افسانہ

 برین ٹیومر

از:۔ایم مبین




جب ہوش آیا تو اس نےخود کو ایک سڑک کےکنارےایک درخت کےنیچےبیٹھا ہوا پایا۔ سامنےتارکول کی سڑک پر دور دور تک دھوپ پھیلی ہوئی تھی ۔ اکا دکا سواریاں آجا رہی تھے۔ آس پاس کی فلک بوس عمارتوں کی بالکنیاں ویران تھیں ۔ دھوپ کی شدت کی وجہ سےشاید مکین ان سےجھانکنےکی جسارت بھی نہیں کررہےتھے۔
سڑک کی دونوں طرف دور دور تک دکانوں کا ایک سلسلہ تھا ۔ ان میں کچھ دوکانیں بند تھیں لیکن باقی کھلی ہوئی تھیں ۔ بند دوکانوں کےشیڈ میں ایک دو آوارہ کتےدھوپ اور گرمی سےبچنےکےلئےلیٹےہوئےتھے۔ یا اکا دکا راہ گیر ان کےسائےمیں کھرےہوکر سستا رہےتھے۔ کبھی کبھی ان کی بےچین نظریں بار بار ویران سڑک کی طرف اٹھ جاتی تھیں ۔ شاید انہیں اپنی سواری کا انتظار تھا ۔
جو دوکانیں کھلی ہوئی تھیں ان میں گاہکوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔ ان دوکانوں میں ان دوکانوں کےمالک اور ان میں کام کرنےوالےنوکر بیٹھےیا تو اونگھ رہےتھےیا منہ پھاڑ کر جماہیاں لےرہےتھے۔
وقت معلوم کرنےکےلئےاس نےاپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی تو اس کا دل دھک سےرہ گیا ۔ کلائی پر گھڑی نہیں تھی ۔
کلائی پر بندھی گھڑی نہ دیکھ کر یاد آیا کہ اس کےپاس ایک چھوٹی سی اٹیچی بھی تھی ۔جس میں دوپہر کےکھانےکا ڈبہ ‘ ایک دو غیر ضروری فائل ‘ کچھ اخبارات اور رسالےاور کچھ نوٹس وغیرہ تھے۔
وہ اٹیچی اسےکہیں نظر نہیں آئی ۔ اس کا مطلب تھا وہ اٹیچی بھی گھڑی کی طرح غائب ہے۔ لاشعوری طور پر اس کا ہاتھ پتلون کی جیب کی طرف رینگ گیا اور وہ جیب میں پرس تلاش کرنےلگا ۔
ظاہر سی بات ہےایسی حالت میں جیب میں پرس کی موجودگی ناممکن سی بات تھی ۔ اس نےایک ٹھنڈی سانس لی اور پتلون کی چور جیب میں اپنی انگلیاں ڈالیں اس کی انگلیاں نوٹوں سےٹکرائیں تو اسےکچھ اطمینان ہوا ۔
پرس میں دس بیس روپیوں کےنوٹ ‘ کچھ وزیٹنگ کارڈ اور لوکل کا ماہانہ پاس تھا۔
دھیرےدھیرےاسےیاد آنےلگا کہ جب وہ گھر سےآفس جانےکےلئےنکلا تھا تو سر میں ہلکا ہلکا درد تھا ۔ جو وقت گزرنےکےساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا ۔ اسےاچھی طرح یاد ہےوہ وی ٹی جانےوالی لوکل ٹرین میں سوار ہوا تھا ۔ لیکن پھر ٹرین سےیہاں کس طرح پہنچا ؟ اسےکچھ یاد نہیں آرہا تھا ۔
مگر یہ جگہ کون سی ہے؟
اس سوال کےذہن میں سر اٹھاتےہی اس نےسامنےوالی دوکانوں کےسائن بورڈ غور سےدیکھے۔
” تم میں اس وقت گھاٹ کوپر میں ہوں ۔ “ بڑبڑاتےہوئی اس نےاپنےہونٹ بھینچےاور پھر آسمان کی طرف دیکھنےلگا ۔ سورج جس زاویےپر رکا ہوا تھا اس سےتو ایسا لگ رہا تھا کہ اس وقت دوپہر کا ایک یا ڈیڑھ بج رہا ہوگا ۔
وہ ممبرا سےآٹھ بجےلوکل میں سوار ہوا تھا ۔
اس کا مطلب ہےوہ چار ‘ پانچ گھنٹےمدہوشی کےعالم میں رہا ۔
جسم پر کوئی خراش کا نشان نہیں تھا ۔ اس کا مطلب ہےآج اس کےساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا ۔
بس کچھ گھنٹوں کےلئےاس کےدماغ کا جسم سےرابطہ ٹوٹا اور اس درمیان جسم نےکیا کیا ‘ کیا اور اس کےساتھ کیا ہوا اسےکچھ یاد نہیں آرہا تھا ۔ اور اب یاد آبھی نہیں سکتا تھا ۔
اسےعلم تھا دماغ سےجسم کا رابطہ ٹوٹتےہی وہ لوکل سےاتر گیا ہوگا اور یونہی انجان سڑکوں پر بےمقصد آوارہ گردی کررہا ہوگا ۔ یا تو پھر چکرا کر اسی جگہ گرپڑا ہوگا جس جگہ اس وقت بیٹھا ہے۔ یا پھر مدہوشی میں عجیب و غریب مجنونانہ حرکتیں کرکےلوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہوگا ۔
اس کی مجنونانہ حرکتیں اور اس کےہاتھ کی اٹیچی کسی غنڈےکی توجہ کا مرکز بنی ہوگی ۔
غنڈےنےبڑےاطمینان سےاسےاس جگہ بٹھایا ہوگا جہاں اس وقت وہ بیٹھا ہوا ہے۔ بڑےاطمینان سےاس نےاس سےایک دو باتیں کی ہوں گی اور اس کی کلائی سےگھڑی اتاری ہوگی پھر جیب سےپرس نکالا ہوگا اور ہاتھ سےاٹیچی لےکر اطمینان سےچلتا بنا ہوگا ۔ وہ چپ چاپ اسےجاتا دیکھ رہا ہوگا یا پھر درخت کےسائےمیں لیٹ گیا ہوگا ۔ کیا ہوا ہوگا ؟ اس بات کا وہ صرف اندازہ ہی لگا سکتا تھا ۔ اس کےساتھ کیا ہوا ہے؟ کسی سےمعلوم بھی نہیں ہوسکتا تھا ۔ مگر جو کچھ اس کےساتھ ہوا اسےاس کا بہت افسوس تھا ۔
آج اسےپھر گھر والوں اور بیوی کو اپنےلٹنےکی ایک فرضی کہانی سنانی پڑےگی لیکن وہ کل آفس میں کیا جواب دےگا ؟ بنا اطلاع کےوہ آفس سےکیوں غائب رہا ۔ اسی طرح پہلےہی اس کی بےشمار چھٹیاں ہوچکی تھیں ۔ اور آج تو آفس میں اس کی موجودگی بےحد ضروری تھی ۔
اس کی غیر حاضری سےآفس میں ہنگامہ مچ گیا ہوگا ۔
ڈیڑھ دو ہی بج رہےہیں ۔ کیا کریں ؟ آفس جانےکا اب بھی وقت ہے۔
لیکن وہ اپنےآپ کو جسمانی طور پر اتنا لاغر اور تھکا ہوا محسوس کررہا تھا کہ نہ تو اس میں آفس جانےکی قوت تھی نہ گھر واپس جانےکی ۔ لیکن آفس بھی نہ جائےاسےواپس گھر تو جانا ہی پڑےگا ۔
وہ اٹھا اور بوجھل قدموں سےاسٹیشن جانےکا راستہ ڈھونڈتا اسٹیشن کی طرف چل دیا ۔ راستےمیں اس نےایک گاڑی والےکےپاس سےوڑا پاو

¿ کھایا اور چائےپی ۔
کچھ دیر قبل جس بھوک کی شدت سےاسےکمزوری کا محسوس ہورہی تھی وہ کچھ دور ہوئی ۔ اس کےذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی ۔
” آج پھر اس پر دورہ پڑا تھا ۔ اور یہ دورہ پانچ چھ گھنٹوں کا تھا ۔ “
ڈاکٹروں کا کہنا تھا ممکن ہےشروعات میں اس طرح کےدورےکچھ گھنٹوں تک محدود رہیں لیکن یہی صورت حال رہی تو یہ دورےکئی کئی دن اور کئی کئی مہینوں کےبھی ہوسکتےہیں ۔ یعنی وہ کئی کئی مہینوں تک زندہ ہوتےہوئےبھی مردوں سا رہےگا ۔ مہینوں ایسی زندگی گزارسکتا ہےجس کا اس کی اصلی زندگی سےکوئی تعلق نہیں ہوگا ۔ اس کی اصلی زندگی کی کوئی بات اسےیاد نہیں آئےگی ۔ اور بعد میں اس لا تعلق زندگی کی کوئی بات بھی اسےیاد نہیں آئےگی ۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہےاس طرح کےدوروں کےدرمیان وہ ٹیومر پھٹ جائےاور اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔
” آخر وہ پھٹ کیوں نہیں جاتا ؟ “ وہ جھنجھلا کر سوچنےلگا ۔ ” اسےپھٹ جانا چاہئیے۔ اس کےپھٹ جانےسےمجھےاس کربناک زندگی سےنجات تو مل جائےگی ۔ “
” تم مرنا چاہتےہو ؟ “ اس کےاندر کوئی زور سےہنسا ۔ ” نہیں ‘ تم مر نہیں سکتےتم مرنےسےڈرتےہو ۔ تم مرنا نہیں چاہتےہو ۔ اسی لئےتو تم اپنا علاج نہیں کروا رہےہو ۔ کیونکہ ممکن ہےعلاج کےدوران تمہاری موت واقع ہوجائے۔ یا تم زندگی بھر کےلئےاندھے‘ لنگڑے‘ لولے‘ اپاہج ہوجاو

¿ ۔ یا تمہارا ذہن ہمیشہ کےلئےایک کبھی نہ چھٹنےوالی تاریکی میں ڈوب جائے۔ اور تم ہوش میں رہتےہوئےبھی ہمیشہ کےلئےبےہوش ہوجاو

¿ ۔ “
آخر وہ ان دوروں کا عذاب کب تک جھیلتا رہےگا ؟
شاید موت ہی اسےاس عذاب سےنجات دلا سکتی ہے۔ لیکن موت کب آئےگی ؟ جب اس کےدماغ کا ٹیومر پھٹ جائےگا ۔
اس کےدماغ کا ٹیومر کب پھٹےگا ؟
اس بارےمیں تو نہ کوئی بتا سکتا تھا اور نہ کوئی پیشن گوئی کرسکتا ہے۔ ممکن ہےابھی ایک سیکنڈ بعد وہ ٹیومر پھٹ جائےیا پھر ہوسکتا ہےزندگی بھر وہ ٹیومر نہ پھٹےاور زندگی بھر وہ اس عذاب میں مبتلا رہے۔
اسےتو اس بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ اس کےدماغ میں کوئی ٹیومر بھی ہے۔ جسےعرف عام میں برین ٹیومر کہتےہیں ۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ بچپن سےوہ درد سر کا مریض تھا ۔ اور بڑھتی عمر کےساتھ ساتھ وہ درد بڑھتا ہی گیا ۔ اور وہ اس کربناک عذاب میں مبتلا رہا ۔
بچپن میں جب اس کا سر درد کرتا تو وہ اس درد کا بہانہ بنا کر اسکول سےچھٹی لےلیتا تھا ۔ اس کےٹیچر اس کےچہرےکےتاثرات اور کیفیت دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیتےتھےکہ سچ مچ اس کےسر میں سخت درد ہےاور وہ اسےچھٹی دےدیتےتھے۔ اس وقت وہ بہت خوش ہوتا تھا اور سوچتا تھا روزانہ اس کا سر دکھا کرےاور اسےروزانہ اسی طرح اسکول سےچھٹی ملتی رہے۔
لیکن بڑھتی عمر کےساتھ بڑھنےوالی اس سر درد کی تکلیف سےاسےکوفت ہونےلگی تھی۔ اس نےاس مرض کی کئی ڈاکٹروں سےدوائیں لیں ۔ ڈاکٹروں کی دواو

¿ں سےوقتی طور پر درد غائب ہوجاتا ۔ لیکن کچھ دنوں بعد پھر معمول کےمطابق سر اٹھاتا ۔
اس کی دائمی سر درد کی شکایت دیکھ کر ڈاکٹروں نےاسےمائیگرین کا مریض قرار دیا ۔ مائیگرین جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ خود کو مائیگرین کا مریض قرار دئےجانےکےبعد اسےکم سےکم اس بات کا اطمینان تو ہوگیا کہ ا ب اسےدواو

¿ں کا استعمال کرنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ایک ایسےمرض میں مبتلا ہےجس پر دوائیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں ۔
اس نےاپنےاندر درد کی شدت کو برداشت کرنےکی قوت پیدا کی ۔ یہ سلسلہ برسوں تک چلتا رہا ۔ جب بھی اس کےسر میں درد اٹھتا وہ نہ تو اس کا علاج کرتا نہ کوئی دوا گولی لیتا ۔ چپ چاپ اس درد کو برداشت کرتا ۔ کچھ گھنٹوں کےبعد وہ درد خود بخود غائب ہوجاتا ۔ لیکن دھیرےدھیرےاسےپتہ چلا جب وہ شدید سر درد میں مبتلا ہوتا ہےتو کبھی کبھی بڑی عجیب حرکتیں کرنےلگتا ہے۔ جس کی وجہ سےلوگوں کو اس کےبارےمیں تشویش ہونےلگتی ہے۔
اس بارےمیں اسےاس کےدوستوں اور آفس کےلوگوں نےبتایا تھا کہ کئی کاغذات پرزہ پرزہ کرڈالےاور کورےکاغذات کو برےسلیقےسےفائلوں میں لگا کر رکھ دیا ۔ کئی اہم کاغذات پر بلا وجہ غیر ضروری اسٹامپ لگا کر اپنےدستخط کردئے۔ تو کبھی کبھی اخبارات اور آفس کےکاغذات پر گھنٹوں پتہ نہیں کیا اول فول ٹائپ کرتا رہا ۔
اس کی ان حرکتوں سےلوگوں نےاندازہ لگایا کہ اس پر عجیب قسم کےشیدد دورےپڑتےہیں ۔ دورےپڑنےکی شکایتیں اس سےکئی بار اس کےگھر والوں اور دوستوں نےکی تھیں ۔ دوروں کی حالت میں وہ چاول کو پانی کی طرح پینےلگتا اور پانی کو روٹی کی طرح کھانےکی کوشش کرتا ۔ گھر کی چیزیں غلط مقامات پر رکھتا یا ان کا غلط استعمال کرتا ۔
ایک بار تو ان حرکتوں سےاس کی زندگی خطرےمیں پڑ گئی تھی ۔اس نےمٹی کا تیل اپنےجسم پر ڈال لیا اور پانی سمجھ کر مٹی کا تیل پی لیا ۔ معمول پر آنےکےبعد اسےاپنےدوروں کی تفصیل معلوم ہوتیں تو اس کےجسم میں خوف کی سرد لہریں دوڑنےلگتیں ۔آج اس کےساتھ کیا ہوجاتا ۔
اف ! وہ کس طرح کی زندگی گزارر ہا ہے۔ آخر ان دوروں سےمجبور ہوکر اسےڈاکٹر کی صلاح لینی پڑی ۔ ڈاکٹر نےاس کی پوری کیس ہسٹری سنی ‘ سر کا ایکسرےنکالا ۔ اچھی طرح چیک اپ کیا اور اس کےبعد اسےبتایا گیا ۔

 

” تمہارےدماغ میں ایک ٹیومر ہےاور اس کی وجہ سےتم اس طرح کی حرکتیں کرتےہو یا تمہارےساتھ ایسا ہوتا ہے۔ “ ڈاکٹر نےاسےبڑی تفصیل سےاس برین ٹیومر یا اس بیماری کےبارےمیں بتایا تھا ۔ اس کےسر میں درد اس لئےہوتا تھا کہ اس ٹیومر کی وجہ سےدماغ کےکچھ حصوں کو خون کی سپلائی رک جاتی تھا ۔
جیسےجیسےٹیومر بڑا ہونےلگا درد کی شدت بھی بڑھنےلگی ۔ اور اب صورت حال یہ ہےکہ جب دماغ کےبہت بڑےحصےکو خون کی سپلائی رک جاتی ہےتو دماغ اور جسم کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ اور وہ اس حالت میں اول جلول حرکتیں کرنےلگتا ہے۔
” اس کا کوئی علاج ہےڈاکٹر صاحب ؟ “
” اس کا تو بس ایک ہی علاج ہے۔ آپریشن کےذریعہ سر سےاس ٹیومر کو نکال دیا جائے۔ “ ” میں اس عذاب سےنجات پانےکےلئےآپریشن کرانےکےلئےبھی تیار ہوں ڈاکٹر صاحب ! “
” لیکن یہ آپریشن اتنا آسان نہیں ہےجتنا تم سمجھ رہےہو ۔ معاملہ دماغ کا ہےممکن ہےیہ آپریشن کامیاب نہ ہو اور اس آپریشن کےدرمیان تمہاری موت واقع ہوجائےیا یہ بھی ممکن ہےآپریشن کےدوران تمہارےدماغ کا کوئی حصہ متاثر ہوجائےاور تم زندگی بھر کےلئےاندھے‘ لنگڑے‘ لولےیا اپاہج بن جاو

¿ ۔ تمہاری آنکھوں کی بینائی کھو جائے۔ یا تمہاری قوتِ گویائی صلب ہو جائے۔ یہ بڑا پرخطرآپریشن ہوتا ہے۔ اگر آپریشن کےدوران دماغ کا کوئی بھی حصہ معمولی طور پر بھی متاثر ہوجائےتو وہ اپنا کام بند کردیتا ہےاور اس کےاثرات کیا ہوسکتےہیں میں تو بتا ہی چکا ہوں ۔
” نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب ! “ ڈاکٹر کی بات سن کر وہ کانپ اٹھا تھا ۔ ” میں مرنا نہیں چاہتا ۔ میں اندھا ‘ لنگڑا ‘ لولا ہوسکتا ہوں ۔ نہیں نہیں میں آپریشن نہیں کروں گا ۔ چاہےمجھےکتنا ہی درد کتنی ہی تکلیف سہنی پڑے۔ چاہےمجھےکتنےہی شدید دوروں کےعذاب سےگزرنا پڑے۔ اگر میرےدماغ کا ٹیومر پھٹ جاتا اور میری موت ہوجاتی ہےتو مجھےوہ موت منظور ہےکیونکہ وہ میری فطرتی موت ہوگی ۔ لیکن آپریشن کرکےنہ تو میں غیر فطری زندگی جینا چاہتا ہوں نہ غیر فطری موت مرنا چاہتا ہوں ۔ “
ڈاکٹر نےاسےبہت سمجھایا لیکن اس نےڈاکٹر کی ایک نہ مانی ۔ اس نےکسی کو نہیں بتایا کہ اس کےدماغ میں ایک ٹیومر ہےاور اسی ٹیومر کی وجہ سےاس عذاب میں مبتلا ہے۔ اور ممکن ہےوہ ٹیومر ایک دن اس کی جان بھی لےلے۔ ظاہر سی بات تھی وہ گھر والوں یا دوستوں کو اپنی بیماری کےبارےمیں بتاتا تو وہ اس کی جان بچانےکےلئےاسےزندہ دیکھنےکےلئےاس پر آپریشن کےلئےزور ڈالتے۔ اور آپریشن کا انجام کیا ہوسکتا ہےاسےعلم تھا ۔
اس لئےاس نےاپنی بھلائی اسی میں سمجھی کہ اپنےمرض کےبارےمیں کسی کو نہ بتایا جائی۔ اور اس طرح ہر طرح کےدباو

¿ سےآزاد رہ کر کچھ دنوں کی ہی سہی لیکن باقی بچی زندگی تو وہ چین سےگذار سکے۔ ا س کےبعد اس کےساتھ وہی ہوتا رہا جو پہلےہوتا آرہا تھا۔ کبھی کبھی درد کی شدت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ دیواروں سےاپنا سر ٹکراکر لہولہان کرلیتا تھا ۔ کبھی کبھی دورےکی حالت میں اس کےہاتھوں سےایسےکام سرزد ہوجاتےتھےجن کےنقصان کی تلافی وہ مہینوں تک نہیں کرپاتا تھا ۔ اسےآفس سےکئی میمو مل چکےتھے۔ کیونکہ وہ دورےکی صورت میں آفس کےکئی ضروری کاغذات پھاڑ چکا تھا ۔
ایک بار اس کےباس نےاس کےدوروں سےعاجز آکر اسےمیمو دےدیا کہ وہ پندرہ دن کےاندر اپنا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرےورنہ اسےملازمت سےبرطرف کردیا جائےگا ۔ ملازمت سےبرطرفی کےتصور سےہی وہ کانپ اٹھا ۔ اگر اسےنوکری سےنکال دیا گیا تو وہ کیا کرےگا ‘ کون اسےنوکری دےگا ‘ ایسی حالت میں کیا وہ کوئی دوسرا کام کرپائےگا ‘ اس کےگھر والوں اور بیوی بچوں کا گذر کس طرح ہوگا ۔ مجبوراً اسےاپنی نوکری بچانےکےلئےایک ڈاکٹر کو رشوت دےکر اپنی فٹنیس کا جھوٹا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑا ۔ تب سےوہ بہت ڈرتا تھا ۔اور رات دن خدا سےدعا کرتا تھا کہ کم سےکم اپنےآفس میں دورہ نہ پڑے۔ اگر پڑےبھی تو اس کےہاتھوں کوئی ایسا کام نہ ہو جس سےاس کی ملازمت پر آنچ آئے۔ لیکن یہ اس کےبس میں کہاں تھا ۔ اگر یہی بات اس کےبس میں ہوتی تو اس کےلئےکوئی مسئلہ ہی نہیں تھا ۔
کئی بار ایسا ہوا کہ دورےکی حالت میں بھٹکتا وہ پتہ نہیں کہا سےکہاں پہونچ گیا یا کسی سواری سےٹکرا کر سخت زخمی ہوگیا ۔ دورےکی حالت میں اس کا سامان کہاں گر گیا یا کسی نےچرا لیا ؟ اسےعلم نہیں ہوسکا ۔ وہ گھر سےنکلتا تو اسےمحسوس ہوتا ابھی اس کےسر کا ٹیومر پھٹ جائےگا اور ابھی اس کی موت واقع ہوجائےگی ۔ اس کی لاش لاوارث لاش کی طرح سڑک پر بےگور و کفن پڑی رہےگی ۔ گھر والوں کو اس کی موت کی خبر بھی نہیں مل پائےگی ۔
آفس میں ہوتا تو کام کرتےکرتےبار بار اسےمحسوس ہوتا کہ اس کا ٹیومر ابھی پھٹ پڑےگا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائےگا ۔ رات میں جب وہ سونےکےلئےلیٹتا تو ہر رات اسےمحسوس ہوتا یہ اس کی زندگی کی آخری رات ہے۔ رات کےکسی پہر اس کےسر کا ٹیومر پھٹ جائےگا اور سویرےگھر والوں کو بستر پر اس کی لاش ملےگی ۔
پتہ نہیں اس کی زندگی ایک پل کی بھی باقی ہےیا پھر اسےاس عذاب میں ابھی برسوں جینا ہے۔ وہ ترشنکو بن کر زندگی اور موت کےدرمیان لٹکا ہوا تھا ۔ نہ اسےزندگی اپنےموہ سےآزاد کرپارہی تھی اور نہ موت اسےگلےلگا رہی تھی ۔ وہ بوجھل قدموں سےریلوےاسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا اچانک سر میں ہلکا ہلکا دردہونےلگا جس کی شدت بڑھتی جارہی تھی ۔ اس کےدل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں ۔ پھر درد پھر دورہ ۔ اوہ گاڈ ! ۔ وہ گھر واپس پہنچ پائےگا بھی یا نہیں ؟
اور سر پکڑ کروہ ایک جگہ بیٹھ گیا ۔




پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ( مہاراشٹر)

 


پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)

 

M.Mubin

Classic Plaza, Teen Batti

BHIWANDI_ 421302

Dist.Thane Maharashtra  India)

Mob:- 09372436628)  )

mmubin123@yahoo.com

 

 Urdu Hindi Writer M.Mubin 's Urdu Short  tStory  about common man's suffiring

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  Domain Name + 1GB Linux India Web Hosting in Rs.349