ پر نظر پڑتےہی وہ ٹھٹھک کر رہ گیا اور کچھ سوچنےلگا ۔
سلیم بھائی آپ ! “ وہ مجھےحیرت سےدیکھتا ہوا بولا ۔
ہاں وسنت .... ! میں ۔ “ میں نےجواب دیا ۔
ارےآئیےسلیم بھائی ! میں نےتو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کبھی آپ سےاس طرح ملاقات ہوگی ۔ سلیم بھائی ! اتنےدنوں بعد آپ کو دیکھ کر میں کہہ نہیں سکتا مجھےکتنی خوشی ہورہی ہی۔ “ ہم دونوں پاس بیٹھ گئےاور باتوں کا سلسلہ چل نکلا ۔ وہ مجھےبتانےلگا کہ وہ کس طرح اس مقام پر پہنچاہے۔ اور میں چپ چاپ دیکھتا رہا ۔
سلیم بھائی ! آپ مجھےاس طرح کیوں دیکھ رہےہیں ؟ “ وہ آخر پوچھ بیٹھا ۔
دیکھ رہا ہوں۔ میرےساتھ آیا ہوا گاو¿ں کا بھولا بھالا وسنت پوار کتنی جلدی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ “
سلیم بھائی ! وسنت پوار بہت جلد بہت بلندی پر پہنچا ضرور ہے۔ “ وسنت درد بھرےلہجےمیں بولا ۔ ” لیکن اس بلندی تک پہنچنےکےلئےاس نےاپنےاندر کی تمام اچھائیوں ، اخلاقیات ، اوصاف کو قتل کرکےان کی لاشوں کی سیڑھی بنا کر اس بلندی کو حاصل کیا ہے۔ “

پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)
 


 


پتہ
:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)
 

M.Mubin

Classic Plaza, Teen Batti

BHIWANDI_ 421302

Dist.Thane Maharashtra  India)

Mob:- 09322338918)  )

mmubin123@yahoo.com

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short  tStory  about common man's suffiring

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



  Domain Name + 1GB Linux India Web Hosting in Rs.349