
افسانہ
اکیلا
از:۔ایم مبین
اچانک اسےمحسوس ہوا کہ وہ جنگل میں بالکل تنہا ہے۔ اس بات کا احساس ہوتےہی وہ کانپ
اٹھا ۔ اس کےدل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں ۔ خوف کی لہریں اس کےجسم میں دوڑنےلگیں اور
ماتھےپر پسینےکی بوندیں ابھر آئیں ۔ آواز جیسےحلق میں گھٹ کر رہ گئی ۔
چاروں طرف دور دور تک پھیلا بھیانک جنگل اور اس پر چھایا پر ہول سناٹا اس کو کسی
اژدھےکی طرح جکڑنےکےلئےآگےبڑھ رہا تھا ۔
جنگل کا ایک ایک گوشہ اسےپر آسیب اور پر خطر محسوس ہونےلگا ۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ سب اچانک کس طرح ہوگیا ؟
وہ اچانک جنگل میں کس طرح رہ گیا ہے؟
باوجود لاکھ کوشش کےوہ پتہ نہیں لگا سکا کہ وہ کب اور کیوں تنہا ہوا ۔ جہاں تک
اسےیاد تھا وہ جنگل میں اکیلا نہیں تھا وہ تو کئی لوگوں میں گھرا ہوا تھا ۔ وہ سب
ایک جگہ ساتھ بیٹھتےتھےآپس میں ہنسی مذاق کرتےتھےایک دوسرےکےدکھ درد اور تنہائیاں
بانٹتےتھے۔ کسی کو کبھی محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ جنگل میں تنہا ہیں ان کےگھر
بھی اطراف ہی میں تھےاور ایک طرح سےاس جنگل میں اس جگہ ایک اچھی خاصی بستی آباد تھی
جس میں زندگی کی گہما گہمی تھی ۔ لیکن اسےیاد نہیں آرہا تھا وہ تمام اچانک کہاں اور
کیسےاسےاس جگہ تنہا چھوڑ کر چلےگئےہیں اور تو اور جاتےوقت اپنےساتھ اپنےگھر اور
اپنی ہر چیز بھی اس خوبی سےلےکر چلےگئےہیں کہ اس بات کا پتہ ہی نہیں چل سکا ۔
اچانک ہوا کےچلنےسےجنگل میں ایک خوفناک آواز گونجنےلگی اور اس آواز کو سن کر اس کا
دل کسی خشک پتےکی طرح لرزنےلگا ۔
” تم سب کہاں ہو ؟ “جب اس سےبرداشت نہیں ہو سکا تو وہ چیخ اٹھا ۔
” تم لوگ مجھےاکیلا چھوڑ کر کہاں چلےگئےہو ؟ مجھےیہاں بہت ڈر لگ رہا ہے۔ “
لیکن اس کی آواز جنگل کےپرہول سناٹےمیں گونج کر رہ گئی وہ لاکھ اپنی صدا کےجواب میں
جوابی صدا کےلئےبےچین رہا ۔ لیکن اس کی آواز کسی گنبد میں گونجنےوالی صدائےبازگشت
بن کر رہ گئی اور اس جنگل میں گونجتی رہی ۔
وہ گونج لمحہ بہ لمحہ تیز سےتیز تر ہوتی گئی اور آخر میں اتنی خوفناک ہوگئی کہ
اسےاپنےکانوں کےپردےپھٹتےمحسوس ہونےلگے۔ گھبرا کر اس آواز کی اذ
´ت سےبچنےکےلئےاس نےاپنےکانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں ۔
اچانک ایک نیزا ہوا میں لہراتا ہوا آیا اور اس سےچند قدموں کےفاصلےپر آکر زمین میں
پیوست ہوگیا ۔ خوف سےاس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور سارا جسم پسینےمیں بھیگ گیا۔
اسےمحسوس ہوا کہ یہ پہلا اور آخری نیزا نہیں ہےوہ چاروں طرف سےنیزوں کےدرمیان گھرا
ہوا ہے۔ وہ نیزےاس کےاطراف چھپےہوئےہیں ۔
اچانک اس پر نیزوں کی برسات سی ہونےلگی ۔ نیزوں کی نوکیں آکر اس کےجسم سےٹکرائیں گی
اور اس کا جسم لہوہان ہوکر اپنی روح کو کھودےگا ۔ وہ اچھی طرح دیکھ رہا تھا اس
کےچاروں طرف ہزاروں نیزےتنےہوئےہیں ۔ وقفہ وقفہ سےوہ نیزےاس کےقریب آ آ کر گر
رہےتھے۔ کبھی کبھی کوئی نیزہ آکر اس کےجسم سےبھی ٹکرا جاتا اور اس کےجسم کو گھائل
کردیتا ۔ یہ کیسا عذاب ہےاس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔ پہلےتو اس نےاس جگہ کبھی
نیزوں کو نہیں دیکھا تھا پہلےتو اس پر کبھی اس طرح نیزوں سےحملہ نہیں ہوا تھا وہ
آٹھ سالوں سےوہاں رہ رہا تھا ۔
اچانک اسےاپنےقریب لکڑی کا ایک ٹکڑا نظر آیا ۔ اس نےلکڑی کا وہ ٹکڑا اٹھا لیا اور
اس سےڈھال کا کام لینےلگا ۔ جیسےہی ہوا میں سرسراتا ہوا کوئی نیزہ اس کےجسم کو
چھونےکےلئےآگےبڑھتا وہ اس لکڑی کےٹکڑےسےاسےروک لیتا تھا ۔ وہ نیزہ رک جاتا تھا لیکن
یہ بڑا مشکل کام تھا ۔ کیونکہ کبھی کبھی نیزےلکڑی کےٹکڑےمیں دھنس کر اس کےہاتھوں کو
گھائل کردیتےتھے۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا ان نیزوں سےاس پر کون اور کیوں حملہ کر رہا ہی؟ حملہ
آور اسےدکھائی نہیں دےرہےتھے۔
اچانک اسےایک پیڑ کی آڑ میں ایک سایہ نظر آیا اس کےہاتھ میں نیزہ تھا اس کی طرف
پھینکنےکےلئےجیسےہی اس نےنیزہ تانا اس نےاس کےسائےکو اچھی طرح دیکھ لیا ۔ اسےوہ شکل
و صورت کچھ شناسا سی لگی ۔ تھوڑا یاد کرنےپر اسےیاد آیا کہ یہ وہی شخص ہےجو کچھ
لمحوں پہلےاس کےساتھ تھا جب وہ تنہا نہیں تھا ۔ اسےبڑی حیرانی ہوئی ۔ کچھ لمحوں قبل
تک کا کا اس کا مونس و غمخوار اس کا وہ دوست اس کی جان کےدرپےکیوں ہوگیا ہے؟ اس پر
نیزےسےحملہ کیوں کررہا ہے؟ اس نےگھبرا کر چاروں طرف دیکھا تو اسےکچھ نظر نہیں آیا ۔
لیکن اسےمحسوس ہوا چاروں طرف درختوں کی آڑ میں اس پر حملہ کرنےکےلئےنیزےتانےوہی لوگ
چھپےہوئےہیں جو کچھ لمحوں قبل تک اس کےساتھ تھے۔
” تم ! تم لوگوں کو میں پہچان گیا ہوں ۔ تم مجھ پر حملہ کرکےمیری جان کیوں لینا
چاہتےہو؟“ وہ چیخ اٹھا ۔
” میں تمہارا دشمن نہیں ہوں ۔ تم بھی میرےدوست ہو ۔ کچھ دیر قبل تک ہم ساتھ ساتھ
رہتےتھےاور ایک دوسرےکےمونس و غمخوار تھے۔ اس کی اس بات کو سن کر کئی چہرےدرختوں کی
اوٹ سےباہر آئےوہ تمام چہرےاس کےشناسا تھے۔ لیکن اس وقت ان کےچہروں پر اس
کےلئےدشمنی کےجذبےمچل رہےتھے۔ ان کےہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں اس
کےلئےنفرت کا جذبہ تھا ۔
” تم لوگ میرےساتھی ہو ۔ پھر میری جان کیوں لینا چاہتےہو ؟ “ اس نےان سےپوچھا ۔
جواباً کئی نیزےاس کےجسم سےٹکرانےکےلئےآگےبڑھےاور وہ تمام چہرےپھر درختوں کی اوٹ
میں چھپ گئے۔ اس نےجلدی سےخود کا بچاو
¿ کیا اور چیخ اٹھا ۔
بچاو
¿ ! بچاو
¿ ۔ میں مصیبت میں ہوں یہ لوگ جو کل تک میرےدوست تھےآج میری جان کےدرپےہیں مجھےمار ڈالنا چاہتےہیں ۔ بچاو
¿ میں سخت مصیبت میں ہوں ۔ “
” ہمیں پتہ ہےتم سخت مصیبت میں ہو ۔ “ اسےدور سےایک شناسا آواز آتی محسوس ہوئی۔
اسےیاد آیا کہ یہ آواز بھی ان لوگوں میں سےکسی کی ہےجو کچھ لمحوں قبل اس کےساتھ
تھے۔ ” پھر تم میری مدد کےلئےکیوں نہیں آرہےہو ؟ “ اس نےپوچھا ۔ ” ہم تم سےاتنی دور
ہیں کہ چاہ کر بھی تمہاری مدد کےلئےنہیں آسکتےہیں ۔ ہمیں علم ہےتم کن مصیبتوں میں
گھرےہوئےہو اور آئندہ تم پر کیا کیا مصیبتیں آنےوالی ہیں ۔ ہم جس جگہ ہیں وہاں ہمیں
کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم نےانہیں خطروں خدشوں کی وجہ سےوہ جگہ چھوڑ دی ۔ “
” جب تمہیں علم تھا کہ اس جگہ رہنےمیں ہمیں خطرہ ہےاور انہی خطروں سےبچنےکےلئےتم
یہاں سےچلےگئےہو ۔ تو تم نےمجھےبھی ساتھ کیوں نہیں لیا ‘ تم نےمجھےآنےوالےخطروں
سےآگاہ کیوں نہیں کیا ؟ “
” تم بھول رہےہو ۔ ہم نےتمہیں ان خطروں سےآگاہ کرتےہوئےاس جگہ کو چھوڑ دینےکا مشورہ
دیا تھا لیکن تم نےہمارا مذاق اڑایا تھا اور یہ دلیل پیش کی تھی کہ اس جگہ کوئی
خطرہ نہیں ہےخطرہ اس جگہ زیادہ ہےجہاں ہم خطروں سےبچنےکےلئےجارہےہیں ۔ خطرےیہاں بھی
ہیں لیکن اس جگہ سےکم جہاں اس وقت تم ہو ۔ “ دور سےآواز آئی ‘ اس آواز کو سن کر
اسےیاد آیا کبھی اس سلسلےمیں ان کی گفتگو ہوئی تھی لیکن اس نےان خدشوں کو یکسر
بےبنیاد کہہ کر نظر انداز کردیا تھا ۔
” اب تم ہی بتاو
¿ میں کیا کروں ؟ “ اس نےپوچھا ۔
لیکن اسےکوئی جواب نہیں ملا اس نےپھر دہرایا ۔ اس جگہ وہ بالک اکیلا ہےاور خطروں
میں گھرا ہوا ہےان خطروں سےبچنےکےلئےاسےکچھ نہ کچھ کرنا چاہیئے۔ جو لوگ اس کی جان
کےدرپےہیں اسےان سےہی پوچھنا چاہیئےکہ وہ اس کی جان کےدرپےکیوں ہوگئےاور کیا
چاہتےہیں ؟
” سنو میری جان کےدشمنو ! میں تم سےپوچھ رہا ہوں ۔ تم جو کچھ لمحوں قبل تک میرےرفیق
تھےاب میرےرقیب کیوں بن گئےہو ؟ تم میری جان کیوں لینا چاہتےہو؟“ ” ہم چاہتےہیں جس
طرح تمہارےدوسرےساتھی اس جگہ کو چھوڑ کر چلےگئےہیں تم بھی چلےجاو
¿ ۔ “ درختوں کی اوٹ سےایک شناسا صورت ابھری ۔
” لیکن کیوں ؟ “
” کیونکہ یہ جگہ ہماری ہے۔ “
” لیکن کچھ دیر قبل تو یہ جگہ کسی کی نہیں تھی ۔ یہ جگہ ہم سب کی تھی ۔ پھراب یہ
جگہ میری نہ ہوکر صرف تمہاری کیوں ہوگئی ہے؟ “
” جس لمحےتمہارےدوسرےساتھی اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلےگئےاور انہوں نےاس جگہ
کو اپنی جگہ کہہ کر جنگل کی تقسیم کردی اسی لمحےسےیہ جگہ ہماری اور صرف ہماری ہوگئی
ہے۔ اب تمہیں یہاں رہنےکا کوئی حق نہیں ہے۔ تم یہاں سےچلےجاو
¿ ۔ وہاں پر جہاں پر تمہارےدوسرےساتھی چلےگئےہیں “ ۔ ” لیکن تم
بھی تو میرےساتھی ہو ‘ کیا میں تمہارےساتھ نہیں رہ سکتا ہوں؟“
” تم ہمارےساتھ نہیں رہ سکتے‘ تمہارےساتھی وہ تھےجو اس جگہ کو چھوڑ کر چلےگئے۔ اگر
تم نےیہ جگہ نہیں چھوڑی تو ہم اسی طرح تم پر حملےکرتےرہیں گےاور تمہیں یہ جگہ
چھوڑنےکےلئےمجبور کردیں گے۔ یا پھر تمہاری جان لےلیں گے۔ “
” تم اتنےبدل کیوں گئےہو ؟ کسی کی جان لینےمیں بھی کوئی عار محسوس نہیں کررہےہو ‘
یہ تو وحشیوں کا کام ہے۔ “
” جنگل میں وحشی ہی رہتےہیں ۔ “
” تو مجھےیہ جگہ چھوڑ کر جانا ہی ہوگا ؟ “
” ہاں ! “
” ٹھیک ہےمیں اپنےساتھیوں سےکہتا ہوں کہ میں آرہا ہوں ساتھیو ! تم سچ کہتےہو یہاں
میرےلئےبہت خطرےہیں ۔ میں ان خطروں سےنجات پانےکےلئےتمہارےپاس آرہا ہوں ۔“
” نہیں ! “ دور سےآواز آئی ۔ ” تم یہاں نہیں آسکتےاب یہاں کسی کو آنےکی اجازت نہیں
ہے۔ اب ان خطروں سےنپٹنا ‘ وہاں رہنا یا نہ رہنا یا کہیں چلےجانا یہ تمہارا اپنا
مسئلہ ہے۔ اس مسئلےکو تم ہی نپٹو ۔ “
” یہ کیا مصیبت ہے۔ تم مجھےوہاں آنےنہیں دےرہےہو ۔ اور یہاں کےلوگ مجھےیہاں
رہنےنہیں دینا چاہےہیں ۔ میں کیا کروں ؟ “ اسےکوئی جواب نہیں ملا ۔ اس کی سمجھ میں
نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے؟ یہاں اسےخطرہ تھا ‘ لیکن کوئی ایسی جگہ بھی نہیں تھی
جہاں جانےکےبعد وہ محفوظ ہوجائےاور یہاں تو خطرہ بدستور قائم تھا ہی بلکہ اس میں
اضافہ بھی ہوتا جارہا تھا ۔ اچانک اسےاپنا گھر شعلوں میں گھرا ہوا نظر آیا ۔ وہ
تیزی سےاپنےگھر کی آگ بجھانےکےلئےدوڑا ۔ لیکن پوری کوشش کےباوجود وہ اپنےگھر کو
جلنےسےنہیں بچا سکا۔ اپنا ادھ جلا گھر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لیکن
پھر ایک عزم سےاس نےاپنےآنسو پونچھے۔ صرف گھر ہی جلا ہےناں ؟ گھر تو دوبارہ بھی بن
سکتا ہے۔ ابھی اس نےاپنا عزم پورا بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دلخراش چیخ نےاسےلرزا
دیا۔ اسےاپنا بیٹا لہو لہان نظر آیا ۔ اس کا سارا جسم نیزو سےبھرا ہوا تھا ۔ اس کی
آنکھیں بےجان تھیں ۔ بیٹےکی لاش دیکھ کر وہ چیخ اٹھا ۔ پتہ نہیں کتنی دیر تک وہ آہ
و زاری کرتا رہا ۔ پھر یہ سوچ کر بیٹےکو دفن کرنےکےلئےگڑھا کھودنےلگا ۔
” ایک دن انسان کےجسم کو اس کی روح کو چھوڑنا ہی ہے۔ کبھی جلدی کبھی دیر سے۔ شاید
یہ بھی میرےبیٹےکی روح کا میرےبیٹےکےجسم کو چھوڑنےکا ایک بہانہ ہو۔ “
” سنو ! “ اچانک وہ پوری قوت سےچیخ اٹھا ۔ ” تم یہ سوچ رہےہو کہ میں اکیلا اس جنگل
میں نہیں رہ سکتا ؟ مجھےمیری تنہائی کا احساس دلاو
¿گے‘ مجھ پر طرح طرح کی مصیبتیں اور ظلم و ستم ڈھاو
¿گےتو میں یہ جنگل چھوڑ کر چلا جاو
¿ں گا ۔ لیکن یہ تمہارا خام خیال ہے۔ میں یہاں رہتا آیا ہوں اور
میں یہیں رہوں گا ۔ مجھےبھی یہاں رہنےکا اتنا ہی حق ہےجتنا تم لوگوں کو ہے۔ میں یہ
جگہ نہیں چھور سکتا ۔ چاہےمجھےکتنا بھی اذیتیں مصیبتیں کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں “
۔
” تم سچ کہتےہو ! “ اچانک جنگل میں سینکڑوں آوازیں گونج اٹھیں ۔ ” تمہیں یہاں
رہنےکا اتنا ہی حق ہےجتنا اور لوگوں کو حاصل ہے۔ سچ مچ یہ تنہائی ، یہ ظلم و ستم ،
یہ مصیبتیں تمہیں گھبرا کر یہ جنگل چھوڑنےپر مجبور نہیں کر سکتیں ۔ ہم تمہاری
تنہائی بانٹیں گے۔ ہم تمہاری آنےوالی مصیبتوں سےرکشا کریں گے۔ کیونکہ
تمہارےجانےکےبعد ہم بھی یہاں اکیلےہو جائیں گے۔ ہم سب مل جل کر اس جنگل میں رہیں
گےاور ایک دوسرےکی تنہائی دور کریں گے۔
” نہیں یہ تم غلط کام کررہےہو “ ۔ اچانک دوسری سینکڑوں آوازیں جنگل میں گونجنےلگیں۔
” تم اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ اسےیہ جگہ چھوڑ کر جانا ہےاور ہر حال میں جانا ہے۔ ہم
اسےیہ جگہ چھوڑنےکےلئےمجبور کردیں گےیا اس کےوجود کو ہی اس جگہ سےکردیں گے۔ یہ
ناپاک وجود اس پوتر جگہ رہنےکےقابل ہی نہیں ہے“ ۔
” ناپاک تمہارےخیالات ہیں ۔ جو دوسروں کو ناپاک کہتےہو “ ۔جواباً ہزاروں آوازیں
ابھریں ۔ اور پھر دونوں طرف سےآوازیں ابھرنےلگیں ۔ آوازیں ایک بےہنگم کان
کےپردےپھاڑ دینےوالےشور میں تبدیل ہونےلگیں ۔ کبھی اپنی حمایت میں ابھرنےوالی
آوازیں سن کر اس کا دل خوشی سےجھوم اٹھتا اور سارےجسم میں ایک نیا عزم سرایت کرجاتا
۔ کبھی اپنی مخالفت میں اٹھنےوالی آوازیں سن کر اس کا وجود کسی خشک پتےکی طرح
لرزنےلگتا ۔ سارا جسم پسینےمیں تر ہوجاتا اور وجود میں خدشات کا لاوا سا
کھولنےلگتا۔ اور وہ گھبرا کر اپنےدونوں کانوں پر اپنےہاتھ رکھ دیتا ۔ اچانک
اسےمحسوس ہوا اس پر چاروں طرف سےتیروں کی بارش ہورہی ہی۔ وہ گھبرا گیا اور
اپنےہاتھوں میں پکڑی لکڑی سےڈھال کا کام لےکر خود کو ان نیزوں سےتیروں سےبچانےکی
کوشش کرنےلگا۔ لیکن اسےمحسوس ہونےلگا وہ زیادہ دیر تک خود کو بچا نہیں پائےگا ۔
تیروں اور نیزوں کی تعداد اتنی ہےکہ کبھی نہ کبھی تو وہ اس کےوجود میں پیوست ہو کر
اس کی روح کو جسم کی قید سےآزاد کردیں گے۔
اس کےلئےزیادہ دیر تک اپنا بچاو
¿ کرنا ممکن ہی نہیں تھا ۔ لیکن اچانک اسےمحسوس ہوا ایک نظر نہ آنےوالی قوت بھی ہےجو اس کےساتھ ہےاور اس کا بچاو
¿ کررہی ہے۔ ورنہ ابھی تک تو یہ نیزےاور تیر کب کےاسےختم
کرچکےہوتے۔ اس احساس نےاس کےاندر ایک نئی روح پھونک دی کہ وہ تنہا نہیں ہی۔ کوئی
اور قوت بھی اس کےساتھ ہے۔ اور وہ ایک نئےجوش سےخود کی حفاظت کرنےلگا ۔
پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ (مہاراشٹر)
پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتتی
بھیونڈی ٢٠٣ ١٢٤
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)
M.Mubin
Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI_ 421302
Dist.Thane Maharashtra India)
Mob:- 09372436628) )
Domain Name + 1GB Linux India Web Hosting in Rs.349