افسانہ

 عذاب کی ایک رات

از:۔ایم مبین



بیوی کےبری طرح جھنجوڑنےپر آنکھ کھلی ۔ وہی ہوا جو عام طور پر اس طرح اچانک بیدار کئےجانےپر ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں ۔ سانسیں اپنی پوری رفتار سےچلنےلگیں اور زبان پر ریت کا صحرا اور حلق میں کانٹوں کا جنگل ابھر آیا ۔
” کیا ہے؟ “ بڑی مشکل سےہونٹوں سےآواز نکلی اور اپنےہونٹوں پر زبان پھیر کر زبان کو تر کرنےکی کوشش کرنےلگا ۔
” باہر پولس آئی ہے۔ “ بیوی کلیجہ پکڑ کر بولی ۔
” پولس ؟ “ اس کی پیشانی پر بل پڑگئے۔ ” اتنی رات گئےاس علاقےمیں پولس کا کیا کام ؟ “
” سائرن کی آواز سن کر آنکھ کھل گئی ۔پھر سناٹےمیںایسا محسوس ہوا جیسےکئی گاڑیاں آکر رکیں ۔اور پھر بھاری بھرکم بوٹوں کی آواز گلی میں گونجنےلگی ۔ “ بیوی بتانےلگی ۔ ” پھر ماحول میں وہی پولس کےروایتی سوالات گرجنےلگے۔
” دروازہ کھولو ‘ کون ہو تم ‘ کہاں سےآئےہو اور کتنےدنوں سےیہاں رہ رہےہو ۔ “ ابھی بیوی کی بات پوری بھی نہیں ہو پائی تھی کہ دوبارہ گلی میں بھاری بھرکم قدموں کی آواز گونجی اور دروازہ کھٹکھٹایا جانےلگا ۔ اس کا دل دھڑک اٹھا ۔ وہ خوف زدہ نظروں سےدروازےکی طرف دیکھنےلگا۔ لیکن جب دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو اندازہ ہوا ان کا نہیں پڑوسی کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے۔
” دروازہ کھولو ورنہ ہم دروازہ توڑ دیں گے۔ “ ایک تیز آواز گونجی اور اس کےبعد دروازہ کھلنےاور پھر پڑوسی کی گھبرائی ہوئی آواز ۔
” کیا بات ہے‘ کون ہے؟ “
” دکھائی نہیں دیتا ‘ ہم پولس والےہیں ۔ “
” پولس ؟ “ صدیقی صاحب گھبرائےہوئےتھے۔ ” کیا بات ہےانسپکٹر صاحب ! اتنی رات گئےآپ نےمیرےگھر آنےکی زحمت کیوں کی ؟ “
” ہمیں تمہارےگھر کی تلاشی لینی ہے۔ “
” تلاشی اور میرےگھر کی ‘ مگر کیوں ؟ “
” ہمیں تمہارےگھر کی تلاشی لینی ہے۔ “
” لیکن میرےگھر کی تلاشی کیوں لی جارہی ہے؟ “
” صرف تمہاری ہی نہیں پورےعلاقےکےہر گھر کی تلاشی کی جارہی ہےاور ہمارےاس مشن کا نام ہےکومبنگ آپریشن ۔ “
” لیکن ہمارےاس علاقےمیں آپ کو کومبنگ کرنےکی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ “
” اس لئےکہ ہمیں پتہ چلا ہےکہ اس علاقےمیں غیر قانونی کام ہوتےہیں ۔ اور یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ ہے۔ اس پورےعلاقےمیں بنگلہ دیشی اور آئی ۔ ایس ۔ آئی کےایجنٹ پھیلےاور چھپےہوئےہیں ۔ “
” لیکن ہمارا ان تمام باتوں سےکوئی تعلق نہیں ہےہم نوکری پیشہ شریف لوگ ہیں ؟ “
” شریف لوگ ہیں ‘ نوکری پیشہ لوگ ہیں اور جھونپڑپٹی میں رہتےہو ؟ “
” شریف اور نوکری پیشہ لوگوں کا جھونپڑپٹی میں رہنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ “
” اے! زیادہ بک بک مت کر ہم کو اپنا کام کرنےدے۔ ہم کو قانون مت سکھا ‘ کیا؟ زیادہ ہوشیاری کی تو اٹھا کر پٹخ دوں گا سالا خود کو شریف آدمی بتاتا ہے۔ اے! اس کےگھر کی اچھی طرح سےتلاشی لو ۔ اگر کوئی بھی چیز ملےتو اسےبتانا کہ شرافت کیا ہی؟ پولس کےکاموں میں ٹانگ اڑاتا ہے۔ اس کےبعد صدیقی صاحب کی آواز نہیں سنائی دی لیکن گھر کےایک ایک سامان کو الٹ پلٹ کرنے‘ گرانےاور پھینکےکی آوازیں ضرور ابھرنےلگیں ۔
” صاحب ! دیکھئےکتنا بڑا چھرا ہے۔ “
” یہ گوشت کاٹنےکا چھرا ہے۔ “ صدیقی صاحب کی آواز ابھری ۔
” یہ گوشت کاٹنےکا چھرا ہےیا مرڈر کرنےکا ابھی معلوم ہوجائےگا۔ حولدار اسےہتھکڑی ڈال کر لےچلو ۔ “ انسپکٹر کی آواز ابھری ۔ ” نہیں نہیں ! “ صدیقی صاحب کی بیوی کی آواز ابھری ۔ ” میرےشوہر کو کہاں لےجارہےہو ‘ نہیں میں اپنےشوہر کو بنا کسی وجہ تمہیں اپنےگھر سےلےجانےنہیں دوں گی ۔ “
” اےبائی ! بازو سرک ‘ ہمارےکام میں دخل دینےکی کوشش مت کر ورنہ بہت بھاری پڑےگا ۔ “ ایک گرجدار آواز ابھری ۔
” انسپکٹر صاحب ! میں سچ کہتا ہوں آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے۔ میں ایک شریف نوکری پیشہ آدمی ہوں ۔ “ صدیقی صاحب کی آواز ابھری ۔
” صاب بنگالی کتابیں ۔ “ ایک آواز ابھری ۔
” یہ دیکھئے! کئی بنگالی کتابیں ہیں ۔ “
” تو یہ آدمی ضرور بنگلہ دیشی ہوگا ۔ “
” بنگلہ دیشی میں ہندوستانی ہوں ۔ “
” اگر ہندوستانی ہو تو پھر یہ بنگلہ زبان کی کتابیں تمہارےپاس کہاں سےآئیں؟“
” مجھےبنگلہ ادب سےدلچسپی ہے۔ اس لئےبنگلہ زبان کی کتابیں پڑھتا ہوں ۔ “
” وہ سب پولس اسٹیشن میں ثابت کرنا کہ تم بنگلہ دیشی ہو یا ہندوستانی ۔ “ اس کےبعد صدیقی صاحب کو شاید دھکےدیکر کمرےسےباہر لےجایا گیا تھا ۔ ان کی بیوی کی داد فریاد کی آوازیں ‘ ڈانٹوں اور گالیوں کےشور میں دب کر رہ گئی تھیں ۔ اس کےبعد ان کی باری تھی دروازہ زور سےپیٹا جانےلگا ۔
” کون ؟ “ دھڑکتےدل کو تھام کر بڑی مشکل سےوہ کہہ سکا ۔
” پولس ! دروازہ کھولو ۔ ہم تمہارےگھر کی تلاشی لینا چاہتےہیں ۔ “ باہر سےایک گرجدار آواز ابھری ۔ اس نےبنا کوئی پس و پیش کےدروازہ کھول دیا ۔ سات آٹھ پولس کےسپاہی اور ایک انسپکٹر دھڑدھڑاتےہوئےکمرےمیں گھس آئےاور تیز نظروں سےکمرےکی ایک ایک چیز کا جائزہ لینےلگے۔ اس کےبعد وہ بڑی تیزی سےکمرےکےایک ایک گوشےکی طرف لپکےاور وہاں کی چیزیں اور سامان بڑی بےدردی سےنیچےاوپر کرنےاور پٹخنےلگے۔ بیوی خوف سےتھر تھر کانپتی اس کےسینےسےآلگی ۔
” کیا نام ہےتمہارا ؟ “ انسپکٹر نےکڑک کر پوچھا ۔
” اسرار احمد ۔ “
” معلوم ہے۔ ایسی جگہ اسرار احمد نہیں تو کیا سچن کھیڈیکر رہےگا ۔ کیا کام کرتےہو ؟ “
” ایک سرکاری دفتر میں نوکری کرتا ہوں ۔ “
” سرکاری دفتر میں نوکری کرتےہو ۔ “ انسپکٹر حیرت سےاسےدیکھنےلگا ۔
” اور یہاں رہتےہو ؟ “ ” صاب ضرور اس کا تعلق آئی ایس آئی سےہوگا ۔ یہ لوگ سرکاری دفتروں میں کام کرتےہیں اور دیش سےغداری کرتےہوئےجاسوسی کرتےہیں دیش کےراز بیچتےہیں ۔ “ ایسا محسوس ہوا جیسےجسم کی ساری طاقت دائیں ہاتھ میں جمع ہوگئی ہے۔ اور وہ ہاتھ مکّہ کی شکل میں اس حولدار کےمنہ پر پڑنےکےلئےبےتاب ہے۔ اس نےبڑی مشکل سےخود پر قابو پایا اور آگےبڑھ کر اپنی پتلون کی جیب سےاپنےدفتر کا کارڈ نکالا اور انسپکٹر کی طرف بڑھا دیا ۔
” اوہ ! تو منترالیہ میں ہو ؟ “ انسپکٹر نےکارڈ دیکھتےہوئےکہا ۔ ” ٹھیک ہےہم نےاپنا کام کرلیا ہے۔ اے! چلو باہر نکلو ۔ “ اس نےدوسرےسپاہیوں کو حکم دیا اور سب کمرےسےباہر نکل گئے۔ سارا گھر کباڑخانہ بن گیا تھا ۔ وہ اور بیوی بےبسی سےاپنےگھر کےبےترتیب سامان کو دیکھنےلگے پھر بیوی ایک ایک سامان کو اٹھاکر اپنی جگہ رکھنےلگی ۔ اس کےبعد ان کےپڑوس کےکمرےپر حملہ ہوا تھا ۔ اصغر نشےمیں دھت تھا ۔ بیدار کرنےپر وہ پولس سےالجھ گیا ۔ ” سالا ! تم پولس والےاپنےآپ کو کیا خدا سمجھتےہو ۔ کبھی بھی شریف لوگوں کےگھروں میں بےدھڑک گھس آتےہو ۔ ان کی میٹھی نیند خراب کرتےہو ۔ چلےجاو

¿ نہیں تو ایک ایک کو دیکھ لوں گا ۔ “
” سالےزیادہ چربی چڑھ گئی ہےشاید ‘ ٹھہرجا ! ابھی تیری چربی اتارتےہیں ۔ “ اور اس کےبعد ڈنڈوں کےبرسنےکی آوازیں اور اصغر کی چیخیں فضا میں گونجنےلگیں ۔ ” بچاو

¿ ! بچاو

¿ ! نہیں ! نہیں ! مجھےمت مارو ۔ “ اس کی چیخوں میں اس کےگھر والوں ، بیوی اور بچوں کی چیخیں بھی شامل تھیں ۔ اس کےبعد اصغر کو کھینچتےہوئےباہر لےجایا گیا تھا ۔ اس عذاب کا سلسلہ چال کےدوسرےکمروں پر بھی طاری رہا ۔
” یا خدا ! ہم لوگوں کا یہ حال ہےتو بستی کےدوسرےلوگوں کا کیا حال ہوگا ۔ “ بڑبڑاتےہوئےاس نےسوچا ۔ وہ بستی جھونپڑ پٹی ضرور تھی لیکن اتنی بدنام نہیں تھی ۔ جتنی عام طور پر دوسری جھونپڑپٹیاں ہوتی ہیں ۔ وہاں اکا دکا جرائم ہوتےتھےاور وہاں جرائم پیشہ افراد کی تعداد بہت کم تھی ۔ اس بستی کےدرمیان میں وہ ایک چھوٹی سی چال تھی ۔ آٹھ

 

دس کمروں پہ مشتمل ۔پہلےوہ بستی نہیں تھی صرف وہی چال تھی ۔ جہاں اس کےجیسےنوکری پیشہ آکر بس گئےتھی۔ جو اپنی ساکھ کےمطابق شہر کےپاش علاقےمیں گھر ، مکان لینےسےقاصر تھے۔ اپنےپاس جمع معمولی سی رقم کو ڈپازٹ کےطور پر دینےکےبعد انہیں اسی چال میں کمرہ ملا تھا ۔ اس کےبعد زندگی بھر کی کمائی پیٹ کی آگ ‘ زندگی کےمسائل ‘ اولاد کی پرورش اور تعلیم کی نذر ہوگئی تھی ۔ اس چال سےباہر نکلنےکا موقع ہی نہیں مل سکا ۔ اور چال کےارد گرد مشروم کی طرح جھونپڑپٹی بڑھتی اور بستی گئی ۔ جھونپڑپٹی میں ان کی طرح اچھےشریف اور مصیبت کےمارےلوگ بھی تھے۔ جو سر چھپانےکےلئےوہاں آباد ہوئےتھےتو سر پھرے، جاہل ، اجڈ اور گنوار بھی تھی۔ ایسےلوگوں کو اس طرح کےعذاب بھی سہنےپڑتےہیں ۔
” اسرار بھائی ! اسرار بھائی ! کچھ کیجئے‘ پولس انہیں زبردستی پکڑ کر لےگئی ہی۔“صدیقی صاحب کی بیوی روتی ہوئی اس کےپاس آئی ۔
” آپ حوصلہ رکھئےبھابی ! کچھ نہیں ہوگا میں دیکھتا ہوں ۔ “ اس نےصدیقی صاحب کی بیوی کو تسلی دی اور پھر بیوی سےبولا ۔ ” شکیلہ ! تم اپنا خیال رکھنا میں ابھی آیا ۔

” آپ کہاں جارہےہیں ؟ مجھےبہت ڈر لگ رہا ہے۔ “ بیوی بولی ۔
” ڈرنےکی کوئی بات نہیں ہے۔ تم صدیقی صاحب کےگھر چلی جاو

¿ ۔ “ یہ کہہ کر باہر آیا تو شاید عذاب ختم ہوچکا تھا ۔ پولس کی گاڑیاں جاچکی تھیں ۔ چال اور آس پاس کےعلاقےکےدس بارہ لوگوں کو گرفتار کرکےپولس اسٹیشن لےجایا جاچکا تھا ۔ جو بچ گئےتھےآپس میں صلاح و مشورہ کررہےتھےکہ جن کو پولس پکڑ کر لےگئی ہےانہیں کس طرح واپس لایا جائے۔ اصغر تو شراب کےنشےمیں دھت تھا اور بلاوجہ پولس سےالجھ گیا تھا اسےتو پولس چھوڑنےسےرہی ۔ ان کےلئےاس کا نشہ میں ہونا ہی کافی تھا ۔ لیکن صدیقی صاحب کو خواہ مخواہ پولس اسٹیشن لےجایا گیا ۔ ان کی بیوی کی حالت غیر ہے۔ وہ میرےپیروں پر گر کر التجا کررہی تھی کہ صدیقی صاحب کو واپس لایا جائے۔ پڑوسی ایک جگہ جمع ہوکر باتیں کررہےتھے۔ ” ٹھیک ہے! چلو پولس اسٹیشن چل کر دیکھتےہیں اور انسپکٹر کو سمجھانےکی کوشش کرتےہیں کہ صدیقی صاحب شریف آدمی ہیں ۔ ان کا تعلق ایسےکسی آدمی سےنہیں ہے۔ جس کی تلاش میں انہوں نےیہ عذاب اس بستی پر ڈھایا تھا ۔ وہ بولا تو سب اس کےساتھ پولس اسٹیشن جانےکےلئےراضی ہوگئے۔
پولس اسٹیشن میں لوگوں کی بھیڑ تھی ۔ کچھ تو وہ لوگ تھےجو اس آپریشن کےتحت پکڑ کر لائےگئےتھے۔ کچھ ان کو چھڑانےکےلئےآئےتھے۔ پولس بڑی سختی سےپیش آرہی تھی ۔ کسی کو پولس اسٹیشن میں قدم رکھنےکی اجازت نہیں تھی ۔ ” جاو

¿ سویرےآنا ۔ سویرےتک یہ لوگ یہاں رہیں گے۔ سویرےان کےبارےمیں سوچیں گےکہ ان کا کیا کیا جائے۔ “ اس نےاپنا کارڈ بتایا تو اسےاندر جانےکی اجازت دی گئی ۔ اس نےانسپکٹر سےصدیقی صاحب کےبارےمیں بات کی ۔
” انسپکٹر صاحب ! صدیقی صاحب کو میں گذشتہ دس سالوں سےجانتا ہوں ۔ ان کا تعلق جرائم پیشہ ، دہشت گرد یا ملک دشمن لوگوں سےنہیں ہے۔ وہ ایک شریف نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ایک پرائیویٹ فرم میں اکاو

¿نٹنٹ ہیں ۔ “
” کیا بات کرتےہو اسرار صاحب ! ان کےگھر سےہمیں چھرا اور بنگلہ کتابیں ملی ہیں ۔ مکمل تحقیقات کیبعدہی انہیں چھوڑ سکتےہیں ۔ “ انسپکٹر نےصاف کہہ دیا ۔
” اسرار بھائی ! مجھےیہاں سےکسی طرح لےچلو اگر میں سویرےتک یہاں رہ گیا تو یہاں میری جان نکل جائےگی ‘ وہاں میری بیوی کی ۔ میں اپنےمالک کا فون نمبر دیتا ہوں ان سےاس سلسلےمیں بات کرلیجئے۔ “ کہتےہوئےانہوں نےایک فون نمبر دیا تو وہ اس کو لےکر باہر آیا اور ایک پبلک ٹیلی فون بوتھ سےاس نمبر پر فون لگانےکی کوشش کرنےلگا ۔
” ہیلو ! “ تین چار بار کوشش کرنےپر ایک نیند میں ڈوبی آواز ابھری ۔
” ملہوترہ صاحب ! صدیقی صاحب جو آپ کی آفس میں کام کرتےہیں ۔ میں ان کا پڑوسی بول رہا ہوں ۔ ان کو آپریشن کومبنگ کےدوران پولس پکڑ کر لےگئی ہےاور ان پر بنگلہ دیشی ، جرائم پیشہ اور وطن دشمن ہونےکا شک کر رہی ہے۔ آپ پولس اسٹیشن فون کرکےصدیقی صاحب کےبارےمیں کچھ کہہ دیں تو ہمیں صدیقی صاحب کو چھڑانےمیں مدد ملےگی ۔ “
” صدیقی صاحب اور بنگلہ دیشی ، جرائم پیشہ اور ملک دشمن ؟ نا ن سنس ۔ ان لوگوں نےتو شریف لوگوں کا جینا مشکل کررکھا ہے۔ بھئی میرےفون سےکچھ نہیں ہوگا ۔ میرا ایک دوست وزارتِ داخلہ میں کام کرتا ہے۔ اس سےفون کرواتا ہوں تب ہی کچھ کام بنےگا ۔ “
” آپ فون ضرور کروائیے۔ ورنہ صدیقی صاحب کو رات بھر ! “
” تم فکر مت کرو صدیقی مجھےبہت عزیز ہے۔ “ ملہوترہ صاحب نےاس کی بات کاٹ کر کہا اور فون بند کردیا ۔ وہ پولس اسٹیشن آیا اور صدیقی صاحب کو تسلی دینےلگا ۔ کہ ملہوترہ صاحب وزارتِ داخلہ کےکسی آدمی سےفون کروانےوالےہیں اور پولس انہیں چھوڑ دےگی۔ پولس اسٹیشن میں ہاتھوں ، گالیوں اور لاتوں سےایک ایک آدمی کی باز پرس جاری تھی ۔ وقت چیونٹی کی رفتار سےرینگ رہا تھا ۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی تو انسپکٹر نےفون اٹھایا ۔
” کولی واڑہ پولس اسٹیشن میں انسپکٹر سانے۔ اچھا صاحب ! اچھا صاحب ۔ وہ بس یوں ہی شک کی بنا پر پوچھ تاچھ کےلئےیہاں لائےہیں ۔ چھوڑ رہےہیں ۔ “ فون رکھ کر وہ قہر آلود نظروں سےسامنےبیٹھےلوگوں کو گھورنےلگا ۔ ” صدیقی کون ہے؟ “

” میں ہوں ۔ “ صدیقی صاحب نےڈرتےڈرتےکہا ۔ ” تو پہلےصاف صاف کیوں نہیں بتایا کہ وائی کر صاحب کو پہچانتےہو ؟جاو

¿ اپنےگھر جاو

¿ ۔ “
سب جب صدیقی صاحب کےساتھ پولس اسٹیشن سےباہر آئےتو پو پھٹ رہی تھی اور ایسا محسوس ہورہا تھا جیسےعذاب کی ایک رات ختم ہوگئی ہے۔

پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ( مہاراشٹر)
 

 


پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)
 

M.Mubin

Classic Plaza, Teen Batti

BHIWANDI_ 421302

Dist.Thane Maharashtra  India)

Mob:- 09372436628)  )

mmubin123@yahoo.com

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  Domain Name + 1GB Linux India Web Hosting in Rs.349